Taozih ul Aqaid Urdu Sharh Sharah al Aqaid pdf by Maulana Ikram Ul Haq
نام کتاب: توضیح العقائد اردو شرح شرح العقائد
مصنف: علامہ اکرام الحق
زبان: اردو
موضوع: علم العقائد / علم الکلام
ناشر: جامعہ عمر بن خطاب
کتاب کا تعارف
توضیح العقائد اردو شرح شرح العقائد علم العقائد کی معروف اور عظیم الشان کتاب شرح العقائد النسفیہ پر ایک نہایت جامع، سہل اور مفید اردو شرح ہے۔ علم العقائد مسلمانوں کے دینی اعتقادات کی بنیاد ہے، اور اس علم کی اہمیت ہر دور میں مسلم رہی ہے۔
شرح العقائد جیسی دقیق اور فلسفیانہ کتاب کو سمجھنا بسا اوقات طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے توضیح العقائد اردو شرح شرح العقائد کو اس انداز میں مرتب کیا گیا ہے کہ یہ مشکل مضامین کو آسان، واضح اور دلنشین انداز میں پیش کرتی ہے۔
مصنف کا تعارف
علامہ اکرام الحق ایک جید عالم دین، محقق اور فکری رہنما ہیں جنہوں نے علم العقائد میں خاص درک حاصل کیا۔ انہوں نے اس شرح میں اپنی علمی بصیرت، فکری گہرائی، اور تدریسی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے توضیح العقائد اردو شرح شرح العقائد کو ایک نہایت مفید اور مؤثر شرح کی شکل دی ہے۔
ان کا مقصد صرف عقائد کو بیان کرنا نہیں، بلکہ عبارت کی وضاحت، ترجمہ، اعراب اور فکری نکات کے ذریعے طالب علم کو علمی طور پر تیار کرنا ہے۔
کتاب کی خصوصیات
توضیح العقائد اردو شرح شرح العقائد کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں، جو اسے دیگر شروح سے ممتاز بناتی ہیں
اعراب
اصل عربی عبارت پر مکمل اعراب دیا گیا ہے تاکہ تجوید اور فہم دونوں آسان ہو جائیں۔
ترجمہ
ہر عبارت کا سادہ، واضح اور با محاورہ اردو ترجمہ شامل کیا گیا ہے۔
تقطیع عبارت و اغراض
عبارت کو منطقی حصوں میں تقسیم کر کے اس کے مقاصد اور نکات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
مختصر اور سہل وضاحت
پیچیدہ فلسفیانہ و کلامی مباحث کو آسان اور مختصر انداز میں واضح کیا گیا ہے۔
فوائد عجیبہ
ہر بحث کے ساتھ ایسے علمی و فکری فوائد ذکر کیے گئے ہیں جو قاری کے فہم اور علم دونوں کو بڑھاتے ہیں۔
کتاب کے فوائد
توضیح العقائد اردو شرح شرح العقائد کے مطالعے سے قارئین کو درج ذیل فوائد حاصل ہوں گے
علم العقائد کا واضح فہم
مبہم اور دقیق مسائل کو سادہ الفاظ میں سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
تدریسی معاونت
اساتذہ کے لیے تدریس میں مددگار، کیونکہ ہر عبارت الگ الگ انداز میں حل کی گئی ہے۔
طلبہ کے لیے آسانی
مدارس، جامعات اور خود مطالعہ کرنے والے طلبہ اس شرح سے علمی و فکری استفادہ کر سکتے ہیں۔
خودی مطالعہ کی راہ ہموار
جو طلبہ یا شائقین از خود شرح العقائد کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ کتاب مشعل راہ ہے۔
فکری پختگی
طلبہ کے ذہن میں عقائد کے سلسلے میں جو اشکالات ہوتے ہیں، ان کا علمی جواب اس شرح میں ملتا ہے۔
جامعہ عمر بن خطاب کی معیاری اشاعت
توضیح العقائد اردو شرح شرح العقائد کو جامعہ عمر بن خطاب جیسے معتبر ادارے نے شائع کیا ہے جو علمی معیار اور دینی خدمات کے حوالے سے معروف ہے۔ اس ادارے کی اشاعت اس بات کی ضمانت ہے کہ کتاب علمی و دینی معیار پر پوری اترتی ہے۔
صاحب شرح عقائد ( شارح) حالات
نام و نسب: مسعود، لقب سعدالدین والد کا نام عمر او لقب قاضی فخر الدین ہے ۔ دادا کا نام عبداللہ اور لقب برہان الدین ہے۔ آپ ماہ صفر المظفر ۷۲۲ ھ میں ” تفتازان میں پیدا ہوئے جو ولایت خراسان کا ایک شہر ہے۔
ابتدائي حالات: بعض حضرات نے بیان کیا ہے کہ آپ ابتداء میں بہت ہی کند ذہن تھے بلکہ عضدالدین کے حلقہ درس میں آپ سے زیادہ نجمی اور کوئی نہ تھا، مگر مطالعہ کتب میں آپ سب سے آگے تھے، ایک مرتبہ آپ نے خواب دیکھا کہ ایک غیر متعارف شخص آپ سے کہہ رہا ہے کہ اے سعد الدین چلو تفریح کر کے آئیں تو آپ نے کہا کہ میں تفریح کے لئے نہیں پیدا کیا گیا، میں انتہائی مطالعہ کے باوجود کتاب سمجھ نہیں پاتا، تفریح کروں گا تو کیا حشر ہوگا ، وہ آدمی یہ سن کر واپس چلا گیا، کچھ دیر کے بعد پھر آیا اس طرح تین مرتبہ آمد ورفت کے بعد آنے والے شخص نے کہا کہ آپ کو حضور علیہ السلام یاد فرمارہے ہیں، تو میں گھبرا کر اٹھا اور ننگے پاؤں چل پڑا ( یہ سب کچھ خواب کی کیفیت بیان ہو رہی ہے ) شہر کے باہر ایک جگہ کچھ درخت تھے وہاں پہنچا تو دیکھا کہ حضور علیہ السلام اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف فرما ہیں مجھے دیکھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تبسم آمیز لہجے میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے تم کو بار بار بلایا اور تم نہیں آئے تو میں نے عرض کیا کہ حضور مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ یاد فرمارہے ہیں، اس کے بعد میں نے اپنی عبادت کی شکایت کی، تو آپ نے فرمایا ” افتح فمك تو میں نے منہ کھولا تو آپ نے اپنا لعاب دہن میرے منہ میں ڈالا اور دعا فرمائی ، اس کے بعد فرمایا کہ تم جاؤ۔
بیداری کے بعد جب عضد الدین کے حلقہ درس میں حاضر ہوئے تو درس کے دوران آپ نے کئی سوالات کئے کہ جن کے بارے میں ساتھیوں نے یہ خیال کیا کہ یہ سوالات بے معنی ہیں مگر استاد تا ڑ گیا اور کہا ” يا سـعـد انك اليوم غيرك فيما مضى“ آج تم وہ نہیں ہو جو اس سے پہلے تھے۔
تحصیل علوم: آپ نے مختلف اصحاب فضل و کمال اساتذہ اور شیوخ عضدالدین، قطب الدین راضی وغیرہ سے علوم و
فنون حاصل کئے۔
درس و تدریس: تحصیل علم سے فراغت کے بعد فورا ہی آپ مسند درس پر رونق افروز ہوئے اور سینکڑوں تشنگان علم نے آپ کے چشمہ فیض سے سیرابی حاصل کی۔
تصنیف و تالیف: تصنیف و تالیف کا ذوق ابتداء ہی سے پیدا ہو چکا تھا اس لئے تحصیل علم سے فراغت کے بعد درس و تدریس کے ساتھ ساتھ علم صرف علم نحو علم منطق علم فقہ علم اصول فقہ علم تفسیر علم حدیث، علم عقائد اور علم معانی۔ غرض ہر علم کے اندر آپ نے کتابیں تصنیف کیں، چنانچہ شرح تعریف زنجانی آپ کی اس وقت کی تصنیف ہے کہ جب آپ کی عمر صرف سولہ (16) سال تھی۔
قبولیت عامہ: آپ کی تصانیف جب روم پہنچیں اور لوگوں کے درس میں مقبول ہوئیں تو ان کے نسخے دام خرچ کرنے پر بھی نہیں ملتے تھے، مجبور أعلامہ شمس الدین کو جمعہ المبارک اور سہ شنبہ یعنی منگل کی معمولی تعطیلوں کے علاوہ دوشنبہ کی تعطیل مدارس میں اور مقرر کرنا پڑی، پس طلبہ ہفتہ میں تین دن کتابیں لکھتے تھے اور چار دن سبق پڑھتے تھے۔
شعر و شاعری: شعر و شاعری آپ کا مستقل مشغلہ نہ تھا، تاہم اس ذوق سے بالکل کورے نہ تھے، بلکہ کبھی کبھی گا ہے بگا ہے اشعار بھی کہتے تھے۔
شرف قبولیت: علامہ تفتازانی” کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان کی تصانیف میں سے پانچ کتابیں: تہذیب المنطق مختصر المعانی ، مطول، شرح عقائد اور تلویح آج تک داخل درس ہیں۔
مسلک: علامہ تفتازانی حنفی تھے یا شافعی؟ اس میں اختلاف ہے۔ صاحب بحرالرائق اور علامہ طحاوی نے آپ کو حنفی کہا ہے اور صاحب کشف نے ”کشف الظنون میں اور ملاحسن ملہی نے حاشیہ مطول“ کی بحث متعلقات فعل میں اور علامہ سیوطی نے آپ کو شافعی کہا ہے مگر آپ کی تلویح دیکھنے سے اور فقہ حنفی کی خدمت کی طرف میلان سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ حنفی المسلک تھے۔
تفتازانی بارگاه تیموریہ میں بادشاہ شجاع بن ظفر کے ہاں آپ کا بہت رسوخ تھا، اس کے بعد بادشاہ تیمور لنگ کے یہاں صدر و صدور مقرر ہو گئے تھے۔ بادشاہ تیمور لنگ آپ کا بہت بڑا معتقد تھا اور آپ کا بہت زیادہ احترام کرتا تھا۔ جب آپ نے ” مطول شرح تلخیص تصنیف کی اور بادشاہ کی خدمت میں پیش کی تو اس نے اس کو بہت پسند کیا اور ایک عرصہ تک قلعہ ہرات کے دروازہ کو اس سے زینت بخشی۔
علامه تفتازانی و جرجانی کے مابین باہمی مناظرے: بادشاہ تیمور لنگ آپ کا بہت قدردان تھا مگر جب آپ کی کوشش سے سید سند جرجانی کی پہنچ بادشاہ تیمور تک ہوگئی تو دونوں کے درمیان معاصرانہ کشمکش جاری ہو گئی ، یہ جرجانی کی احسان فراموشی تھی ورنہ اس احسان کے علاوہ ان کی تصنیفات و تالیفات سے استفادہ کا بھی احسان تھا۔ بہر حال بادشاہ تیمور جرجانی کو ترجیح دینے لگا۔ اور تفتازانی کی تفسیر کشاف کے حاشیہ میں باری تعالیٰ کے فرمان ” أُولئِكَ عَلَى هُدًى من ربهم “ کے اندر استعاره تبعید و تمثیلیہ کے جمع ہونے پر علامہ جرجانی” نے تیموری دربار میں اعتراض کیا یہاں تک کہ بادشاہ کے دربار میں دونوں کا مناظرہ شروع ہوا اور نعمان معتزلی کو اس کا حکم بنایا گیا، اس نے جرجانی” کے قول کو ترجیح دی۔ ایک تو اس وجہ سے کہ سید شریف جرجانی ، علامہ تفتازانی” کی بنسبت فصیح اللسان تھے اور تفتازانی کی زبان میں قدرے لکنت تھی، اور دوسرا اس وجہ سے کہ نعمان معتزلی (جو حکم بنایا گیا تھا) علامہ تفتازانی” سے کسی بناء پر ناراض بھی تھا اس لئے اس نے جرجانی” کے حق میں فیصلہ دے دیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہ نے علامہ تفتازانی پرسید شریف جرجانی کا رتبہ بڑھا دیا۔ اور یہ واقعہ کے791 ھ کا ہے۔
وفات: اس واقعہ سے علامہ تفتازانی” کو بہت صدمہ ہوا آپ تھوڑا ہی عرصہ زندہ رہے حتی کہ ۲۲ محرم الحرام ۷۹۲ ھ میں پیر کے دن سمرقند میں انتقال فرما گئے ۔ اور وہیں آپ کو دفن کر دیا گیا، اس کے بعد 9 جمادی الاولی میں بدھ کے دن مقامِ سرخس کی طرف منتقل کر دیئے گئے۔
تصانیف: آپ کی تصانیف کی مختصر فہرست حسب ذیل ہے: (1) شرح تصریف زنجانی۔ یہ آپ کی سب سے پہلی کتاب ہے جو ماہ شعبان ۳۸ ی ھ میں سولہ (16) سال کی عمر میں لکھی ہے۔ جائے تصنیف مقام ترنم ہے۔ (2) مطول شرح تلخیص ۔ ماہ صفر ۷ ھ کی تصنیف ہے مقام تصنیف شہر ہرات ہے۔ (3) مختصر المعانی۔ یہ ۷۵۶ھ کی تصنیف ہے۔ (4) تلویح۔ یہ نا در کتاب بلا ویترکستان میں ذیقعدہ (۷۵ ھ میں لکھی ہے۔ (5) شرح عقائد نسفیہ ۔ ماہ شعبان ۷۶۸ ھ کی تصنیف ہے۔ (6)
تہذیب المنطق والکلام۔ یہ ماور جب و ہ کی تصنیف ہے۔ اس کے علاوہ آپ کی اور بھی بہت ساری تصانیف ہیں۔