Ijra Sarf o Nahw Urdu pdf Maulana Muhammad Ilyas
نام کتاب: اجراء نحو صرف مع اصطلاحات نحویہ
مصنف: مولانا محمد الیاس
زبان: اردو
موضوع: طریقۃ اجراء نحو صرف
ناشر: ادارۃ الصدیق ڈاھبیل، گجرات
کتاب کا تعارف
اجراء نحو صرف مع اصطلاحات نحویہ ایک بے حد مفید اور مؤثر رسالہ ہے، جو عربی زبان کی فہم و تفہیم میں خاص طور پر نحو و صرف کے عملی استعمال (اجراء) پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس کتابچے میں تقریباً 225 نحوی اصطلاحات کو متون معتبرہ سے ماخوذ کر کے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ طلبہ کو عربی گرامر میں مہارت حاصل ہو۔
کتاب کو چار مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ طلبہ مرحلہ وار زبان فہمی کے قابل ہو سکیں
بکلمات ثلاثہ کی شناخت
اعراب اور وجوہ اعراب کی پہچان
ترکیبی اجزاء کا ربط و سیاق
جملے کی ترکیب اور نوعیت کی تعیین
اجراء سے کیسے فائدہ اٹھائیں؟
اس کتابچے میں اجراء کو چار مرحلوں پر تقسیم کیا گیا ہے:
اس اجراء کے مسائل جیسے جیسے ازبر ہوتے جائیں، شرح ماة عامل قصص النبین، مفید الطالبین یا قرآن کریم میں اس کا اجراء ضرور کر لیا کریں۔ جس قدر مضامین بڑھتے جائیں، سوالات کو بھی بڑھاتے رہیں، اور طریقہ یہ اختیار کریں:
پہلا مرحلہ: بکلمات ثلاثہ کی شناخت
روزانہ کسی مضمون میں سے اہم دو اسم، دو فعل اور دو حرف پر اُن کے سوالات کا جواب دیں؛ کیوں کہ ہر کلمے میں یہ معلوم کرنے کی ضرورت پڑتی ہے کہ اسم ہے، فعل ہے یا حرف؟ معرب ہے یا مبنی؟ منصرف ہے یا غیر منصرف؟ وغیرہ۔
اور اس کے بعد ان کے متعلقات کا علم ضروری ہے، جس کے بغیر تعمیر خالی رہے گی، چناں چہ اس کی تفصیل کے لیے مرحلہ اولیٰ ملاحظہ فرمالیں۔
دوسرا مرحلہ: اعراب اور وجوہ اعراب کی پہچان
یعنی ہر کلمہ معرب کا اعراب کیا ہے؟ اس کا عامل کون ہے؟ اور کلمہ یعنی کلمہ معرب کی وجہ بنا کیا ہے؟ اس کی معلومات کے بغیر حالِ عبارت کے بیابان کو پار کرنا بہت مشکل ہے؛ لہٰذا یہ رنگ و ڈھنگ آپ مرحلہ ثانیہ میں دیکھ لیں گے۔
تیسرا مرحلہ: ترکیبی اجزاء کا ربط اور سیاق و سباق
یعنی ہر کلمے کا اپنے ماقبل و مابعد سے کیا ربط ہے؟ یعنی ہر دو کلموں کے مابین مبتداء و خبر کا ربط ہے، یا موصوف و صفت کا تعلق ہے، یا مضاف و مضاف الیہ کا جوڑ ہے یا پھر عامل و معمول کا؟
اس کے معلوم کرنے کی آسان صورت یہ ہے کہ غور کرو کہ: یہ جملہ اسمیہ ہے یا فعلیہ؟
اگر جملہ اسمیہ ہے تو جملہ اسمیہ میں واقع ہونے والے اجزاء: مبتداء و خبر، موصوف و صفت، مضاف و مضاف الیہ، تمیز، موصول و صلہ، تابع و متبوع، عامل و معمول یا فعل و مفعول میں سے کیا ہے؟
اور اگر جملہ فعلیہ ہے تو اس فعل کا صیغہ معلوم کرنے کے بعد اُس کے فاعل، مفعول بہ، مفعول مطلق وغیرہ کو معلوم کریں۔ یہ تمرین سونے پر سہاگہ کا کام دے گی۔
چوتھا مرحلہ: جملے کی ترکیب اور نوعیت کی تعیین
اب تو صرف آخری ایک منزل رہ گئی ہے، کہ اب جملہ بن گیا ہے، اُس کے ہر کلمے کی بناوٹ اور جملے کے اجزاء کی ترکیبی حیثیت سامنے آگئی ہے، تو اخیر میں اُس جملے کے تمام اجزاء کو جوڑ لیں، اور یہ بتائیں کہ یہ جملے کی کونسی قسم ہے؟
کیا یہ جملہ اسمیہ ہے یا فعلیہ؟ شرط و جزاء، نداء و منادی وغیرہ میں سے کیا ہے؟ اور اس کا محل اعراب کیا ہے؟
پورا اسلوب و طریقہ تو مکمل کتاب اور بالخصوص کتاب میں ذکر کردہ ’اجراء کیسے کریں‘ اجراء کی دل چسپ مثال کو جب ملاحظہ فرمالیں گے تو ان شاء اللہ اچھی طرح سمجھ میں آجائے گا۔
قارئین سے گزارش
قارئین سے گذارش ہے کہ اجراء کے تعلق سے کوئی مفید مشورہ ہو تو ضرور اس سے باخبر کریں گے تاکہ اس پر غور کر کے آئندہ اس کو شاملِ اشاعت کیا جا سکے۔
میں جملہ معاونین کا ممنون و مشکور ہوں جنھوں نے بندہ کا کسی بھی طرح کا تعاون کیا، اللہ رب العزت ہم تمام کے لیے دارین کی سعادت مقدر فرمائے، اور اس معنی حقیر کو ہم تمام کے لیے علوم میں ترقی کا ذریعہ بنائے۔
محمد الیاس گڑھوی
عربی زبان سے ہماری وابستگی کا پس منظر
عربی زبان سے ہماری وابستگی کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ قرآن وحدیث کی زبان ہے، اور ہمارا علمی اثاثہ تقریباً اسی زبان میں محفوظ و مدون ہے، اور ہمارے مدارس اسلامیہ عربیہ کے نصاب میں مروجہ اکثر و بیشتر کتب بھی اسی زبان میں ہیں۔
درس نظامی اور علوم کی تقسیم
مدارس میں اس وقت رائج درس نظامی کی کتابیں دو طرح کی ہیں۔ بعض کتب کا تعلق علوم عالیہ سے ہیں اور بعض کا تعلق علوم آلیہ سے۔ علوم آلیہ کی تعلیم کے ذریعے طلبہ میں صلاحیت و استعداد پختہ کر کے علوم عالیہ کی تعلیم سے طلبہ کو سنوارا جاتا ہے۔
فن نحو و صرف کی مرکزی حیثیت
علوم آلیہ کے حوالے سے جس قدر فنون پڑھائے جاتے ہیں تقریباً سب ہی اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان میں فن نحو و صرف کی حیثیت جسم کے لیے روح کی سی ہے، لیکن ان کی تعلیم کا عمومی رواج یہ ہے کہ قواعد حفظ کروانے پر بہ نسبت اجراء و تمرین کے زیادہ زور دیا جاتا ہے۔
مولانا علی میاں ندوی کا نظریہ
اسی سلسلہ میں مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی کا ارشاد ملاحظہ ہو: ”دراصل قواعد کی تعلیم کا فطری طریقہ یہ ہے کہ ان کو مجرد قواعد و مسائل کی صورت میں طلبہ کو صرف سمجھا اور رٹا نہ دیا جائے؛ بلکہ جملوں اور عملی مثالوں کے ساتھ ان کو ذہن نشین کیا جائے، اور طلبہ سے عملی طور پر ان کا اجراء کیا جائے، قواعد کو زبان سے الگ کر کے نظری طور پر سکھانا صرف متأخرین اہل نحو کی خصوصیت ہے، اہل زبان اس سے نا آشنا ہیں۔“
اجرائی خلا کی تکمیل کی کوشش
بنا بریں اجرائی خلا کو پُر کرنے کے لیے رفیق محترم مولانا الیاس صاحب گڑھوی زید مجدہ نے اجراء النحو والصرف نامی کتاب ترتیب دی ہے، اور اس کے ساتھ ہی بہ زبان عربی اصطلاحات نحویہ کے نام سے نحوی اصطلاحات بھی اس کے ساتھ شامل کر لی گئی ہے؛ تا کہ اہل ذوق کے لیے اس کو یاد کرنا آسان ہو۔
عربی زبان کی جامعیت
جو جامعیت عربی زبان میں ہے یقیناً دیگر زبانیں اُس سے خالی ہیں؛ چناں چہ اُس کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کتابچہ میں یہ تعریفات جس قدر صفحات کو گھیرے ہوئے ہیں، کوئی اور زبان ہوتی تو اس سے کافی زیادہ صفحات درکار ہوتے۔
حضرت قاری صدیق باندوی کی رائے میں اجراء کی اہمیت
فرمایا: جن طلبا کی استعداد نہیں ہے اگر وہ تھوڑی سے محنت پابندی سے کر لیں تو بہت جلد ہی اُن کی استعداد بن سکتی ہے، روزانہ ایک سطر کسی کو پڑھ کر سنایا کریں ، اور ہر ہر لفظ میں صرفی و نحوی اعتبار سے غور کریں کہ : ثلاثی ہے یا رباعی؟ کس باب سے ہے؟ ہفت اقسام میں سے کونسی قسم ہے؟ تعلیل ہوئی ہے یا نہیں؟ پھر نحوی اعتبار سے دیکھیں کہ : عامل ہے یا معمول؟ معمول ہے تو کس کا؟ وغیرہ؛ اس طرح کرنے سے ان شاء اللہ ایک ماہ میں عبارت پڑھنا آجائے گی ، اور رفتہ رفتہ استعداد بھی بن جائے گی۔
اجراء و تمرین کی ضرورت و افادیت
چونکہ اجراء اور تمرین کے بغیر محض قوانین و ضوابط سے فن مضبوط اور پائیدار نہیں رہتا، اسی لیے میرے دل میں بار بار یہ خیال آتا رہا کہ نحو و صرف میں اجراء کے لیے ایک ترتیب و طریقہ کو کتابی شکل دی جائے۔ اس رسالے میں جو طریقہ ذکر کیا گیا ہے، کم از کم میری نظر سے اس ترتیب کی کوئی اور مثال نہیں گزری۔ بالآخر اپنے اساتذہ کی ہدایت اور رفقا کے مشورے سے اللہ کے فضل سے یہ کام مکمل کیا گیا۔
قرآن یا شرح ما أعمل میں اجراء کی تجویز
تنبیہ: اسم، فعل اور حرف سے متعلق عمومی سوالات کے ساتھ طریقہ کار کو بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے تجویز دی جاتی ہے کہ قرآن کریم کے کسی ایک پارے یا شرح ماأعمل میں، اس رسالے میں درج ترتیب کے مطابق اجراء کیا جائے۔ اس سے ان شاء اللہ نحو و صرف کی وحشت جلد دور ہو جائے گی، اور ایسی مناسبت پیدا ہوگی کہ ہر کلمے کو پڑھتے وقت ہی اس کی ساخت اور حقیقت منکشف ہو جائے گی۔ ساتھ ہی ساتھ اس کے اعراب، وجہِ اعراب، اور اس کا سیاق و سباق میں ربط بھی واضح ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔
حضرت تھانوی کے مشورے کی روشنی میں علمی رہنمائی
حضرت تھانویؒ کے مشورے سے “سنجر فی العلوم” کی طرف علمی راہ ہموار ہو جائے گی۔ اور اس غرض سے اجراء نحو و صرف کے ساتھ نحوی اصطلاحات کا ایک مختصر رسالہ الاصطلاحات النحویہ کے نام سے شامل اشاعت کیا گیا ہے۔
الاصطلاحات النحویہ کی خصوصیات
اس کتابچہ میں کئی ایسی نحوی اصطلاحات کی تعریفات بھی شامل کی گئی ہیں جو عام درسی متون میں نہیں ملتیں۔ یہ تعریفات دیگر کتب سے تلاش کر کے شامل کی گئی ہیں تاکہ طلبہ کے لیے ان کا حفظ آسان ہو جائے۔
متون کے حفظ کی روایت اور اہمیت
جیسا کہ حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی (رئیس المجلة “الداعی”) فرماتے ہیں:
اکابر کے زمانے میں ہر علم و فن میں کوئی نہ کوئی متن طلبہ کو ضرور یاد کرایا جاتا تھا؛ اسی لیے علما ذی استعداد پیدا ہوتے تھے۔ عالمِ عرب میں اب تک متون اور مختصرات کے حفظ کا رواج باقی ہے، نہ صرف صرف و نحو؛ بلکہ تاریخ، سیرت اور لسانیات میں بھی مختصرات کے حفظ پر توجہ دی جاتی ہے۔
کن طلبہ کے لیے مفید ہے؟
یہ کتاب ان تمام طلبہ و طالبات کے لیے انتہائی مفید ہے جو
نحو و صرف میں عملی مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں
قرآن و حدیث کے متون کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہتے ہیں
مدارسِ عربیہ کے طلبہ جو درس نظامی کی اعلیٰ کتابوں کی تیاری کر رہے ہیں
وہ حضرات جو صرفی و نحوی اصطلاحات کو حفظ اور یاد رکھنا چاہتے ہیں
کتاب کی خصوصیات
چار مرحلوں پر مشتمل اجراء کا مؤثر طریقہ
تقریباً 225 نحوی تعریفات مع اصطلاحات
درس نظامی کے طلبہ کے لیے نہایت مفید اور آسان فہم
قرآن، شرح ماۃ عامل اور دیگر متون میں اجراء کی مشق کے لیے رہنمائی
حضرت علی میاں ندوی اور قاری صدیق باندوی کے نظریات پر عملی ترتیب
نحوی اصطلاحات کا الگ رسالہ “الاصطلاحات النحویہ” بھی شامل