Tirazi Urdu Sharh Al Siraji pdf طرازی اردو شرح سراجی

Tirazi Urdu Sharh Al Siraji pdf طرازی اردو شرح سراجی

Tirazi Urdu Sharh Al Siraji pdf by Maulana Ishtiaq Ahmad

PDF Viewer

کتاب کا نام: طرازی اردو شرح سراجی
نقشِ اول: مولانا اشتیاق احمد صاحب صادر ہنگوی
نقشِ ثانی: حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری

طرازی اردو شرح سراجی – ایک منفرد شرح

علم فرائض اسلامی فقہ کا ایک نہایت اہم موضوع ہے، اور اس علم کے سیکھنے اور سکھانے کے لیے مستند کتب کی ضرورت ہمیشہ رہی ہے۔ طرازی اردو شرح سراجی ایک ایسی منفرد شرح ہے جو علم الفرائض کی معروف کتاب “سراجی” کو آسان اور فہمیدہ انداز میں پیش کرتی ہے۔

اس شرح میں مصنف نے درس کے انداز کو اپنایا ہے تاکہ مبتدی طلبہ کو سراجی کی مشکل اور دقیق عبارات سمجھنے میں سہولت ہو۔ عام شروحات میں پہلے متن، پھر ترجمہ، اس کے بعد تشریح دی جاتی ہے، لیکن طرازی اردو شرح سراجی میں پہلے عنوان قائم کر کے مصنف کی مراد کو واضح کیا گیا ہے۔ پھر ضرورت کے مطابق مثالیں دے کر مسائل کو سمجھایا گیا ہے، اور آخر میں “فوائد” کے عنوان سے ضروری علمی نکات بھی بیان کیے گئے ہیں۔

طرازی اردو شرح سراجی کا منفرد انداز

عام شروحات سے مختلف ترتیب

دیگر شروحات میں عام طور پر عبارت کے بعد ترجمہ اور تشریح دی جاتی ہے، لیکن طرازی اردو شرح سراجی کا طریقہ مختلف ہے۔ یہاں درس کے انداز کو اختیار کیا گیا ہے، جس میں پہلے عنوان قائم کرکے مصنف کی مراد کو آسان الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے، پھر تفصیل اور مثالوں کے ذریعے وضاحت کی جاتی ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مبتدی طلبہ کو عبارت کی پیچیدگی سے گھبراہٹ نہیں ہوتی بلکہ وہ پہلے بنیادی تصور کو سمجھنے کے بعد عبارت کی طرف آتے ہیں۔

مشکل عبارات کو سہل انداز میں بیان کرنا

طرازی اردو شرح سراجی کے اسلوب کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں مشکل عبارات کو عام فہم زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے پیچھے وہی اصول کارفرما ہے جو حضرت الاستاذ مفتی محمد امین صاحب پالن پوری دامت برکاتہم نے الخير الكثير شرح الفوز الکبیر میں اپنایا تھا، یعنی پہلے مسئلہ کو آسان کرکے سمجھایا جائے تاکہ طالب علم کو عبارت اجنبی محسوس نہ ہو۔

تکرار کرنے والے طلبہ کے لیے آسانی

یہ کتاب ان طلبہ کے لیے بھی نہایت مفید ہے جو اپنے ساتھیوں کو سبق دہرانا چاہتے ہیں۔ چونکہ اس میں درس کے انداز کو اپنایا گیا ہے، اس لیے تکرار کرنے والے طلبہ اس کے ذریعے اپنی تدریسی صلاحیتوں کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں اور سبق کو مزید اچھی طرح ذہن نشین کر سکتے ہیں۔

طرازی اردو شرح سراجی کی تدوین میں مستند کتب سے استفادہ

دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء کی کتب سے استفادہ

طرازی اردو شرح سراجی کی تیاری میں قدیم اور جدید تمام اہم کتب کو مدنظر رکھا گیا ہے، خصوصاً وہ کتب جو دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء لکھنو کے کتب خانوں میں موجود ہیں۔ ان کتابوں سے کارآمد نکات لیے گئے ہیں، جب کہ غیر ضروری تفصیلات یا غیر محقق باتوں سے اجتناب کیا گیا ہے۔

مشہور شرح شریفیہ سے بھرپور استفادہ

سراجی کی سب سے معروف شرح شریفیہ ہے، جس کے حاشیہ نگار مولانا عبد الحی فرنگی محلی ہیں۔ طرازی اردو شرح سراجی میں اس شرح سے بھرپور استفادہ کیا گیا ہے اور جگہ جگہ اس کے حوالے بھی دیے گئے ہیں۔ اگر کسی مقام پر حوالے کا ذکر نہ ہو، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تفصیل شرح شریفیہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔

طرازی اردو شرح سراجی کس کے لیے لکھی گئی ہے؟

مبتدی اور متوسط درجے کے طلبہ کے لیے بہترین شرح

یہ شرح خاص طور پر مبتدی اور متوسط درجے کے طلبہ کے لیے لکھی گئی ہے، اس لیے اس میں غیر ضروری تفصیلات سے گریز کیا گیا ہے اور صرف وہ نکات بیان کیے گئے ہیں جو سراجی پڑھنے والوں کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ اس کے باوجود سراجی کی دقیق سے دقیق عبارتوں کو انتہائی وضاحت سے سمجھایا گیا ہے، تاکہ طلبہ کو کسی قسم کی الجھن کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

تفصیل کے متلاشی طلبہ کے لیے ایک اور رہنمائی

اگر کوئی قاری زیادہ تفصیلات اور تحقیقی مباحث پڑھنا چاہتا ہے، تو شریفیہ شرح سراجی کی طرف رجوع کر سکتا ہے، کیونکہ مصنف کے مطابق اس سے عمدہ شرح میری نگاہ سے نہیں گزری۔

طرازی اردو شرح سراجی کی نمایاں خصوصیات

 طرازی شرح کا منفرد انداز: شرح سراجی سے موازنہ

اس شرح کا انداز عام شرحوں سے کچھ مختلف ہے، اس لیے اس کے سلسلے میں چند باتیں جان لینی چاہئیں تا کہ استفادہ آسان ہو۔ عام شروحات میں پہلے عبارت، پھر ترجمہ، اس کے بعد لغت اور عبارت کی تشریح ہوتی ہے لیکن اس شرح میں درس کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔

 عنوان بندی اور وضاحت کا درس نما طریقہ

اس شرح میں پہلے عنوان قائم کر کے مصنف رحمہ اللہ کی مراد کو اپنے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، اور حسبِ ضرورت مثال سے مقصود کی وضاحت کی گئی ہے۔ مسئلہ کی تخریج کہیں عبارت سے پہلے دی گئی ہے؛ اور کہیں عبارت و ترجمہ کے بعد ہے۔

 فَوَائِد اور اضافی وضاحتیں

بہت سی جگہوں میں آخر میں “فوایک” کے عنوان سے عبارت سے متعلق کچھ کام کی باتیں ذکر کی گئی ہیں اور مزید مثالوں سے قواعد کی وضاحت کی گئی ہے۔

 مفتی محمد امین پالن پوری کا طرزِ درس

در اصل یہ انداز حضرت الاستاذ مفتی محمد امین صاحب پالن پوری دامت برکاتهم کا اختیار کردہ ہے۔ انھوں نے الخیر الکثیر شرح الفوز الکبیر کو اسی طرز پر لکھا ہے۔

 مبتدی طالب علم کے لیے آسانی

فرماتے ہیں کہ یہ انداز میں نے دو وجہ سے اپنایا ہے:
1: اس وجہ سے کہ جب مبتدی طالب علم مشکل عبارت دیکھتا ہے تو گھبرا جاتا ہے، اور یہ خیال کرتا ہے کہ یہ عبارت میری سمجھ سے بالا تر ہے۔ یہ خیال اس کے لئے نہایت مضر ہوتا ہے، اس لیے میں نے پہلے مسئلہ کو آسان کر کے سمجھایا ہے، تا کہ مبتدی طالب علم جب مسئلہ اور بحث سمجھ کر عبارت پڑھے تو اس کو اجنبیت محسوس نہ ہو۔

 سعادت مند طالب علم کے لیے رہنمائی

2: اس وجہ سے کہ جو سعادت مند طالب علم اپنے ساتھیوں کو تکرار کرانا چاہتا ہے، وہ یہ انداز اپنا کر اپنی تکرار کو کامیاب بنائے اور درس کا طریقہ سیکھے۔
از حرف آغاز: الخیر الکثیر

 مصادر و مراجع کا وسیع مطالعہ

الحمد للہ، میں نے سراجی سے متعلق شروحات اور علمِ فرائض کے موضوع پر لکھی گئی قدیم و جدید، عربی، اردو اور فارسی کی ان تمام کتابوں سے کافی حد تک استفادہ کیا ہے جو دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء لکھنو کے کتب خانوں میں مل سکیں۔

 انتخاب کا اصول: “خُذْ مَا صَفَا وَدَعْ مَا كَدَّر

اور خُذ ما صفا، ودع ما کدر کے مطابق کارآمد باتیں لے لیں، اور بے جا تفصیل یا غیر محقق باتیں یا ایسی باتیں جو سراجی پڑھنے والوں کے لیے غیر ضروری تھیں ان سے احتراز کیا ہے۔

 شریفیہ شرح سراجی سے بھرپور استفادہ

سراجی کی مشہور شرح شریفیہ (مع حاشیہ مولانا عبد الحی فرنگی محلی) سے خوب خوب استفادہ کیا ہے، اور جگہ جگہ اس کے حوالے بھی دیئے ہیں۔ جس بات کا حوالہ نہ ہو، اسے اسی شرح میں تلاش کرنا چاہئے۔

 مبتدی و متوسط طلبہ کے لیے ترتیب

یہ شرح مبتدی اور متوسط طلبہ کے لئے لکھی گئی ہے، اس لئے اس میں تفصیلات سے ممکن حد تک احتراز کیا گیا ہے۔ البتہ سراجی کی دقیق سے دقیق عبارت کو بھی سمجھانے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔

 تفصیل کے شائقین کے لیے راہنمائی

لہذا جو حضرات تفصیل دیکھنا چاہیں وہ شریفیہ شرح سراجی کی طرف رجوع کریں۔ یہ بڑی عمدہ شرح ہے، اس سے عمدہ شرح میری نگاہ سے نہیں گزری۔

 اشکالات کا حل اور سہل انداز میں وضاحت

سراجی کی عبارت سے متعلق وہ تمام اشکالات جو میرے ذہن میں آئے، انھیں آسان الفاظ و تعبیرات میں بحوالہ حل کر کے پیش کیا ہے۔

 دیوبند کے اساتذہ سے استفادہ

دارالعلوم دیوبند میں سراجی پڑھانے والے اساتذہ: مولانا مجیب اللہ صاحب گونڈوی مدظلہ العالی اور مولانا خورشید انور صاحب گیاوی زید مجدہ کے درس میں لکھی گئی کاپیوں کو بھی سامنے رکھ کر شرح کو آسان سے آسان تعبیرات میں دلچسپ بنانے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔

 ذوی الفروض کے احوال و ترتیب

ذوی الفروض کے احوال “وجہِ حصر” کے طور پر بھی لکھے گئے ہیں۔ عام طور سے محجوب ہونے والی حالت میں اشتباہ ہوتا ہے، اس لئے ممکن حد تک اسے پہلے لکھا گیا ہے۔ وجہِ حصر میں دی گئی ترتیب سے مسئلہ بنانے میں اشتباہ اور غلطی نہیں ہوگی۔

 مفتی بہ قول کی وضاحت

ہر مسئلہ میں مفتی بہ قول کی نشاندہی کی گئی ہے۔

 حضرت مفتی سعید احمد پالن پوری کی نگرانی

اس شرح کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ حضرت الاستاذ مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری کی نگرانی میں ترتیب دی گئی ہے۔ آپ نے از اوّل تا آخر، حرفاً حرفاً بڑی دیدہ ریزی سے دیکھ کر اس کے نوک پلک کو خوب سنوارا ہے۔ فجزاه الله

عبارت سے متعلق تمام اشکالات کا حل
سراجی کی عبارت میں جو مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، ان کا آسان الفاظ میں بحوالہ حل پیش کیا گیا ہے تاکہ طلبہ کو کسی قسم کی الجھن کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ کے درسی افادات
دارالعلوم دیوبند میں سراجی پڑھانے والے مولانا مجیب اللہ صاحب گونڈوی اور مولانا خورشید انور صاحب گیاوی کے درسی افادات کو بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ کتاب کو زیادہ دلچسپ اور آسان الفہم بنایا جا سکے۔

ذوی الفروض کے احوال و حصر کی وضاحت
علم الفرائض کے طلبہ کے لیے سب سے اہم مسئلہ ذوی الفروض کے احوال اور وجہ حصر کو سمجھنا ہوتا ہے۔ اس شرح میں ان نکات کو نہایت سہولت سے بیان کیا گیا ہے تاکہ مسئلہ بناتے وقت طلبہ کو کسی قسم کی غلطی یا ابہام کا سامنا نہ ہو۔

ہر مسئلے میں مفتی بہ قول کی نشاندہی
علم الفرائض میں اختلافی مسائل عام ہیں، اس لیے طرازی اردو شرح سراجی میں ہر مسئلے میں مفتی بہ قول کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ قارئین کو معلوم ہو کہ کس رائے پر زیادہ اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply