Islam ki Qanoon e Wirasat pdf by Molana Shaukat Ali Qasmi
کتاب : اسلام کی قانون وراثت
تالیف: مولانا شوکت علی قاسمی
موضوع : علم المیراث
زبان: اردو
اسلام کی قانونِ وراثت مولانا شوکت علی قاسمی کی نہایت عمدہ اور عام فہم اردو زبان میں لکھی گئی ایک مفید کتاب ہے جس میں علم المیراث یعنی اسلامی وراثتی نظام کو وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ، خطباء، ائمہ مساجد، اور عام مسلمانوں کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔
علم المیراث کا تعارف
علم المیراث اسلامی فقہ کا وہ شعبہ ہے جو انسان کے انتقال کے بعد اس کی جائیداد اور مال و متاع کی تقسیم کے شرعی اصولوں پر روشنی ڈالتا ہے۔ اسے علم الفرائض بھی کہا جاتا ہے، اور یہ قرآن و سنت کے واضح احکامات پر مبنی علم ہے۔
علم المیراث کی اہمیت
قرآن سے براہِ راست ماخوذ علم
علم المیراث ان علوم میں سے ہے جن کی تفصیل خود قرآن میں آیتوں کی شکل میں موجود ہے (سورہ النساء: 11، 12، 176)۔
عدل و انصاف کا ضامن
اگر وراثت شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کی جائے تو معاشرے میں عدل، صلح اور محبت قائم رہتی ہے۔
دین و دنیا کی اصلاح کا ذریعہ
علم المیراث دنیاوی جھگڑوں اور قتل جیسے جرائم سے نجات دیتا ہے اور مرنے کے بعد کی ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے۔
مصنف کا تعارف
مولانا شوکت علی قاسمی ایک جید عالم، فقیہ اور مصنف ہیں جنہوں نے فقہی موضوعات پر کئی وقیع کتب تحریر کی ہیں۔ علم المیراث پر آپ کی یہ کتاب نہایت جامع، سلیس اور مدلل ہے جو قرآن و سنت کے دلائل پر مبنی ہے۔ ان کا انداز تدریسی بھی ہے اور اصلاحی بھی۔
اسلام کی قانونِ وراثت کا تعارف
اسلام کی قانونِ وراثت ایک ایسی کتاب ہے جو علم المیراث کی بنیادوں سے لے کر عملی اطلاق تک مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ یہ کتاب قرآن، حدیث اور فقہی اقوال کی روشنی میں لکھنے کے ساتھ ساتھ جدید معاشرتی مسائل پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔
اسلام کی قانونِ وراثت کی اہمیت
ہر مسلمان کے لیے لازمی مطالعہ
ہر مرد و عورت اس مسئلے سے کبھی نہ کبھی ضرور متاثر ہوتا ہے، اس لیے یہ کتاب ان سب کے لیے مفید ہے۔
قانونی رہنمائی کا بہترین ذریعہ
جائیداد کی تقسیم سے پیدا ہونے والے جھگڑوں کا شرعی حل اس کتاب میں موجود ہے۔
جدید اور آسان انداز
کتاب کو سادہ، آسان اور عام فہم انداز میں تحریر کیا گیا ہے تاکہ ہر قاری باآسانی سمجھ سکے۔
اسلام کی قانونِ وراثت کی خصوصیات
سادہ اور واضح زبان
مشکل فقہی اصطلاحات کے بجائے سادہ اردو کا استعمال۔
مکمل فقہی حوالہ جات
ہر حکم کے ساتھ قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کے معتبر حوالہ جات۔
مسائلِ میراث کی وضاحت
مختلف رشتہ داروں کے حصے، حالات، مثالوں کے ساتھ۔
عملی رہنمائی
حقیقی زندگی میں جائیداد کی تقسیم کے اصول اور نمونے۔
طلباء اور علماء کے لیے فوائد
دینی مدارس کے طلباء کے لیے
میراث کے اصول سیکھنے کے لیے آسان اور مربوط ابتدائی کتاب۔
علماء و مفتیان کے لیے
فتووں میں رہنمائی کے لیے قابل اعتماد کتاب۔
عوام الناس کے لیے
ذاتی، گھریلو یا معاشرتی سطح پر وراثتی معاملات کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے لیے بہترین ذریعہ۔
عصری تعلیم یافتہ طلبہ اور علم میراث
اسلام کا قانون وراثت ضرور حاصل کر چکا ہوتا ہے۔ چونکہ عصری علوم میں مثلاً میٹرک تک اس کے دماغ جدید ریاضی اور کلکولیٹر طریقہ حساب کے ساتھ مانوس ہو چکے ہوتے ہیں، پس جب قدیم ریاضی طریقہ کار کے مطابق ضرب تقسیم وغیرہ جیسی حسابات کی بات آتی ہے، تو نفسیاتی طور پر طالبعلم کو دماغ ایک معروف و مانوس راستے سے ہٹا کر دوسرے رخ پر ڈالنے میں بڑی مشقت اٹھانا پڑتی ہے۔
غیر عصری طلبہ کی برتری
یہی وجہ ہے کہ ماضی کے علاوہ اب بھی جو طلباء عصری علوم سے مکمل طور پر ناواقف ہوتے ہیں، ان کو بنسبت باقی طلباء کے سراجی کے اصول وقواعد آسانی سے یاد ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ میراث کے ماہر بن جاتے ہیں۔ اگرچہ ایسے لوگوں کی ریاضیاتی سمجھ صرف میراث تک ہی محدود ہوتی ہے، چنانچہ ایسا شخص اگرچہ میراث کا ایک مشکل ترین مسئلہ تو حل کر دیتا ہے، لیکن وہ زندگی کے دیگر مسائل اسی ریاضی کی مدد سے حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
جدید تعلیم یافتہ طلبہ کی عمومی قابلیت
کیونکہ ریاضی کے پرانے اصولوں سے ایک طالب علم کا ان تحقیقی نشو و نما آسانی کے ساتھ حاصل نہیں کر پاتا۔ اس کے برعکس جدید ریاضی کو پڑھنے والا ایک میٹرک کا طالبعلم بہت سے عام مسائل اپنے سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لہٰذا ان کو علم میراث سمجھنے کیلئے ایک اشارہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
زیر نظر کتاب کی بنیادی خصوصیات
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ہے کہ علماء کرام نے آج تک علم میراث کے تفصیلی اور آسان انداز میں شروحات تحریر کی ہیں، مگر ان سب نے سراجی کے اصول وقواعد کو اپنائے رکھا ہے، ناچیز یہ کہنے کی جسارت کبھی نہیں کر سکتا اور نہ جدید طرز میں اس حقیر کاوش کا یہ مقصد ہے کہ ان کی طرف غلطی یا ناقص کی نسبت کی جائے۔
اردو زبان میں سراجی سے ہٹ کر کوشش
البتہ اتنا عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ چونکہ اردو زبان میں ابھی سراجی کو اسی طرز پر حل کر کے میراث کو سمجھانے کا کافی کام ہو چکا ہے اور اب مزید اسی طرز پر تحریرات کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اس لیے راقم نے مناسب یہ سمجھا کہ اس کو عصری ریاضی اصولوں پر بھی حل کیا جائے، تا کہ ایک طالب علم پرانے اور اصل طریقے کے ساتھ ساتھ جدید اور آسان قواعد سے بھی علم میراث کو سمجھ سکے۔
سراجی کے اصول میں الجھنے والے طلبہ کیلئے آسانی
اگر کوئی طالبعلم ایسا ہو جس کیلئے سراجی کے اصول وقواعد سمجھنا مشکل ہو، تو اس کے لیے بھی میراث سمجھنے کا ایک آسان راستہ میسر ہو۔ اس کتاب میں سراجی کا اتباع ضرور کیا گیا ہے تا کہ عمومی طور پر کتاب کے قاری سراجی کے تمام مسائل سمجھ سکیں، مگر سراجی کتاب یا اس کے کسی حصے کی عبارت کو بالفاظہ حل کرنے کی مطلقاً کوشش نہیں کی گئی ہے۔
کتاب سے فائدہ اٹھانے والے افراد
لہٰذا ہماری یہ کتاب ان حضرات کے لیے زیادہ مفید ہے:
- جو سراجی تو پڑھ چکے ہیں مگر مسائل کو حل کرنے یا مشکل مسائل حل کرنے میں اس کو سراجی کا اتباع کرنا مشکل ہو۔
- وہ شخص جو سراجی میں مسئلہ نکالنے یا کسی تقسیم میں پریشانی محسوس کرتا ہو۔
- وہ طالبعلم جو سراجی کا طالبعلم تو نہیں ہے مگر علم المیراث سیکھنا چاہتا ہے۔
- وہ حضرات جو اس کتاب کو پڑھ کر سراجی کے متن سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اگر سراجی علیحدہ طور پر باقاعدگی سے نہیں پڑھتے تو انہیں صرف ترجمہ و ترکیب کی سمجھ نہیں آئے گی۔
لہٰذا ایسے حضرات اس کتاب کے ساتھ ساتھ علیحدہ طور پر کسی ماہر استاد سے سراجی بھی پڑھ لیجئے۔
کتاب میں اختیار کردہ مخصوص جدت
زیر نظر کتاب میں جس جدت کو اختیار کیا گیا ہے وہ محض تقسیم میراث کے طریقہ کار تک ہی محدود ہے۔ قاری کو مسائل میراث بالکل سراجی کی طرح ذہن نشین ہوتے رہیں گے۔ یعنی قاری کتاب کے ابتدائی ابحاث کا مطالعہ کرتے ہوئے کچھ راستہ بالکل سراجی کے متوازی طے کرتے رہیں گے، اور یہی حصہ دراصل مسائل میراث پر مشتمل ہے۔
سراجی اور اعشاری نظام کا امتزاج
مگر چلتے چلتے جب تصحیح مسئلہ کے پاس پہنچیں گے تو وہاں پر قاری کا راستہ صحیح مسئلہ کی خاطر “کسوری نظام سے مڑ کر” اعشاری نظام کی طرف پھر جائے گا۔ بس یہی فرق ہے جو کہ اسے متداول طریقہ سراجی سے ممتاز کرتا ہے، اس کے علاوہ اور کوئی جدت اس کے اندر نہیں پائی جاتی۔
کتاب کا خلاصہ
خلاصہ یہ کہ کتاب کا مطالعہ کرنے سے ان شاء اللہ الرحمن ہر عام و خاص کو علم میراث کی سمجھ نہایت آسانی سے آجائے گی۔
علم میراث میں جدت اور اس کا فائدہ
علم میراث میں بعض ریاضی دان کچھ جدید طریقہ کار کو متعارف کرا کر اس کے مطابق مسائل کی تخریج کرتے ہیں، مگر وہ طرز خالصتاً یعنی ہر اعتبار سے جدید ہے۔ اسے سمجھ کر یک شخص ایک بڑے سے بڑے خاندان کے افراد کے درمیان میراث تو بالکل صحیح اور درست تقسیم کر دیتا ہے، مگر اس شخص کو وہ علمی اور استدلالی سکون حاصل نہیں ہو سکتا جسے شریعت نے بیان کیا ہے۔
جدید طریقہ کار کا خطرہ
اس طرز جدید کے موجد سے اگر تھوڑی دیر کے لیے اعتماد ہٹا کر اسے مجہول فرض کیا جائے تو محض اس جدید طریقے میں ایسی کوئی قوت نہیں پائی جاتی جس سے آپ یہ اطمینان پا سکیں کہ واقعی یہ وراثت شرعی طور پر ٹھیک تقسیم ہو گئی یا نہیں؟
جدید طریقہ کا مشروط فائدہ
ہاں، اگر آپ مسئلے کو علمی طور پر سمجھنے کے بعد اس طریقہ جدیدہ کے ذریعے حل کرنا چاہیں گے تو یہ ایک سہولت ضرور ہے، مگر یہاں بھی وہی بات عود کر آئے گی کہ آپ سے سمجھنے یا پوچھنے والے کا آپ پر آنکھیں بند کر کے اعتماد پایا جاتا ہو۔
کمپیوٹر سافٹ ویئر اور اس کی خامیاں
اس کے علاوہ آج کل تقسیم میراث کے کمپیوٹر سافٹ ویئرز بھی بنائے گئے ہیں، جن کا طریقہ کار یوں ہوتا ہے کہ کمپیوٹر آن کر کے اسی سافٹ ویئر کو چلایا جاتا ہے، جس میں میت کا نام پھر اس کے وارثوں کے نام درج کرائے جاتے ہیں، اور Enter دبا کر نتیجہ فوراً حاصل کیا جاتا ہے۔
سافٹ ویئرز پر اندھا اعتماد
اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ اس صورت میں آپ کے پاس کیا ضمانت ہے کہ مذکورہ بالا نتیجہ درست ہو گا یا غلط؟ ما سوائے اس کے کہ یا تو آپ اپنے طور پر حسابی قواعد سے حصص نکال کر کمپیوٹر کے اس نتیجے کا پڑتال کریں، اور یا یہ کہ آپ کا سافٹ ویئر بنانے والے انجینئر پر 100 فیصد اعتماد ہو۔
مفتی اور عالم کیلئے اعتماد کافی نہیں
پڑتال والے طریقے میں بھی کوئی خاص فائدہ اس جدید طرز میں نظر نہیں آ رہا کیونکہ پڑتال کرنے کے لیے پھر معروف طریقے کو سیکھنا ضروری ہے۔ دوسرا طریقہ یعنی اعتماد تو نہایت آسان ہے، مگر ایک عالم اور مفتی کے لیے محض اعتماد کوئی شرعی دلیل نہیں ہے۔
سافٹ ویئر کی افادیت صرف سہولت تک
یہ پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ اسے ایک سہولت کے طور پر استعمال کر کے اپنے کام کی پڑتال نہایت آسانی کے ساتھ کی جا سکتی ہے۔
زیر نظر کتاب میں حقیقی جدت
زیر نظر کتاب میں طرز جدید میں مسائل کی سمجھ اور مسئلے کا حل، تصحیح اور تقسیم وراثت پر سراجی ہی کے انداز میں 100 فیصد علم اور اطمینان بھی حاصل ہو جاتا ہے، جو کہ ایک عالم اور مفتی کے لیے ضروری ہے اور صحیح مسئلہ اور تقسیم ترکہ وغیرہ میں پیچیدہ ترین صورتوں کا نہایت سہل انداز میں حل بھی ہو جاتا ہے۔
مؤدبانہ گزارش
ناچیز نے اپنے طور پر علم میراث کو سراجی کا طرز برقرار رکھتے ہوئے مسائل اور تقسیم ترکہ کو سہل ترین بنانے کی خاطر یہ حقیر کوشش کرتے ہوئے ایک جدید طرز کا اس میدان میں اضافہ کر دیا ہے۔ اگر علم میراث کے شائقین پر اس کے کیا اثرات پڑیں گے؟ اور یہ ناچیز اس کاوش میں کہاں تک کامیاب ہوا ہے؟ یہ تو آپ پڑھ کر ہی بتا سکیں گے۔
اہل علم سے دعاؤں اور اصلاح کی درخواست
تاہم اہل علم کی خدمت میں مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس حوالے سے اگر کسی قسم کی لغزش نظر آئے تو اس فقیر کو ضرور مطلع فرمائیں تاکہ آئندہ اشاعت میں اس کی اصلاح کی جا سکے۔
شوکت علی قاسمی