Maulana Sayed Abdul Muqaddas Bacha Jalbai مولانا سید عبدالمقدس با چا جلبئ

مولاناعبدالمقدس با چا

آپ ۱۹۵۸ءکو جناب ناصر شاہ مرحوم بن نظر شاہ بن احمد شاہ کے ہاں گاؤں جلبئی محلہ سیدان ضلع صوابی میں پیدا ہوۓ ۔ آپ کے خاندان کے افراد نہایت عبادت گذار اور تہجد گذار ہیں ۔ آپ کے والد نہایت مہمان نواز تھے ،مسئلہ تو حید کی حقیقت جاننے کے بعد ہمیشہ تہجد کی نماز پڑھا کرتے تھے ۔ آپ کے علوم دینیہ کی طرف توجہ کی کہانی اس طرح ہے کہ آپ کے قریہ میں شیخ القرآن پنج پیر کے شاگردمولا نا عبدالخالق شاہ صاحب تھے جو قرآن پڑھانے اور مسئلہ توحید بیان کرنے کے لئے افراد کو تلاش کرتے رہتے ، آخر کار آپ کے بڑے بھائی حاجی سلطان روم با چا صاحب ہاتھ لگے ، چند ماہ کے بعد حضرت مولا نا مدظلہ نے آپ سے قرآن کریم بالتفسیر والتر جمہ پڑھنا شروع کیا جس کی وجہ سے آپ کا شوق علوم دینیہ کی طرف پیدا ہوا ۔ مولا نا عبدالخالق اور بعض اساتذہ سے خلاصہ کیدانی ، میزان  نحومیر پڑھا ۔ پھر آپ شیخ القرآن مولا نا محمد رفیق صاحب عرف تنر مولانا کے آغوش تربیت میں آئے۔ کافیہ شرح جامی ، مجموعہ منطق ،شرح تہذیب اور مطول مولا ناشہزادہ صاحب آف مانسہرہ سے أصول الشاشی ،نور الانوار اور نفحۃ العرب شیخ القرآن مولانا غلام حبیب صاحب مدظلہ سے حسامی، تلخیص اور مختصر المعانی مولانا رشید احمد صاحب مہتم دارالعلوم تعلیم الاسلام کاملپور ویسہ سے سبع معلقہ متنبی ،حماسہ مولانا حبیب الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ آف آلائی سلم قطبی اور ہدایۃ الحکمۃ وغیرہ مولانا فضل حق کو ہستانی اور مولا نا محمد فیروز صاحب کو ہستانی سے پڑھی۔موقوف علیہ دارالعلوم تعلیم القرآن تو رڈ ھیر میں شیخ القرآن مولانا محمد رفیق صاحب سے اوردورۂ حدیث امداد العلوم صدر پشاور میں شیخ الحدیث مولانا حسن جان صاحب مدظلہ سے پڑھ کر سند فراغت حاصل کی ۔ آپ کا ارادہ تھا کہ دو باره دور ہ حدیث شیخ القرآن والحدیث مولا نا محمد طاہر سے پڑھوں گا مگر حضرت شیخ اسی سال رحلت فرما گئے ۔ ایک مرتبہ آپ شیخ الحدیث قاضی شمس الدین صاحب سابق صدر مدرس دارالعلوم دیوبند کے ہاں ڈاکٹر عثمانی کے بارے میں فتوی لینے کے لئے تشریف لے گئے ۔ قاضی صاحب نے فتوی لکھنے کے بعد فرمایا کہ انوار البیان فی اسرار القرآن خرید لو، اس پر آپ نے جوابا عرض کیا کہ اللہ کومنظور ہوا تو میں آپ سے دورۂ حدیث پڑھنے کے لئے آؤں گا اور یہ کتاب آپ سے بطور انعام حاصل کروں گا ،مگر ہاۓ افسوس ! کہ قاضی صاحب بھی اس دارفنا سے ۱۹۸۵ء میں رحلت فرما گئے۔ آپ نے ترجمہ وتفسیر دومرتبہ مولا نا عبدالخالق شاہ صاحب سے ،مولانا غلام اللہ صاحب آف تورڈھیر سے کچھ پارے ، شیخ القرآن مولانا غلام حبیب صاحب سے کچھ پارے شیخ القرآن مولا نا محمد رفیق صاحب سے کئی مرتبہ، شیخ القرآن مولا نا محمد افضل خان صاحب آف شاہ پورسوات سے دومرتبہ، شیخ القرآن مولانا عبدالسلام صاحب سے دومرتبہ اور شیخ العرب والعجم شیخ القرآن والحدیث مولانا محمد طاہر سے پانچ مرتبہ پڑھنے کی سعادت حاصل کی ہے۔

مولاناعبدالمقدس با چا
مولاناعبدالمقدس با چا
مولاناعبدالمقدس با چا کی جوانی کی تصویر

بیان توحید اور ترجمہ قرآن میں پیش آمدہ تکالیف:

آپ نے جب مسئلہ توحید بیان کیا تو والد صاحب اور تمام گھر والے اقرباء درشتہ دار مخالف ہوگئے ۔ یہاں تک کہ والد صاحب نے باتیں بھی بند کر دیں اور آپ کے استاد مولا نا عبدالخالق شاہ صاحب کو ہر وقت گالیاں دیتے رہے۔ یہاں تک استاد کو کہا اگر آپ میرے سامنے ان کو ( مولا نا اور ان کے بھائی جناب سلطان روم با چا ) بسم اللہ بھی پڑھایا تو ( درانتی ہاتھ میں تھی بلا کر کہا اس سے تمہارے پھیپھڑوں کو باہر نکال دوں گا ۔ جب آپ دونوں سبق پڑھنے کے لئے استاد کے ہاں تشریف لے گئے تو استاد نہایت غمزدہ اور پریشان نظر آۓ ۔ پوچھنے پر استاد نے سارا قصہ سنایا ۔ بڑے بھائی سلطان روم نے کچھ دیر بعد ا سے عرض کیا کہ اگر آپ نہیں پڑھانا چاہتے تو الگ بات ہوگی ، ورنہ ہم تو آپ سے پڑھنا نہیں چھوڑ سکتے ،اس پر استاد نہایت خوش ہوئے اور دوبارہ پڑھانا شروع کر دیا۔ آپ نے ابتدائی دور نہایت تکالیف ، مشکلات و مصائب سے گذارا تحصیل فراغت کے بعد دارالعلوم تعلیم القرآن لا شاعت التوحید والسنہ تورڈھیر میں پانچ سال تک فقہ اور مختلف فنون کے درس دیتے رہے اور مسجد میں طلبہ کومشکوۃ شریف اور دیگر فنون کی کتابیں بھی پڑھاتے رہے ۔۱۹۸۲ء سے آج تک روزانہ قرآن کریم کا ترجمہ وتفسیر کے خدمات کے علاوہ مستورات کو ترجمہ، شروط الصلاة ، ریاض الصالحین اور مشکوۃ المصابیح کا درس دے رہے ہیں ۔۱۹۹۲ء میں آپ کی تقرری سرکاری ادارہ میں شعبۂ اسلامیات کے معلم کی حیثیت سے ہوئی۔آپ درس و تدریس کے علاوہ تصنیف و تالیف میں بھی ایک خاص ملکہ رکھتے ہیں۔ آپ کے تصنیفات و تالیفات کی تعداد تقریبا دس ہے ۔جن میں آپ کی پہلی علمی کاوش (1)”كشف اللثام الحثیث عن وجوه بعض اهل الحدیث “ ہے ،جس میں نام نہا داہل حدیث کی تردید کے علاوہ بعض لوگ جنہوں نے درا ہم ودنا نیر کے لئے اپنے مسلک کو چھوڑا ہے، کا بھر پورانداز سےتعاقب کیا ہے۔ (2)كشف الحجاب عن وجه المرتاب : یہ کتاب ایک حاسد مولوی کے کتاب جس کا نام ” حق تورہ یعنی حق کی تلوار ہے کے جواب میں تحریر کی گئی ۔ (3) تأنيب الكئيب : یہ کتاب بھی اسی مذکورہ مولوی کی کتاب کے جواب کا ایک حصہ ہے۔(4) قطع الوريد عن عنق العنيد : یہ  8صفحات پرمشتمل رسالہ ہے اور پہلی دو کتابوں کی طرح اسی زنجیر کی ایک کڑی ہے۔ (5) منبع العاطشين شرح رياض الصالحين : رياض الصالحین کی  (6)تبريد الخاطر في توضيح ذكر الذاكر : فضیلت ذکر کے علاوہ حکم الذکر بالجہر کے ہر پہلو پر تفصیلا بحث کی گئی ہے۔ (7) کتاب الصبيان : اس کتاب میں بچے کی پیدائش سے لے کرمنگنی اور شادی تک تمام احکام شرعیہ کی مکمل تفصیل بیان کی گئی ہے ۔ (8) تفسیر مقدس : قرآن کریم کی تفسیر عربی زبان میں جو کہ زیرطبع ہے۔ شرح عربی زبان میں جوز یرطبع ہے۔ (9) تقاریر مقدسہ : مولانا کے خطبات و بیانات کا ایک حسین مجموعہ ہے ۔(10) ایک مبتدع کی کتاب الظهار الحق جو کہ دراصل تلبيس الحق   کی تردید میں ہے، ۔آپ جماعت اشاعت التوحیدوالسنۃکے حلقہ نمبر7 کے امیر بھی ہے۔اللہ کریم ان کے مساعی جمیلہ کو قبول فرما کر دار مین میں سعادت کا ذریعہ بناۓ ۔ (آمین) (ملخص از خط مرسلہ ڈاکٹر عابد)   شیخ القرآن والحدیث مولانا سید عبدالمقدس باچا جلبئ  کے مطلوبہ تصنیف کو ڈاون لوڈ کرنے کے لیے مندرجہ ذیل مطلوبہ کتاب کے کور پیج پر کلک کریں۔ فی الحال مندرجہ ذیل تصانیف دستیاب ہیں۔

کشف الحجاب عن وجہ المرتاب از مولانا عبدالمقدس باچا صاحب یعنی شک میں ڈالنے والے کے چہرے سے پردہ اٹھانا

تانیب الکئیب از مولانا عبدالقدس باچا

تحقیق کرامات الاولیاء از مولانا عبدالقدس باچا اولیاء کرام کی بعدالموت
کرامات پر مدلل انداز میں نہایت دلکش اور دلفریب تحقیق کی گئی ہے جو کہ مسئلہ کو واضح کرنے اور دل کو بھانے والی ہے۔

تبرید الخاطر فی توضیح الذکر الذاکر از مولانا عبدالمقدس باچا اس کتاب میں کتاب و سنت کی روشنی میں ذکر باالجھر کی تردید کی گئی ہے۔

انارۃ البدر فی تحقیق سنۃ الفجر از مولانا عبدالمقدس باچا ۔ صبح کی نماز کی سنت پڑھنے کا صحیح وقت کتاب و سنت کی روشنی میں۔

اھل السنۃ والجماعت کے نام پر غاصبانہ قبضہ از مولانا عبدالمقدس باچا

اعطاء الزکاۃ لسادات از مولانا عبدالمقدس باچا

رسائیل مقدسہ از مولانا عبدالمقدس باچا

Leave a Reply