Tahsheel Irab Ul Quran Mubeen Pashto pdf تسهيل اعراب القران المبين پشتو

Tahsheel Irab Ul Quran Mubeen Pashto pdf تسهيل اعراب القران المبين پشتو

Tahsheel Irab Ul Quran Mubeen Pashto by Mufti Roohul Ameen

PDF Viewer

نام کتاب : تسهيل اعراب القران المبين
زبان : پشتو

مصنف: مفتی روح الامین نوشہروی

موضوع:  ترکیب القرآن (نحو)

ناشر: مکتبۃ امدادیہ رشاد پشاور

اپنے موضوع پر ایک انوکھی اور حیرت انگیز تالیف یعنی ایک ہی جلد میں مکمل قران پاک کی سہل مختصر اور جامع انداز میں نحوی ترکیب جو ایک متوسط طالب علم بھی سمجھ سکے

تسهيل اعراب القران المبين ایک علمی، نادر، اور انوکھی کاوش ہے جو مکمل قرآن کریم کی نحوی ترکیب پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب پشتو زبان میں مرتب کی گئی ہے اور اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں ہر آیت کی نحوی ترکیب آسان، مختصر اور جامع انداز میں بیان کی گئی ہے تاکہ عام طالب علم بھی سہولت سے سمجھ سکے۔ اس قیمتی کتاب کے مصنف مفتی روح الامین نوشہروی ہیں اور اس کے ناشر مکتبۃ امدادیہ رشاد پشاور ہیں۔

فنِ ترکیب القرآن (نحو) کا تعارف

نحو عربی زبان کا ایک اہم ترین فن ہے، جس کی مدد سے جملوں کی ساخت، کلمات کے آپسی تعلقات، اور قواعد کی بنیاد پر کلام کی نحوی ترتیب کو سمجھا جاتا ہے۔ جب ہم قرآن کریم کی آیات کی ترکیب کرتے ہیں تو ہمیں یہ فن مزید تقویت دیتا ہے کہ ہر لفظ اپنی جگہ پر کیوں اور کس مقصد کے لیے آیا ہے۔ تسهيل اعراب القران المبين اسی فن کی بہترین عملی مثال ہے۔

فن ترکیب القرآن کی اہمیت

ترکیب القرآن وہ فن ہے جو قرآن کے فہم کے دروازے کھولتا ہے۔ اس کی مدد سے

 الفاظ کا ربط واضح ہوتا ہے
 جملوں کی اقسام معلوم ہوتی ہیں
 محلِ اعراب کی تعیین ہوتی ہے
 تفسیر اور ترجمہ میں دقتیں ختم ہوتی ہیں

علمائے کرام، مدرسین، اور طلبہ کے لیے تسهيل اعراب القران المبين جیسی کتابیں مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

مصنف کا تعارف

مفتی روح الامین نوشہروی عصر حاضر کے جید علماء میں شمار کیے جاتے ہیں۔ آپ نے علومِ دینیہ میں اعلیٰ مقام حاصل کیا اور خصوصاً نحو و صرف میں گہری بصیرت رکھتے ہیں۔ آپ کی یہ کتاب تسهيل اعراب القران المبين ان کی علمی بصیرت اور تدریسی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

تسهيل اعراب القران المبين کا تعارف

تسهيل اعراب القران المبين ایک جلد پر مشتمل ایسی جامع تالیف ہے جس میں پورے قرآن مجید کی آیات کی نحوی ترکیب انتہائی سادہ اور فہم پذیر انداز میں بیان کی گئی ہے۔ یہ کتاب پشتو زبان میں ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ ایک متوسط درجے کا طالب علم بھی اس سے مکمل استفادہ حاصل کر سکتا ہے۔

طرزِ تالیف اور خصوصیات

منفرد اور جامع اندازِ تحریر
قرآن مجید کی ترکیب میں ایک ایسا اسلوب اپنایا گیا ہے جو سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ سادگی کے ساتھ جامعیت اس کی نمایاں خصوصیت ہے۔

 ہر آیت کی مکمل ترکیب
ہر آیت اور جملے کی باالاستیعاب ترکیب کی گئی ہے، خواہ وہ آیت یا جملہ قرآن مجید میں متعدد بار آیا ہو۔

محلِ اعراب کی وضاحت
تقریباً ہر آیت کے محلِ اعراب کی وضاحت کی گئی ہے کہ آیا وہ جملہ استینافیہ، بیانیہ، حالیہ، اعتراضیہ وغیرہ ہے۔

 واو عاطفہ کی اقسام کی وضاحت
حروفِ عاطفہ میں خاص طور پر واو کے استعمال کی وضاحت کی گئی ہے کہ وہ واو عاطفہ ہے، استینافیہ ہے یا حالیہ۔

 ترکیب کا تسہیل بخش اسلوب
ہر آیت کی ترکیب آیت کے نیچے درج کی گئی ہے تاکہ فہم میں آسانی ہو اور طالبعلم فوری ربط قائم کر سکے۔

 ایک ترکیب پر اکتفا
اگر کسی آیت میں متعدد تراکیب ممکن تھیں تو طلبہ کی سہولت کے پیشِ نظر آسان ترین ترکیب کو اختیار کیا گیا ہے۔ تاہم بعض مقامات پر متعدد تراکیب بھی ذکر کی گئی ہیں۔

مقدرات کا اہتمام
جہاں شرط کے لیے جزا، یا کسی فعل کے لیے مفعول یا متعلق مقدر ہو، ان مقدرات کو واضح کیا گیا ہے تاکہ ترکیب کا حسن اور مفہوم برقرار رہے۔

مقدرات کا طریقہ تحریر
مقدرات کو دو سطروں کے درمیان لکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر گنجائش نہ ہو تو آیت کے نیچے درج کیا گیا ہے۔

 ظروف اور حروفِ جار کی نشاندہی
ظروف اور حروفِ جار ترکیب میں کہاں واقع ہو رہے ہیں، اس کی بھی مکمل نشاندہی کی گئی ہے، جو ایک مشکل اور اہم کام سمجھا جاتا ہے۔

تمام طبقاتِ طلبہ کے لیے مفید
کتاب کی ترتیب، اسلوب، اور اندازِ ترکیب ہر درجے کے طلبہ کے لیے یکساں مفید اور قابلِ فہم ہے۔

قرآن مجید: اللہ تعالیٰ کی آخری مقدس کتاب

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی مقدس اور آخری کتاب ہے، جو سید الکائنات، زینتِ کون و مکان، خاتم المرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے۔ اس کتاب کا نزول آسمان دنیا کی طرف سید الشہور رمضان المبارک میں ہوا ہے۔ اس مقدس کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے لی ہے، لہٰذا بعد از نزول تا قیامت، اس کے مضمون، حروف، اور حرکات و سکنات میں کسی قسم کی تغیر و تبدل ممکن نہیں۔

حفاظتِ قرآن: انسانی کوششوں کا اہم کردار

دنیا چونکہ دار الاسباب ہے، اسباب کے درجے میں الفاظ کی حفاظت حفاظ کرام نے کی، طریقہ تلفظ کی حفاظت قراء کرام نے، اور معانی کی حفاظت مفسرین و فقہاء کرام نے انجام دی۔ اعراب کی حفاظت کا کام علمِ صرف و نحو کے ذریعے ہوا۔ انسان کی سعادت مندی اسی میں ہے کہ وہ اس عظیم الشان، رفیع المرتبت کتاب کے ساتھ تعلق قائم کرے اور اس کی کسی نہ کسی درجے میں خدمت انجام دے۔

ترکیب قرآن پر مختصر، سادہ اور جامع کام

اگرچہ قرآن مجید پر نحو، صرف، اور دیگر پہلوؤں سے تفصیلی و اجمالی کام ہو چکا ہے، لیکن محترم و مکرم مولانا مفتی روح الامین حفظہ اللہ ورعاہ، جو فنِ نحو کے شاہ سوار ہیں، نے قابل صد تحسین انداز میں نہایت سادہ، مختصر، اور جامع طریقے سے قرآن کریم کی ترکیب لکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤلف کی اس عظیم خدمت کو قبول فرمائے اور اسے ان کی نجاتِ آخرت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

اعرابِ قرآن کی ضرورت و اہمیت

اعراب قرآن کی ضرورت اور اہمیت کسی صاحب علم پر مخفی نہیں۔ اعرابِ قرآن کا جاننا جیسے صحتِ تلفظ کے لیے ضروری ہے، ویسے ہی صحتِ معنی کے لیے بھی ایک لازمی اور بنیادی امر ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:

“تَعَلَّمُوا إِعْرَابَ الْقُرْآنِ كَمَا تَعَلَّمُونَ حِفْظَهُ”
یعنی: قرآن کے اعراب کو بھی اسی طرح سیکھو جیسے تم حفظِ قرآن کی تعلیم پاتے ہو۔

قرآن کی صحیح تفسیر و تاویل وہی شخص کر سکتا ہے جسے اعرابِ قرآن پر عبور حاصل ہو۔ علمِ نحو کی تحصیل کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث کا معنی و مفہوم صحیح طرح سے سمجھا جا سکے۔

علمائے کرام کی خدمات اور مفتی صاحب کی کوشش

قرآن مجید ہر پہلو سے ایک مخدوم و مکرم کتاب ہے۔ حاملینِ قرآن نے اس کے کسی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا۔ صرف، نحو، بلاغت، معانی ہر جہت سے قرآن کریم کی خوب خدمت کی گئی ہے۔ مفتی روح الامین صاحب (سابق مدرس جامعہ فاروقیہ کراچی) نے بھی اعرابِ قرآن کے حوالے سے ایک مختصر حاشیہ تحریر فرمایا ہے۔ اس سے پہلے بھی مفتی صاحب کی علمِ نحو پر کئی کتابیں زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر علمی حلقوں میں مقبول ہو چکی ہیں۔

Leave a Reply