Ahkam Ul Quran lil Imam Jassas Urdu
تفسیر احکام القرآن جصاص اردو
تفسیر احکام القرآن (اردو ترجمہ)
مصنف اور مترجم
یہ عظیم الشان تفسیر علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی (المتوفی 370ھ) کی تصنیف ہے۔ اردو ترجمہ مولانا عبد القیوم نے کیا ہے، جبکہ اسے شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔
فقہاء کی اجتہادی کاوشیں
رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے لے کر آج تک فقہاء اور مجتہدین نے مسائل کو کتاب، سنت، اجماع امت اور اجتہاد و قیاس کی بنیاد پر حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ فقہاء کے مرتب کردہ قوانین صدیوں سے دنیائے اسلام میں رائج ہیں اور بے شمار مسلمان اپنی روزمرہ زندگی میں ان قوانین پر عمل پیرا ہیں۔
دورِ جدید کے چیلنجز
مغربی علوم و فنون، فکری تسلط اور ثقافتی غلبے کی وجہ سے کئی تعلیم یافتہ افراد اسلام کے تصورات کو سمجھنے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں۔ ایسے افراد کے لیے قرآن و سنت اور فقہ کو بنیادی ماخذ کے ذریعے سمجھنا دشوار معلوم ہوتا ہے۔
شریعہ اکیڈمی کا علمی منصوبہ
شریعہ اکیڈمی نے قانون دان حضرات، وکلاء، عدلیہ کے اراکین اور عام تعلیم یافتہ افراد کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی، دستوری اور عدالتی معاملات پر اردو اور انگریزی زبان میں کتابیں شائع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
احکام القرآن – فقہی تفسیر کی اہمیت
اس منصوبے کے تحت پہلی بار امام جصاص کی شہرہ آفاق تفسیر “احکام القرآن” کا اردو ترجمہ شائع کیا جا رہا ہے۔ یہ تفسیر مستند اور معتبر فقہی تفسیر ہے، جس میں ان قرآنی آیات کی تشریح کی گئی ہے جو فقہی احکام سے متعلق ہیں۔ ان آیات کو “آیاتِ احکام” کہا جاتا ہے کیونکہ ان سے فقہی و قانونی مسائل کا استنباط کیا جاتا ہے۔
دیگر تفاسیر برائے احکام القرآن
دیگر کئی فقہاء نے بھی “احکام القرآن” کے نام سے تفاسیر لکھی ہیں، جن میں شامل ہیں:
علامہ ابن العربی
امام قرطبی
امام شافعی
امام ابو جعفر الطحاوی
علامہ الکیا الہراسی
علامہ جصاص کی تحقیق اور اسلوب
علامہ جصاص نے نہ صرف فقہی مباحث، فقہاء کی آراء اور ان کے دلائل ذکر کیے، بلکہ خوارج، معتزلہ، جہمیہ، صفوانیہ، قدریہ اور جبریہ جیسے فرقوں کے نظریات کی تردید بھی کی۔ وہ فقہ حنفی کے مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے، لیکن انہوں نے دیگر آراء کا بھی علمی محاکمہ کیا اور اعتدال پر مبنی موقف اختیار کیا۔
کتاب کی تقسیم اور جلدوں کی تفصیل
یہ تفسیر تین جلدوں پر مشتمل ہے، لیکن اردو ترجمہ کو چھ جلدوں میں شائع کیا جا رہا ہے۔
پہلی جلد (سورہ فاتحہ تا سورہ بقرہ آیت 214)
تفسیری مباحث
دنیوی سزاؤں کی بنیاد
غیر اللہ کو سجدہ
جادو کی حقیقت
قرآن میں نسخ
قبلہ سے متعلق مسائل
حرام اشیاء اور اضطرار
قصاص، وصیت، روزے اور حج کے احکام
دوسری جلد (سورہ بقرہ آیت 215 تا آخر سورہ بقرہ)
شراب نوشی اور جوئے کے احکام
مشرک عورتوں سے نکاح
طلاق اور رضاعت کے احکام
جہاد اور صدقہ
سود، رہن اور خرید و فروخت کے اصول
تیسری جلد (سورہ آل عمران تا سورہ نساء آیت 42)
مباہلہ اور نسب
مجرم کا حرم میں پناہ لینا
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی فرضیت
بیوی کے حقوق
تجارت اور محرمات
چوتھی جلد (سورہ نساء آیت 43 تا آخر سورہ مائدہ)
اولی الامر کی اطاعت
عدل و انصاف
قتل اور اس کی اقسام
دیت اور اس کے احکام
نماز خوف، نماز کے اوقات، وضو، غسل اور تیمم
ارتداد اور زندیق کی سزا
حدِ سرقہ، رشوت، اور قصاص کے مسائل
پانچویں جلد (سورہ انعام تا سورہ مومنون)
زکوٰۃ کے مسائل
مالِ غنیمت اور جزیہ
مکہ مکرمہ کی اراضی
گواہی سے متعلق مسائل
چھٹی جلد (سورہ نور تا آخر قرآن)
حدِ زنا، حدِ قذف اور لعان
پردہ اور غض بصر کے احکام
باغیوں کے خلاف احکام
طلاق اور ظہار کے مسائل
اردو ترجمہ کی خصوصیات
یہ ترجمہ آسان اور عام فہم ہے تاکہ ہر طبقہ کے لوگ اسے سمجھ سکیں۔ اس کا خاص پہلو یہ ہے کہ یہ چوتھی صدی ہجری کے فقہی مباحث اور قانونی مسائل کے تناظر میں لکھی گئی تھی۔
فقہی مسائل کی تاریخی اہمیت
اگرچہ کچھ فقہی مسائل اب موجود نہیں، لیکن ان کا علمی اور تاریخی پس منظر آج بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ کتاب جدید قانون دانوں اور اسلامی قوانین میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔
اختتامی کلمات
ڈاکٹر محمود احمد غازی (ڈائریکٹر جنرل، شریعہ اکیڈمی) نے اس کتاب کی اشاعت کے پسِ پردہ تعلیم یافتہ طبقے کو اسلامی قوانین سے روشناس کرانے کو بنیادی مقصد قرار دیا ہے۔ امید ہے کہ یہ علمی کاوش اسلامی فقہ کے طالب علموں اور ماہرین کے لیے مفید ثابت ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس عظیم الشان علمی ذخیرے سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین