شیخ القرآن مولانا ملا محمد افضل خان صاحب عرف شیخ شاہ پور پیدائش : آپ ۱۳۳۵ھ/۱۹۲۶ء میں وادی سوات کے علاقہ ” کانا” کے ایک گاؤں ولندر میں پیدا ہوۓ ۔ آپ کے والد محترم دوست محمد خان بن امیر خان ریاست سوات کے بہت معزز اور صاحب حیثیت آدمی تھے ۔ ریاستی فوج میں کمانڈر افسر تھے ۔۱۹۴۴ء میں آپ کا گھرانہ شاہ پور میں منتقل ہو گیا۔ تعلیم وتربیت آپ نے سکول کی تعلیم جماعت چہارم تک حاصل کی تھی ۔ آپ کی طبیعت دینی تعلیم کی طرف راغب تھی، گھرانہ چونکہ دنیاوی اعتبار سے بہت ذی وجاہت تھا ، اس لئے انہیں اس میں اپنی کسر شان اور بے عزتی محسوس ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے آپ کو روکنے اور اپنے مقصد سے ہٹانے کیلئے بہت کوشش کی ۔ ہر حربہ اور ہر طریقہ نا کام ہو جانے کے بعد انہوں نے آپ کی شادی کرادی تا کہ بیوی رکاوٹ بن جاۓ اور آپ دینی تعلیم سے رہ جائیں لیکن فضل ربانی نے یاوری کی اور اہلیہ محترمہ آپ کی معاون و مددگار بن گئیں ۔ اہلیہ کے علاوہ بڑے بھائی محمد سید جہان خان صاحب ( معروف به کپتان صاحب ) اور ان کی اہلیہ محترمہ نے بھی خوب اعانت کیا اور آپ اس زبر دست آزمائش میں سرخرو ہوۓ ۔ ۱۹۴۴ء میں علم دین کی ابتداء فرمائی اور ابتدائی کتب پڑھنے کے لئے ۱۹۴۶ء میں دارالعلوم چار باغ تشریف لے گئے ۔ ۱۹۴۹ء تک یہاں زیرتعلیم رہے ۔۱۹۵۳ء میں دارالعلوم اسلامی سیدوشریف سے دورہ حدیث کر کے سند فراغت حاصل کی ۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا خان بہادر ( مارتونگ بابا) مولا عبدالعلیم فاروقی ہوڈ گرامی ،مولا نا محمد نذیر چکیسری اور مولانا نعمت اللہ شاہ پوری شامل ہیں ۔ ۱۹۵۷ء میں آپ دور تفسیر کے لئے حضرت شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان کی خدمت میں راولپنڈی تشریف لے گئے اور ۱۹۷۳ء میں شیخ القرآن مولا نا محمد طاہر کی خدمت میں پنج پیر تشریف لے گئے ۔حضرت الاستاد علامہ سلطان غنی عارف الطاہری صاحب کا کہنا ہے کہ : ”میں جب شاہ پور گیا تو ان سے ملاقات کر کے انہیں حضرت شیخ القرآن علامہ محمد طاہر کا تعارف کرایا جسے سن کر شیخ شاہ پور پنج پیر تشریف لے گئے۔
درس و تدریس فراغت کے بعد دارالعلوم تعلیم القرآن شاہ پور کی بنیاد رکھی اور تاحیات یہاں دینی علوم خصوصا قرآن و حدیث کی خدمت فرماتے رہے ۔ ۱۹۶۲ء میں – رمضان المبارک کا دورہ تفسیر شروع فرمایا اور یہ سلسلہ آخر عمر تک جاری رہا اور ہزار علماءوطلباء اس سے مستفید ہوئے جو آپ کے لئے ایک مستقل صدقہ جاریہ ہے
تصوف وسلوک : بیعت اور ذکر واذکار سے تزکیہ نفس صلحائے امت کا متوارث طریقہ ہے۔ آپ ۱۹۴۵ء میں اپنے استادمولا نا مختارگل سے بیعت ہوۓ اور ۱۹۵۳ء میں طریقہ قادریہ میں خلافت واجازت بیعت سے بھی نوازے گئے ۔۱۹۷۳ء میں شیخ القرآن پنج پیر سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت ہوۓ اور منازل سلوک طے کرنے کے بعد ان سے طریقہ نقشبندیہ میں مجاز ہوۓ۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی خلیفہ مجاز شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا نے بھی آپ کو تبرکا سلاسل اربعہ میں اجازت عطاء فرمائی تھی۔ آپ اپنے متوسلین کی طریقہ قادریہ کے مطابق تربیت فرمایا کرتے تھے۔
تصنیف و تالیف : آپ کی مندرجہ ذیل تصانیف زیور طباعت سے مزین ہوئی ہیں۔ (۱) افضل التراجم بلغة الاعاجم : پشتو زبان میں ایک جلد پرمشتمل مختصر تفسیر جو قرآن فہمی کے لئے نعمت غیر مترقبہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ (۲) نثر المرجان من مشكلات القرآن : قرآن کریم کی سورتوں کا مختصر خلاصہ اورمشکلات کی حل میں بہترین کاوش ہے۔ (۳) تسهیل مثنوی : مثنوی رومی کی مختصر حکایات کی شرح ہے جو طلباء کے لئے درسی ترتیب پر لکھی گئی۔ (۳)المنهاج الواضح : عقائد، فقہ اور اخلاق جیسے اہم عنوانات پر مشتمل ہے۔ (۵) تسہیل البخاری : صحیح بخاری کی کتاب الایمان کی پشتو شرح ہے جو ابھی غیر مطبوعہ ہے۔
جماعتی عہدہ: آپ جماعت اشاعت التوحید والسنہ کے صوبہ سرحد کے نائب امیر رہے ۔ ہمیشہ جماعتی ذمہ داریوں کو بہت خوبی سے نبھایا اور جماعتی وابستگی کو ہرتعلق سے مقدم رکھا ۔طلباء اور متعلقین کو بھی یہی وصیت فرماتے تھے۔ چنانچہ آخری دورہ تفسیر میں فرمایا کہ جو میرا حلالی شاگرد ہے، وہ جماعت اشاعت التوحید والسنہ کے ساتھ پختگی سے وابستہ رہے گا۔ آپ نے شرک و بدعت کے خلاف خوب کام کیا۔علاقہ میں خاندانی وجاہت کی بناء پر عوامی سطح پر تو قابل ذکر مخالفت نہیں ہوئی لیکن مبتدعین نے مختلف سازشوں اور مخالفتوں کے تیر برساتے رہے حضرت شیخ القرآن پنج پیر سے غایت درجہ محبت رکھتے تھے ۔ اور بڑی عقیدت سے ان کا تزکرہ فرماتے تھے
زہد وتقویٰ : آپ بڑے ہی متقی ، ذاکر اور شب زنده دار بزرگ تھے ۔ زبان ہر وقت ذکراللہ سے تر رہتی ۔ اعمال ماثورہ کی نہایت پابندی فرماتے اور طلبہ کی تربیت کے لئے بڑے موثر انداز میں اعمال کے فضائل بیان فرماتے انہیں عمل پیرا بھار تے اور ساتھ کبھی کبھار کی چٹکی بھی لے لیتے جو تنبیہ کے لئے بڑے مؤثر تازیانے کا کام دیتی تھی ۔طلبہ پر اپنے پاس سے خرچ کرتے اور ایسا کرنے میں بڑی خوشی محسوس کرتے ۔ مزاج گرامی میں بہت زیادہ عاجزی و انکساری تھی ، ہر ملنے والے سے بڑی شفقت و محبت اور کچھ اس اپنائیت سے ملتے کہ وہ بے اختیار آپ کا گرویدہ ہو جاتا۔
استغناء : تواضع کے ساتھ استغنا بھی آپ کی طبیعت میں بدرجہ اتم موجودتھی ، آپ کو دین کے نام پر کام کرنے والی کئی جماعتوں خصوصاً غیر مقلدین نے طرح طرح کے لالچ دیے لیکن آپ نے اپنی شان استغنا اور اپنی جماعت اشاعت التوحید والسنہ سے تعلق پرکوئی حرف نہ آنے دیا۔ حق پرستی حضرت علامہ مولانا خان بادشاہ صاحب مدظلہ تحریر فرماتے ہیں کہ آپ نہایت متقی عالم اور حق پرست انسان تھے جو کسی سے کچھ پوچھنے میں اپنی وجاہت اور مقام ومرتبہ کو آڑے نہیں آنے دیتے تھے ۔ وہ غلطی کا اعتراف کرنے اور اپنی اصلاح کرنے میں قطعاً کوئی باک محسوس نہیں کرتے تھے ۔ ہمیشہ کچھ سیکھنے اور اپنی اصلاح کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے
وفات حسرت : حضرت شیخ ۳۰ جنوری ۲۰۰۳ کو جمعرات کی شب داعی اجل کو لبیک کہتے ہوۓ اس دار فانی سے رخصت ہو گئے جمعرات کے دن بعد نماز عصر جنازہ ادا کی گئی۔ جنازہ شیخ الحدیث مولا نا محمد یار بادشاہ صاحب نے پڑھایا جس میں دیگر اکابرین علماء کے علاوہ دور دور سے آۓ ہوۓ بڑی شخصیتوں اور علاقے کے معززین نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ دارالعلوم کے سامنے والے مقبرہ میں سوگوار خاندان کے افراد اور عقیدت مندوں نے آنسو بہاتے ہوۓ انہیں سپرد خاک کیا ۔ حق تعالی ان کی مغفرت فرماۓ ، یقینا بڑی خوبیاں تھیں اس بقا سے جانے والے میں۔

افضل التراجم فی لغۃ الاعاجم پشتو

