تعارف شیخ القرآن مولانا محمد طیب طاہری حفظہ اللہ یوں کہا جائے تو بلکل بھی بے جا نہ ہوگا کہ عصر حاضر میں قرآن مجید کا ترجمہ سیکھنے والے مرد و زن دونوں میں سب سے زیادہ شاگرد مولانا محمد طیب طاہری کے ہوں گے، اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس میں صرف ان کے پیروکار نہیں بلکہ مخالف نظریہ کے لوگ بھی شامل ہیں اور اسکا مشاہدہ بارہا ہوچکا ہے ـ مولانا صاحب تقریبا تیس سال سے ہر سال رمضان المبارک اور روزانہ کی بنیاد پر خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کے گاؤں پنج پیر میں اپنے والد کے قائم کردہ مدرسہ دارالقرآن پنج پیر میں درسِ قرآن دیتے ہیں ـ پنج پیر نامی یہ گاؤں اپنے ضلع سے زیادہ مشہور ہے ـ تنظیم اشاعت التوحید والسنۃ کے امیر مولانا محمد طیب صاحب سے لوگوں کے اختلافات لاکھ سہی، لیکن اس پر فتن دور میں بھی انہوں نے قرآن مجید کے درس کو جو تسلسل دیا اور لوگوں کو کلام اللہ سے آگاہ کیا یقینا قابل تعریف اور مشکل کام ہے ـ مولانا کے والد محترم مولانا محمد طاہر پنج پیری رحمہ اللہ نے اس شاندار عمل کی بنیاد رکھی اور خود بھی تقریبا 25 سال درس قرآن دیا اور اسی دوران مولانا صاحب نے انہی سے قرآن، حدیث اور فنون کا درس بھی حاصل کیا ـ مولانا محمد طیب صاحب ایک با اثر اور مالامال شخصیت ہیں، صوابی میں “ہِل ویو“ کے نام سے ان کا ایک ہوٹل ہے جو شہر سے دور ایک پہاڑی پر بنایا گیا ہے اور وہاں لوگ کھانا کھانے تو کیا بلکہ سیر و تفریح کیلئے بھی جاتے ہیں ـ اسکے علاوہ گاڑیوں کا کاروبار بھی کرتے ہیں اور بیرون ملک تجارتی سفر بھی کرتے ہیں ـ مولانا صاحب نے کئی امتحانات کا سامنا کیا ہے، گرفتار بھی ہوئے، مالی تنگیاں بھی آئیں لیکن ایک بڑا امتحان جو ان پر دو سال قبل آیا وہ یہ کہ ان کا اکلوتا بیٹا محمد یمان ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوا ـ اگر آپ صاحب اولاد ہیں تو خیال میں ہی اپنے اٹھارہ بیس سالہ اکلوتے بیٹے کو مرتا دیکھیں اور اس امتحان کا اندازہ لگائیں ـ حال ہی میں مولانا صاحب نے اطیب الکلام کے نام سے آسان پشتو ترجمۂ قرآن بھی تالیف کیا ہے جو شائع ہوچکا ہے ـ کچھ عرصے سے مولانا طیب صاحب کو ایک سیاسی شخصیت کی نظر سے بھی دیکھا جارہا ہے تاہم وہ غیر سیاسی شخص ہیں نہ ہی خود کبھی سیٹ کیلئے امیدوار بنے اور نہ ہی ان کی تنظیم کا کوئی رسمی شخص انتخابات کیلئے میدان میں نکلے ہیں ـ پنج پیر کے ترجمۂ قرآن سے فیضیاب ہونے والے آج پاکستان، افغانستان اور عرب ممالک میں بھی قرآن کا درس دیتے ہیں اور یہ تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے ـ اللہ رب العزۃ مولانا صاحب کی یہ کاوشیں قبول فرمائیں اور دین اسلام کی ترقی کی خاطر اسے اور بھی پھیلائے ـ آمین





