قوموں کے عروج و زال میں درہم و دینار کا کرداراز مولانا امداد الحق شیوہ سے بعض اقتباسات تفصیل کے لیے کتاب ڈاون لوڈ کریں۔
خواہش پرستی نفس پرستی ، دنیا پرستی ،اور ابلیس کے ایجنڈے پر چلنا ۔ یہ چاروں میرے دشمن ہیں ملاعلی قاری لکھتے ہیں: ’ دنیا‘ سانپ کی طرح ہے جو اس کا دم جانے اسکو ہاتھ لگانا درست ہے در نہ نہیں ۔ اسی نقشبندی عالم سے پوچھا گیا کہ اس کا دم کیا ہے فرمایا یہ جاننا کہ کہاں سے دنیا ملتا ہے اور کہاں اسے خرچ کرتا ہے ۔اور حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن ایک سوال مال و دولت کے متعلق ہوگا مال کی کمائی اور خرچ دونوں کے بارے میں قیامت کے دن پوچھ ہوگی ۔اگر کوئی حدود وشرائط کوملحوظ ر کھتے ہوۓ اللہ سے دنیا اور دینار مانگے تو یہ جرم نہیں ۔ حافظ ابن کثیر ابوبکر الخطیب البغدادی کے لکھتے ہیں ترجمہ:خطیب نے اللہ سے ہزار دینار کی ملکیت کا سوال کیا تو ہزار دینار یا اس کے لگ بھگ سونے کا مالک ہو گیا حسین دنیا کی محبت اور اسکی وجہ سے اصولوں پر سودا بازی کر کے اپنے نظریات کوقربانی کا بکرا بنا نا مذموم عمل ہے۔
سکے کے دو رخ
در ہم ودینار کی محبت نے اکثر لوگوں کو دیوانہ بنا دیا ہے دینار و درہم کا ایک رخ اور زاد می نگاہ یہی ہے کہ اپنے انا کی تسکین اور پیٹ کے جہنم بھرنے کے لیے حلال وحرام کے پرواہ کیے بغیر ہوس زر کے پجاری بنے ۔ نظر یہ اور عقیدہ کو بالائے طاق رکھ کر اسی محبوب لیلی کے وصال اور لگن میں مگن بعض لوگ درہم ودینار کے بندے اور گرویدہ بن جاتے ہیں اور گندگی کے اس ڈھیر کو خوبصورت چمن کے لبادہ میں پھول سمجھتے ہوۓ خوشی سے پھولے نہیں ساتے ۔
تاریخ کے انمٹ نقوش
ماضی و حال کے سلسلہ کو ملاتے ہوئے بنفس الامری ٹھوس اور اٹل حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ ہلا کو کی ہلاکتیں ہو یا چنگیز خان کی چنگیزیت اور بر بریت ، جہانگیر واکبر کی رسہ کشی ہو یا اورنگ زیب اور شاہ جہان کا با ہمی چپقلش حصول اقتدار کا ہوس ہو یا تحفظ اقتدار کے گرو کے گر۔ تاڑنے والا معاملہ کی تہ تک پہنچ سکتا ہے کہ یہ سب اس بوڑھی دنیا کے کرتب میں کرکٹ کے میدان میں کرکٹ نے والے اس میدان سے بیک بینی ، در وگوش اگر آوٹ ہوتے ہیں اور پیارے پاکستان کے وقار وعزت کو خاک میں ملا کر دم لیتے ہیں تو اسکی وجہ یہی سیم وزر کی غلامی ہے یہاں تک کہ اخبارات کے ذریعہ یہ خبر چار دانگ عالم میں گردش کر گئی کہ ملکہ برطانیہ وز یر انصاف کی سفارش پر سکینڈ ل عامر کی سزا معاف کر سکتی ہے، سلمان بٹ اور آ صف عامر نے ملک کے وقار کو مجروح کر دیا اور اپنے چاہنے والوں کو مایوس کر کے بدعنوانی کے مرتکب ہوۓ ۔ حجاج جیسے ظالم بادشاہ نے اگر خانہ کعبہ پر گولے پھینکے ، خلفائے ثلاثہ کو شہادت ملی یا عمر بن عبدالعزیز کو زہر دے کر ابدی نیند سلا دیا گیا اسکی تہہ میں سیم وزر کے ہوس کا جذ بہ کارفرما ہے۔
