Al Shaikh Abd ul Salam Rustami الشیخ عبدالسلام رستمی

Al Shaikh Abd ul Salam Rustami الشیخ عبدالسلام رستمی

الشیخ عبدالسلام رستمی کا تعارف

الشیخ عبدالسلام رستمی بن مولانا عبدالروف بن مولانا قدرت اللہ بن مولانا سید محمد شاہ ۔ آپ ۱۳۵۴ھ – رمضان ۱۹۳۶ء کورستم ضلع مردان علاقہ سدھوم میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے جد امجد پشین صوبہ بلوچستان سے یہاں آۓ تھے ۔ موضع رستم میں پورا محلہ آپ کے خاندان کا ہے جو پولیس سٹیشن رستم کے قریب ہے ۔ آپ کے والد تھانہ مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیتے تھے ۔مولا نا میاں گل جان( ساکن گڑیالہ مردان تلمیذ شاه انورشاہ کشمیری) آپ کے ماموں تھے ۔ آپ چار سال کی عمر میں مدرسہ فیض الاسلام رستم میں داخل ہوۓ ۔ آپ نے پانچویں جماعت تک تعلیم یہاں حاصل کی اور ساتھ ہی اردو ، فارسی ، ناظر ہ وتر جمہ قرآن کریم بھی یہاں پڑھا ۔ اس میں تقریبا چھ سال صرف ہوۓ ۔ اس زمانے میں مدرسہ میں شعبہ علوم عربی شروع کیا گیا اور مولانا عبدالرب شہباز گڑھی ،مولا نا عبدالرب گبرالی اور مولا نا ،عبدالرزاق ادمینوی مدرسین مقرر کئے گئے ۔ ۱۹۵۳ء میں آپ نے اپنے ماموں مولانا میاں گل جان (تلمیذ شاہ انور شاہ کشمیری) سے کچھ کتابیں پڑھیں ۔۱۹۵۳ء ہی میں مولا نا عبدالہادی شاہ منصوری سے قرآن کریم کی تفسیر پڑھی ۔ ۱۹۵۲ء میں مولانا غلام اللہ خان سے دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی میں تفسیر قرآن پڑھی ۔ شعبان و رمضان ۱۹۵۷ءکو اپنے گاؤں رستم کے تھانہ مسجد سے تفسیر قرآن کی تدریس کا آغاز کیا۔ ۱۹۵۷ء سے پہلے آپ نے درس نظامی کی کتا میں اپنے علاقے میں پڑھی تھیں ۔ ۱۹۵۷ء میں دورہ حدیث کے لئے جامعہ اسلامیہ اکوڑہ خٹک آۓ اور مولا نا عبدالرحمن بہبودی اور مولا نا عبدالشکور بہبودی ( فاضلین سہارن پور ) سے حدیث پڑھ کر سند حاصل کی ۔ ۱۹۵۹ء میں شیخ القرآن مولا نا محمد طاہر پنج پیری سے تفسیر القرآن پڑھی اور اس کے بعد ان کی قائم کردہ جماعت اشاعۃ التوحید والسنۃ سے منسلک ہو گئے ۔الشیخ عبدالسلام رستمی کے اساتذہ میں مولانا غلام اللہ خان راولپنڈی ، مولا نا محمد طاہر پنج پیری ،مولا نا عبدالہادی شاہ منصوری عرف کو کا مولوی صاحب ، مولانا میاں گل جان ( گڑیالہ مردان ) ،مولا نا عبدالرازق بن محمد نعمان ادینوی ، مولا نا عبدالرب ( شہباز گڑھی ) ، مولا نا محب اللہ گبرالی ( سوات ) مولا نا عبدالرحمن بہبودی اور مولا نا عبدالشکور بہبودی ( فاضلین سہارن پور ) شامل ہیں ۔ فراغت کے بعد گاؤں علی (رستم) کے مولا نا عبدالرزاق کی بیٹی سے شادی ہوئی ۔ ۱۹۵۸ء میں مدرسہ فیض الاسلام کے مہتمم کی درخواست پر آپ دار العلوم اسلامیہ عر بیہ ر ستم میں اپنے اساتذہ کے ساتھ تدریس کا آغاز کیا۔ پھر اپنے اساتذہ اور علاقہ کے علماء سے اختلافات پیدا ہوۓ تو اسی مدرسے سے استعفادے دیا۔ ۱۹۶۰ء میں مدرسہ اسلامیہ عربی میانوالی ( پنجاب ) میں مدرس مقرر ہوۓ اور دوسال تدریس جاری رکھی ۔ ۱۹۶۱ء کے اواخر میں علاقہ کے بزرگ شخصیات اور مہتمم مدرسہ کی درخواست پر دوبارہ دار العلوم اسلامی عربی رستم چلے آۓ لیکن اس بار مخالفت نے مزید شدت اختیار کی تو الشیخ عبدالسلام رستمی نے ڈیڑھ سال تدریس کی اور مستعفی ہو گئے ۔ بعدازاں رفقاء کے مشورہ سے ایک گھر میں مدرسے کا آغاز کیا جس کا نام تعلیم القرآن رکھا ۔۱۹۶۳ء میں مدرسہ محمود یہ قلعہ دیدارسنگھ ( گوجرانوالہ ) میں مدرس مقرر ہوۓ اور تین سال تدریس کی ۔ اس دوران آپ نے پنجاب بورڈ سے مولوی فاضل کا امتحان بھی پاس کیا۔ شعبان و رمضان ۱۳۸۵ ھ = ۱۹۶۵ء میں اپنے گاؤں میں تفسیر قرآن پڑھانے کے بعد رفقاء درس کی کوششوں سے اگلے سال ۱۹۶۶ءکو مسجد شمشاد خان میں دارالعلوم تعلیم القرآن لاشاعت التوحید والسنہ کی بنیادرکھی ۔ چھ سال یہاں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ ازاں بعد بونیر روڈ رستم میں ایک مدرسے کی بنیاد رکھی گئی اور اس کے بعد مردان روڈ پر ایک دوسرے مدرسے کی بنیاد بھی رکھی گئی ۔۱۹۸۲ء میں مولا نا غلام اللہ خان کی وفات کے بعد دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار(راولپنڈی میں دورہ تفسیر القرآن پڑھایا۔موضع سپین کانی ضلع صوابی میں آپ اور مولوی حمد اللہ جان دا جوی بن مولا نا عبدالحکیم کے مابین دعا ء بعدالسنہ بالہیۃ الاجتماعية المروجہ کے موضوع پر مناظرہ ہوا تھا ۔ اس مناظرے کا ثالث مولانا نورالحق شیووی تھے ۔مولا نا سلطان غنی عارف نے اس مناظرے کی روئیداد’ دودھ کا دودھ پانی کا پانی روئیداد مناظرہ سپین کانی“ کے نام سے مرتب کیا۔ آپ ابتداء میں حنفیت سے تعلق رکھتے تھے لیکن مولا نا عبدالعزیز نورستانی سے مصالحت کے بعد مسلک اہل حدیث اختیار کی ۔ ۱۹۸۹ء میں الشیخ عبدالسلام رستمی کے جامعہ کے قریب آپ کے مخالفین نے اپنا اجتماع مقرر کیا ۔ واپسی پر جب اجتماع کے لوگ جلوس کی شکل میں جامعہ کے قریب پہنچ تو بعض شر پسندوں نے مخالفین پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے ان میں سے دوافراد مارے گئے اور دس زخمی ہو گئے ۔ آپ کے بیٹے اور ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور آپ بھی سنٹرل جیل مردان بھیج دے گئے ۔ جیل میں آپ نے تحفتہ السجن لکھی اور تفسیر احسن الکلام کا آغاز کیا ۔ بالآخر صوبہ کے اس وقت کے وزیر اعلی میر افضل خان کی کوششوں سے آپ مقدمات سے بری ہو کر جیل سے آزاد ہوۓ اور مخالفین سے اس شرط پر صلح ہوئی کہ رستم میں بونیر روڈ پر واقع مدر سے میں آپ تدریس نہیں کر یں گے۔ رہائی کے بعد آپ نے بونیر روڈ رستم میں تدریس چھوڑ کر رستم میں مردان روڈ پر واقع مدرسے میں تدریس شروع کی ۔اس مدرسے میں آپ نے دارالاطفال الاسلامی کے نام سے مڈل تک سکول بھی قائم کیا اور ساتھ ہی حفظ وتجوید کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ ۱۹۹۱ء میں آپ پشاور چلے گئے اور دلہ زاک روڈ پر واقع موضع سعید آباد میں رہائش اختیار کی اور تدریس کا آغاز کیا ۔ تین دن کے لئے آپ رستم آتے اور یہاں صحیح بخاری تدریس کرتے اور قرآن کریم کی تفسیرپڑھاتے۔ اس کے بعد آپ نے سیفن چوک سے آگے کوہاٹ روڈ پر واقع موضع بڈھ بیر میں جامعہ عر بیہ لا شاعت التوحید والسنۃ السنۃ جس کا سنگ بنیاد ۱۹۸۹ء میں رکھا گیا تھا میں تدریس کا آغاز کیا ۔ آپ نے اس جامعہ میں ۱۹۹۲ء میں دورہ تفسیر کا آغاز کیا۔آپ ہر سال شعبان ورمضان کے مہینے میں دورہ تفسیر القرآن پڑھاتے تھے ۔ الشیخ عبدالسلام رستمی ابتداء میں جماعت اشاعت التوحید والسنۃ کے صوبائی امیر تھے ۔ اپنے شیخ مولا نا محمد طاہر پنج پیری کی وفات کے بعد اسی جماعت سے کچھ اختلافات پیدا ہوۓ ۔ رنجشیں بڑھ گئیں اس لئے آپ نے 1993ء میں ایک تنظیم بنام جمعیۃ اشاعت التوحید والسنہ علی منہاج السلف الصالحین کی بنیاد رکھی اور اس کے امیر مقرر ہوۓ ۔ پھر طلباء کی ذیلی تنظیم “طلبا ءاشاعت علی منہاج السلف “کے نام سے قائم کی ۔ آپ نے” سیرۃ السلف” کے نام سے ایک ماہوار مجلہ بھی جاری کیا لیکن بعد میں حکومت نے اس کی اشاعت پر پابندی لگائی ۔ آپ نے شاہ لطیف ٹاؤن کراچی میں بھی” جامعۃ الاسلامیۃ السلفیہ” قائم کی جس کے مدیر آپ کے تلمیذ مولانا محب اللہ ہیں۔کئی سالوں کی رنجش کے بعد بالآخر آپ کے تعلقات مولا نا محمد طیب پنج پیری اور جماعت اشاعۃ التوحیدوالسنۃ کے اراکین سے پھر استوار ہو گئے اور رنجشیں ختم ہوئیں ۔ آپ نے کئی کتابیں لکھیں جن میں درج ذیل کتابیں زیادہ مشہور ہیں : تفسیر احسن الکلام الموسوعة القرآنية الفرائد الربانية والفوائد القرآنية ( ويليه المنهاج المستقيم للدعوة فی القرآن الکریم ) ، التبیان فی تفسیر ام القرآن ، لطائف القرآن فی تفسیر ام القرآن ، تنشيط الاذہان مقدمة التبیان فی اصول تفسیر القرآن، الدرر المنظومات في ربط السور والآيات ، توجیہ الناظرین الی مقاصد الكتاب المبین ، رہنماۓ قرآن ، الخطبات القرآنية في الاصول الايمانية ، بدرة الصلاة في مستخرجات احادیث المشکوۃ ،انکار حدیث سے انکار قرآن تک، تحفتہ السجن ، مونزد حديث په رنڑا کی ،سہام الصياد على قلوب الحساد، سيرة ازم من فتنة سوشلزم ، احسن الندى لر دالمودودی ، احسن الندى فی الردعلی من انتقد النبی والصحابی، مخمسات في لطائف سورۃ الفاتحة ، المسائل المتفرقة بالسوال والجواب ، ترتيب الجهاد بمخالفۃ اہل الالحاد، الدور المفتون فی احوال السجون ( یہ کتاب محمد ایوب کیسٹ والے نے مولا نا عبدالسلام رستمی کی ایک انٹرویو سے مرتب کیا ہے )ابوخد یجہ فضل اکبر نے آپ کی تفسیر سے ایک کتاب بنام “امثال القرآ” مرتب کی ہے۔آپ نے موضع پلوسی میں غیر مقلدین کے خلاف ایک تقریر کی تھی جسے عبداللہ توحیدی نے ”غیر مقلد مین کا آپریشن کے نام سے قلم بند کیا اورنوجوانان اشاعۃ التوحید والسنۃ کراچی نے اسے شائع کیا۔ مولا نا صاحب موصوف نے سہام الصیا وعلی قلوب الحساد کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں جماعتی اختلافات کی وجوہات تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں ۔ مولا نا امدادالحق شیووی بن مولانا نورالحق شیوی نے مولا نا عبدالسلام رستمی سے ایک انٹر ویولیا تھا جسے بعد میں آپ نے “انٹرویو” کے نام سے شائع کیا ۔ اسی طرح پرمولی کے قاضی حبیب الحق نے شیخ سید عبدالسلام رستمی کی کتاب “التبیان فی تفسیر ام القرآن” کے بارے میں ایک تنقیدی کتاب لکھی تھی جس کے جواب میں مولانا امدادالحق شیوی نے ”الترجمان  لمدائح التبیان لکھی۔ مولا نا خان بادشاہ بن شندی ( اوچت کرم ایجنسی ) نے آپ کے خلاف تین کتابیں سبیل السلام لغو ایۃ المولوی عبدالسلام ، تدقیق الکلام علی تحقیقات المولوی عبدالسلام اور السیف الشہیر علی من ترک المذہب لدرا ہم والدنانیرلکھیں ۔مولا نا امدادالحق شیووی نے اپنی کتابوں “قوموں کی عروج وزوال میں درہم و دینار کا کردار” اور “الامدادالمزید” میں اور مولا نا عبد المقدس با چاجلبئی نے اپنی کتاب “کشف اللثام الحثيث عن وجوہ بعض اہل الحدیث” میں مولا نا عبدالسلام رستمی کی زندگی کے بعض واقعات کی طرف اشارے کئے ہیں۔ آپ کی سوانح سے متعلق مولا نا سیدالا برار ہاشمی رستمی نے ایک کتاب مسمی ٰ به “تحرير ما غبر من حيوة المعمر لمن اعتبر” – يعنى :د شيخ القرآن والحديث علامه سید عبدالسلام رستمی د ژوند حالات پشتو زبان میں لکھی ۔مولا نا عبدالمعبود بن خیر محمد (راقم الحروف کے نا نا ) ، ڈاکٹر ابوسلمان مولا نا سراج الاسلام حنیف (راقم الحروف کے ماموں ) ، مولا نا حافظ لطف الرحمن عرف آدینه حافظ صاحب، مولانا حفیظ الرحمن بن عبدالحنان بیلیانی ہزاروی ،مولا نا عبدالحئی بن عزیز الرحمن عرف مشر استاذ ( گدون صوابی ) ،مولا نا عمر حیات ڈیروی بن سوھنا خان ،مولا نا مصباح الدین ملک پوری بونیری ،مولانا قاضی یونس انور ( خطیب جامع مسجد شہداءلاہور ) ، مولا نا محب اللہ (مدیر جامعۃ الاسلامیہ السلفیہ کراچی ،مولانا نصیر الحق شیووی ، مولا نا امیرحسین باچا ( جلبئی صوابی ) ،مولا نا نور حبیب عارف (راقم الحروف کےخسر ) ،مولانا قاری فیض الرحمن اسعد بن قاضی فضل الرحیم ادبیوی (راقم الحروف کے چچا ) ، ابوخد یجہ فضل اکبر ،مولا نا فضل ربی ادینوی بن مولا نا عبدالغفور ، مولا نا محمد نعیم حقانی شیووی ،مولانا سیدالا برار رستمی اور مولانا سلمان حنیف بن ڈاکٹر سراج الاسلام حنیف (راقم الحروف کے ماموں زاد ) وغیرہ آپ کے تلامذہ میں سے ہیں۔ مفتی ابوسعید ،مولا نا عبدالبصیر ،مولا نا عبد الصبور ، زکریا اور عبدالباسط آپ کے بیٹے ہیں ۔ آخری چند سال آپ بستر علالت پر پڑے رہے اور بروز منگل بتاریخ ۱۷ اکتوبر ۲۰۱۴ء = ۲۴ محرم ۱۴۳۶ھ وفات پاگئے ۔ آپ کا پہلا نماز جنازہ مولا نا عبدالعزیز نورستانی کے زیر امامت رات سوا آٹھ بجے مدرس تعلیم القرآن سیفن چوک بڈھ بیر پشاور ادا کی گئی ۔راقم الحروف نے بھی اس جنازہ میں شرکت کی ۔ آپ کا دوسرا جنازہ آپ کے شاگردمولا نا عبدالشکور ( خال ، دیر ) نے پڑھایا۔ نوٹ: ہفت روزہ صحیفہ اہل حدیث میں مولا نا عبد السلام رستمی کی تاریخ وفات ۷ امئی ۲۰۱۴ لکھی گئی ہے جو درست نہیں ۔ الشیخ عبدالسلام رستمی کا شہرہ آفاق تفسیر ” احسن الکلام” اب پلے سٹور سے انسٹال کریں وہ بھی سورتوں کے حساب سے انسٹال کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مشاہیر علما ۱۳۱:46 ،تفسیر مطالعہ قرآن مجید از ڈاکٹر سراج الاسلام حنیف ۱: ۴۵ ہفت روزہ صحیفہ اہل حدیث کراچی جلد: ٬۹۷شماره: 16،۴ صفر ۱۴۳۶ھ = ۹ دسمبر ۲۰۱۴ ، صفحہ: ۲۷، ماہنامہ السعید اوگئی ، مانسہرہ ( ہزارہ ) جلد : ۱۵ شماره : ۱۲ صفر ۱۴۳۶ھ = دسمبر ۲۰۱۴ ، صفحہ:۳۱)

(حوالہ کتاب )ماخوذ  از: تذکرہ  علماء خیبر پختونخواہ صفحہ نمبر -240


Tafseer Ahsanul Kalam Pashto Al Shaikh Abdul Salam Rustami
تفسیر احسن الکلام پشتو از الشیخ عبدالسلام رستمیؒ


Leave a Reply