Miras o Wasiyat ke Sharai Zawabit pdf by Dr. Abdul Hay Abro
کتاب : میراث ووصیت کے شرعی ضوابط
تالیف: ڈاکٹر عبدالحئ ابڑو
موضوع : علم المیراث
زبان: اردو
ناشر: شریعۃ اکیڈمی اسلام آباد
کتاب کا تعارف
میراث و وصیت کے شرعی ضوابط ایک نہایت اہم اور معیاری علمی کتاب ہے، جو اسلامی قانونِ وراثت اور وصیت جیسے دقیق و فقہی موضوعات پر روشنی ڈالتی ہے۔ ڈاکٹر عبدالحئی ابڑو نے قرآن و سنت، فقہی اصول، ائمہ اربعہ کے اقوال اور معاصر قانونی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اس موضوع پر محققانہ انداز میں قلم اٹھایا ہے۔
کتاب کی نمایاں خصوصیات
مکمل شرعی رہنمائی: کتاب میں میراث اور وصیت کے تمام بنیادی و تفصیلی مسائل پر شرعی دلائل کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے۔
جدید و قدیم تقابلی جائزہ: کتاب میں موجودہ دور کے چیلنجز، عدالتی فیصلے، اور قوانین کے ساتھ شرعی احکام کا تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔
آسان زبان اور ترتیب: اگرچہ موضوع علمی ہے، لیکن اس کی زبان عام فہم رکھی گئی ہے تاکہ ہر ذی شعور فرد مستفید ہو سکے۔
ریسرچ پر مبنی اسلوب: کتاب کی تحریر تحقیقی انداز کی حامل ہے، جس میں ہر مسئلے کی وضاحت حوالہ جات اور فقہی اقوال سے کی گئی ہے۔
شریعۃ اکیڈمی اسلام آباد کا علمی کارنامہ
یہ کتاب شریعۃ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے تحت شائع ہوئی ہے، جو پاکستان میں اسلامی قانون، فقہ اسلامی، اور شریعت سے متعلقہ تعلیم و تحقیق کا معروف ادارہ ہے۔ یہ اکیڈمی اسلامی قانون کے فروغ اور جدید تقاضوں کے مطابق علمی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
مؤلف کا تعارف
ڈاکٹر عبدالحئی ابڑو ایک ممتاز اسلامی اسکالر اور محقق ہیں، جنہیں اسلامی فقہ، قانون، اور تحقیق میں مہارت حاصل ہے۔ وہ کئی علمی مقالات و کتب کے مصنف ہیں اور شریعۃ اکیڈمی سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ ان کی یہ کتاب ان کے علمی مقام و مرتبے کی روشن دلیل ہے۔
کتاب میں شامل موضوعات
وصیت کے شرعی اصول
میراث کی تقسیم کے ضوابط
وارثوں کے اقسام
غیر وارثین کی وصیت کا حکم
جدید مالی معاہدات اور ان پر میراث کے اثرات
پاکستانی قوانین میں اسلامی وراثت کا اطلاق
عورتوں اور بچوں کے وراثتی حقوق
کن لوگوں کے لیے یہ کتاب مفید ہے؟
علماء و مفتیان کرام
وکلاء و قانون دان
مدارس و جامعات کے طلبہ
سول سوسائٹی و ریسرچ اسکالرز
وہ تمام افراد جو اسلامی وراثتی نظام کو سمجھنا چاہتے ہیں
کتاب کی اشاعت کا محرک: ایک عام فہم، جامع کتاب کی ضرورت
میراث و وصیت کے شرعی ضوابط پر مشتمل اکثر کتب پیچیدہ اصطلاحات اور قدیم اسلوب میں لکھی گئی ہیں، جو عوام کے لیے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ضرورت اس سے مختلف ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ میراث کے احکام پر مشتمل ایک ایسی جامع اور عام فہم کتاب ہو، جس میں میراث کے تمام مشکل اور دقیق مباحث کو مروجہ اسلوب کے مطابق خوبی سے آسان زبان میں بیان کیا گیا ہو۔
زیر نظر کتاب: ایک مربوط اور مفید علمی کاوش
زیر نظر کتاب اسی ضرورت کو پیش نظر رکھ کر مرتب کی گئی ہے۔ کتاب کے مؤلف گزشتہ تیس سال سے اسلامی فقہ کے استاد اور محقق کے طور پر یونیورسٹی میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ فقہ الاکرہ کا ایک حصہ ہونے کے ناطے علم میراث مؤلف کی خصوصی دلچسپی کا موضوع ہے۔ یہ کتاب مؤلف کے برسوں کے تدریسی تجربے کا نچوڑ قرار دی جا سکتی ہے، جس میں طلبہ کی نفسیات اور رائج محاورے کو سامنے رکھتے ہوئے نقشوں اور جداول کی مدد سے میراث کے جملہ مباحث کو ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔
کتاب کی ساخت: دو جامع حصے
کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے
حصہ اول:
میراث کے مباحث پر مشتمل ہے، جس میں
- اسلام کے تصورِ میراث کا دیگر ادیان و مذاہب کے تصورِ میراث کے ساتھ تقابلی جائزہ
- وراثت کے اسباب و موانع
- ذوی الفروض، عصبات، دادا کا حصہ، حجب
- ورثا کے عددی اصول، عول، رد اور ذوی الارحام وغیرہ
کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
حصہ دوم:
وصیت کے احکام پر مشتمل ہے، جس میں وصیت کے تمام پہلوؤں کا اختصار اور مناسب تفصیل کے ساتھ احاطہ کیا گیا ہے۔
جدید مسائل کا شافی بیان
ماضی قریب میں وصیت اور میراث کے بعض معرکہ آرا سمجھے جانے والے مسائل:
- مثلاً مرد کا دو گنا حصہ
- یتیم پوتے کی وراثت
وغیرہ کو شافی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ نیز، وراثت سے متعلق ملک میں مروجہ قوانین اور اہل تشیع کا نقطہ نظر بھی سامنے لایا گیا ہے۔
کتاب کے متوقع قارئین اور افادیت
امید ہے یہ کاوش:
- مدارس و جامعات کے طلبہ
- علماے کرام
- ارکانِ عدلیہ و قانون
- اور میراث سے دلچسپی رکھنے والے قارئین
کے لیے مفید، اور تعلیمی اداروں کے نصابِ میراث کے لیے ایک موزوں انتخاب ثابت ہوگی۔
والله ولي التوفيق والقبول
شعبہ تحقیق و مطبوعات
وراثت: مختلف مذاہب اور نظام ہائے قانون کا تقابلی جائزہ
تعارف
زندگی کے اہم مسائل میں ایک مسئلہ مرنے والے کے مال و جائداد کی تقسیم یعنی وراثت کا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ انسانیت ہمیشہ اس معاملے میں افراط و تفریط کا شکار رہی ہے۔ اسلام نے اس اہم مسئلے میں ایک معتدل، عادلانہ اور جامع نظام پیش کیا ہے جس کی بدولت دولت کا ارتکاز محدود ہاتھوں تک نہیں رہتا بلکہ گردش میں رہتی ہے۔
اسلامی نظامِ وراثت کی خصوصیات
اسلامی قانون وراثت، جسے “علم الفرائض” کہا جاتا ہے، اس اصول پر قائم ہے کہ ہر مرنے والے کا مال اس کے قریبی اور مستحق رشتہ داروں میں منصفانہ انداز سے تقسیم ہو۔ اس نظام میں نہ تو فرد کی ذاتی ملکیت ختم کی جاتی ہے، نہ ہی دولت کو مخصوص ہاتھوں میں محدود رہنے دیا جاتا ہے۔ زکوٰۃ، صدقات، حقوق العباد، حلال ذرائع آمدن اور وراثت کی تقسیم جیسے احکامات اسلام کے معاشی عدل کا مظہر ہیں۔
دیگر مذاہب اور اقوام کے قوانینِ وراثت کا خلاصہ:
یہودیت میں
- وراثت صرف بیٹے کو ملتی ہے۔
- بیٹی، بیوہ، والدین، شوہر اور دیگر رشتہ دار محروم ہوتے ہیں۔
- سب سے بڑے بیٹے کو دوگنا حصہ ملتا ہے۔
- بیوہ کو ترکہ سے مکمل طور پر محروم رکھا جاتا ہے۔
- اگر کوئی یہودی بت پرست ہو جائے تو وہ ترکہ کا وارث نہیں ہوتا۔
نصرانیت (مسیحیت)
- ابتدائی طور پر توراتی احکام پر عمل کیا جاتا تھا۔
- بعد میں رومی و یونانی قوانین کی پیروی شروع ہوئی۔
- وراثت کے معاملے میں فرقوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔
رومی قانون
- ابتدا میں وراثت صرف وصیت سے متعلق تھی۔
- بعد میں رشتہ داری (قرابت) کو بنیاد بنایا گیا۔
- عورتوں اور مردوں میں فرق ختم کیا گیا۔
- قریبی وارث کی موجودگی میں دور والے محروم ہو جاتے ہیں۔
- میاں بیوی ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔
یونانی قانون
- وراثت میں بیٹی کا حصہ نہیں تھا، صرف بیٹے وارث ہوتے تھے۔
- بیٹی صرف نگراں ہوتی تھی، مالک نہیں بن سکتی تھی۔
- نکاح کے وقت جہیز کو بیٹی کی وراثت کا بدل سمجھا جاتا تھا۔
ہندومت
- صرف بڑے بیٹے کو وراثت کا حق حاصل ہوتا ہے۔
- عورتوں کا ترکہ میں کوئی حصہ نہیں۔
6. مغربی قوانین (یورپ و امریکہ):
- زیادہ تر رومی و یونانی قوانین کا چربہ ہیں۔
- فرانسیسی قانون: بیٹے، پوتے کو ترجیح۔ بیٹی محروم ہو سکتی ہے۔
- جرمن قانون: زوجین کو ترکے میں حصہ، لیکن قریبی رشتہ دار کی ترجیح۔
- انگریزی قانون: پہلوٹا بیٹا مقدم، بیٹی محروم۔
- روس (کمیونزم):
- ابتدائی طور پر وراثت کا تصور نہیں تھا۔
- بعد میں بیوی، اولاد، والدین، منہ بولا بیٹا اور بھائی بہن وارث قرار پائے۔
- قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور والے محروم ہوتے ہیں۔
اسلامی نظام کی برتری
ان تمام نظاموں کے مقابلے میں اسلام کا نظامِ وراثت انتہائی متوازن، فطری اور منصفانہ ہے۔ اس میں عورت، مرد، بیٹا، بیٹی، والدین، شوہر، بیوی، سب کے مناسب حقوق متعین کیے گئے ہیں۔ نہ کسی کو مکمل محروم کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی کو بلاوجہ ترجیح دی گئی ہے۔ اسلام کا یہ عدل و توازن ہی انسانی معاشرے میں سکون اور معاشی عدل کی ضمانت ہے۔