Dars e Irshad ul Sarf Wa Nawhmeer Pashto by Maulana Muhammad Qasim
کتاب: درس ارشادالصرف و نحومیر
موضوع :علم الصرف و علم النحو
مصنف: مولانا محمد قاسم صاحب
زبان:اردو
ناشر:ابن عباس
کتاب کا تعارف
درس ارشاد الصرف و نحو میر ایک نہایت معتبر اور علمی کتاب ہے جو مولانا محمد قاسم صاحب کے قلم سے مرتب ہوئی ہے۔ یہ کتاب خاص طور پر علم الصرف اور علم النحو کے موضوعات پر جامع رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
کتاب میں مشکوۃ شریف اور زاد الطالبین جیسے اہم علومِ لغت کے حل شدہ مشکل صیغے بھی شامل کیے گئے ہیں، جو طلبہ اور محققین کے لیے بے حد مفید ثابت ہوتے ہیں۔
علم الصرف و علم النحو کی اہمیت
علم الصرف اور علم النحو، عربی زبان کی ساخت اور قواعد کا بنیادی ستون ہیں۔ ان علوم کے بغیر قرآن و حدیث کی صحیح تلاوت اور مفہوم کی درستی ممکن نہیں۔
درس ارشاد الصرف و نحو میر ان دونوں علوم کو آسان، مفصل اور سمجھنے میں سہل انداز میں بیان کرتی ہے تاکہ طلبہ آسانی سے عربی زبان کے قواعد و صیغے سیکھ سکیں اور اپنی دینی و علمی زندگی میں ان کا فائدہ اٹھا سکیں۔
مصنف کا تعارف
مولانا محمد قاسم صاحب ایک معتبر عالم، مدرس اور محقق ہیں جنہوں نے دینی علوم کی ترویج کے لیے مختلف علمی کتابیں تحریر کی ہیں۔ آپ کا علمی اسلوب عام فہم اور عملی ہے، جو طلبہ کے لیے بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔
کتاب کی خصوصیات
علم الصرف و علم النحو کی جامع تفصیل
مشکوۃ شریف اور زاد الطالبین کے حل شدہ مشکل صیغے شامل
طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لیے مفید مواد
آسان اور قابل فہم زبان
قواعد عربی کی عملی تعلیم
کتاب کے فوائد
درس ارشاد الصرف و نحو میر پڑھنے سے آپ کو ملیں گے
عربی زبان کے قواعد کی مکمل سمجھ
مشکل اور نادر صیغے آسانی سے سمجھنے کا موقع
قرآن و حدیث کی درست تلاوت اور ترجمہ کرنے کی صلاحیت
دینی علوم میں مہارت اور قابلیت میں اضافہ
امتحانات اور تدریسی کاموں کے لیے بہترین مددگار کتاب
معظم ومحترم جامع المعقول والمنقول حضرت اقد مولانا مفتی محمد آمین صاحب مدظلہ العالی شیخ الحدیث جامعة العلوم الاسلامیہ الفرید یہ اسلام آباد کو اللہ تعالیٰ نے تدریس کا ایک خاص ملکہ عطا فرمایا ہے، جس موضوع کو بھی انہوں نے پڑھایا ہے اس کا حق ادا کیا ہے۔ صرف، نحو، منطق اور کتب حدیث خصوصاً بخاری شریف اور ترمذی شریف میں مشکل سے مشکل بات کو تمہید کے ذریعہ بالکل آسان بنا دیتے ہیں۔ حضرت مفتی صاحب کا فیض صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں بلا واسطہ یا بالواسطہ پھیلا ہوا ہے ، ان کے عملی جواہر آج تک انکے شاگردوں کے پاس قلمی نسلوں کی شکل میں موجود ہیں ، انہی قلمی نسخوں میں سے درس ارشاد الصرف ونحو میر بھی ہے جس کی اشاعت کا بندہ نے ارادہ کیا ہے، تا کہ بین مخصوص طبقہ میں نہ رہے اور عمومی طور پر علماء اور طلباء اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا ئیں ، درس کو مفید بنانے کیلئے بندہ نے اس میں ہر قانون کے تحت اس قانون کے موافق صیغوں کا اور آخر میں صیغہائے مختلفہ کا اضافہ بھی کیا ہے تا کہ طلبہ قوانین کو اچھی طرح سمجھ کر کلام عربی میں ان کا اجراء کر سکیں ۔ اسی طرح درس نحو میر میں ہر سبق کے موافق امثلہ کا اضافہ کیا ہے۔ تاکہ طلباء کو قواعد نحویہ کے سمجھنے اور سمجھانے میں آسانی ہو۔ بندہ اپنے ان تمام احباب کا انتہائی ممنون ہے جنہوں نے اس کام میں کسی بھی طرح کا بندہ کے ساتھ تعاون کیا ہے خصوصاً مولانا محمد علی صاحب مدرسہ جامعہ فریدیہ، مولانا ابراہیم جان صاحب، بہار علی متعلم دار العلوم کراچی اور خان بادشاہ متعلم دار العلوم حقانیہ کا۔ مولانامحمد علی صاحب نے کمپوزنگ اور صحیح میں بندہ کا بھر پور ساتھ دیا اور مولانا ابراہیم جان صاحب مدرس و مہتمم مدرسہ ابن عباس نے بندہ کی ہمت بڑھائی اور مفید مشوروں سے نوازا متعلم بہار علی نے اس مسودہ کو صاف کرنے میں بڑی مددفرمائی اور متعلم خان بادشاہ نے اس کام میں سب سے زیادہ سعی و محنت کی اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو جزائے خیر عطاء فرمائے ۔ آمین اس کتاب سے استفادہ کرنے والوں سے درخواست ہے کہ اگر وہ اس کتاب میں کوئی خوبی دیکھیں تو نہ صرف بندہ کو اپنے مخصوص دعاووں میں یادرکھیں بلکہ خاص طور پر میرے استاذ شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد امین صاحب کو بھی اپنی دعاؤوں میں یادرکھیں اس لئے کہ بندے کی یہ حقیری کاوش انہی کی محنت و کوشش کا نتیجہ ہے۔ اگر اس کتاب میں کوئی غلطی نظر آئے تو بندہ کو آگاہ فرما کر منون فرمائیں تا کہ آئندہ ایڈیشن میں اس کی تصحیح ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کتاب کو قبولیت عامہ عطاء فرمائے اور بندہ اور بندہ کے والدین و اسا تذہ کرام کے لئے اس کو صدقہ جاریہ بنائے ۔ آمین ثم آمین، وباللہ التوفیق
بندہ محمد قاسم خادم طلبہ، مدرسہ ابن عباس ، تخت بھائی ضلع مردان
طريقه تعليم
حضرات مدرسین کی خدمت عالیہ میں گزارش ہے کہ طلبہ سے اچھی طرح مقدمة الصرف یاد کرا کے ضَرَبَ يَضْرِبُ کی پوری گردان بلا معنی یاد کرائیں، اس کے بعد ان سب صیغوں کے معانی پڑھائیں، جب وہ اچھی طرح یاد ہو جا ئیں تو پھر اس باب کی بنا ئیں طلبہ سے یاد کرائیں ، اس کے بعد صحیح کے باقی ابواب یاد کرائیں ، اس کے بعد مثلاثی مجرد کے قوانین حفظ کرائیں، نیز ہر ایک قانون یاد کرانے کے بعد اسی قانون کے مطابق طلبہ سے ایسے صیغے نکلوائیں جن میں وہ قانون جاری ہورہا ہوتا کہ خوب اجراء ہو جائے ، جب ثلاثی مجرد کے قوانین ختم ہو جائیں تو اس کے بعد ثلاثی مجرد کے چھ باب طلبہ سے پڑھوائیں، اور جس جس صیغے میں قانون جاری ہوتا ہو اس میں قانون جاری کروائیں ، اس کے بعد ثلاثی مزید کے قوانین یاد کرائیں اور ہر قانون کے مطابق صیغے نکالیں ،اس کے بعد ثلاثی مزید کے ایک ایک باب پر ثلاثی مزید کے قوانین کا اجراء کروائیں ، اسی طرح مثال، اجوف، ناقص، مہموز اور مضاعف میں سے ہر ایک کے سب سے پہلے قوانین حفظ کرا کے اس کے بعد ان ابواب پر قوانین جاری کروائیں، نیز ہر ایک قانون کے مطابق طلبہ سے صیغے ضرور نکلوائیں۔ صیغے نکالنے کا طریقہ
صیغوں میں مندرجہ ذیل امور پوچھی جائیں:
سه اقسام معلوم کرنا کہ یہ اسم فعل اور حرف میں سے کیا ہے؟
اربعہ اقسام معلوم کرنا کہ ثلاثی مجرد، مزید دور باقی مجرد، مزید میں سے کیا ہے؟
ہفت اقسام معلوم کرنا کہ یہ یح، اجوف، ناقص وغیرہ میں سے کیا ہے؟
دوازدہ اقسام معلوم کرنا کہ یہ اسم اور فعل میں سے کیا ہے؟
وزن معلوم کرنا کہ اس صیغے کا وزن کیا ہے؟
بچوں معلوم کرنا کہ یہ ثلاثی مجرد، مزید در باقی مجرد، مزید کے کس باب سے ہے؟
مکمل صیغہ معلوم کرنا جس میں ، وزن ، بچوں ، سہ اقسام ، اربعہ اقسام، ہفت اقسام، دوازدہ اقسام سارے آجا ئیں ۔
جاری شدہ قوانین کی نشاندہی کرنا۔ مثلا و عدن یه سه اقسام میں فعل ہے، اربعہ اقسام میں ثلاثی مجرد ہے، ہفت اقسام میں مثال وادی ہے، دوازدہ اقسام میں فعل ماضی ہے۔ اس کا وزن فَعَلَنَ ہے، ہمچوں ضَرَبْنَ ہے اور اس پر ضَرَبْنَ کا قانون
نمبر ۱ – ۲ جاری ہوا ہے۔
اب پورا صیغہ اس طرح نکالیں گے
وَعَدْنَ بروزن فَعَلَنَ ہمچوں ضَرَبْنَ ، صیغہ جمع مونث غائب فعل ماضی معلوم ثلاثی مجرد مثال واؤی از باب فَعَلَ يَفْعِلُ ، اس پر ضَرَبْنَ کا قانون نمبر ۲ جاری ہوا ہے اس لئے کہ یہ اصل میں وَعَدَتْنَ تھا“