Aghraz Kafia Sharah Kafia by Mufti Muhammad Yousaf اغراض کافیہ شرح کافیہ

Aghraz Kafia Sharah Kafia by Mufti Muhammad Yousaf اغراض کافیہ شرح کافیہ

کافیہ کی اہمیت

درس نظامی کی مشہور و معروف کتاب ” کا فیہ ” کوئی محتاج تعارف نہیں ، اسے ہر دور کے علماء نے قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے، اور دیگر کتب نحو کے مقابلے میں یہ بے مثال اور لازوال کتاب ہے ، اس میں موجود علمی مواد کو طشت از بام کرنے کی غرض سے اس کی شروحات و حواشی لکھنے کا سلسلہ تواتر سے جاری ہے، کتاب مذکور کی اس اہمیت کے بنیادی اسباب ان گنت ہیں ، تا ہم سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مصنف کتاب علامہ ابن حاجب نے اس مختصر رسالہ میں غیر متناہی مسائل نحو کے ایک عمیق سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی سعی جمیل کی ہے ، اور مسائل کے اس سمندر کو جن مختصر عبارات کا جامہ پہنانے کی مصنف علیہ الرحمہ نے کوشش کی وہ انہیں کا خاصہ اور خصہ ہے۔ مفتی محمد یوسف القادری صاحب میرے دیرینہ دوست اندریسی ساتھی اور ہم مشرب ہیں ، دوران تدریس میں سب سے زیادہ انہی کی تدریس سے ہی متاثر رہا ہوں، صرف، نحو، فقہ، اصول فقہ منطق اور اصول حدیث جنب یہ پڑھا رہے ہوتے تھے تو میں پس دیوار یا کسی جگہ کا انتخاب کر کے ان کی تدریس کی سماعت کا شرف حاصل کرتا تھا بعض اوقات بعض علوم کے بعض مسائل کی توضیح و تشریح سن کر دلی مسرت اور خوشی ہوتی اور وقتا فوقتا میں اپنے ان جذبات کا ان کے سامنے اظہار بھی کرتا رہا ہوں۔ مفتی محمد یوسف القادری صاحب ! متعدد علوم و فنون کی عربی کتب کی عمدہ شروحات تصنیف کر کے علمی حلقوں میں داد تحسین حاصل کر چکے ہیں ، اس وقت میرے ہاتھوں میں ان کی نئی تصنیف ”اغراض کافیہ ہے ، جس کے پیچیدہ مسائل کو انتہائی عرق ریزی سے عام فہم بنا کر انہوں نے طلباء اور مدرسین کے ہاتھوں میں کچی پکائی روٹی تھمائی ہے۔ علا مہ ابن حاجب کی کتاب کا فیہ فن نحو کی مشہور و معروف اور معرکۃ الآراء کتاب ہے، درس نظامی میں جس کی ضرورت واہمیت سے انکار ارباب دانش کے لئے ناممکن ہے کیونکہ اس کے بغیر استعداد و صلاحیت کا ملا حاصل نہیں ہو سکتی لیکن یہ علم محو کی مشکل ترین کتاب ہے جس سے طلباء کی اکثریت مکمل فائدہ حاصل کرنے سے قاصر رہتی ہے ، اس کی مختلف شروح ہونے کے باوجود کما حقہ اس کو مجھنا اور سمجھانا آسان نہیں تھا، اس لئے اس کتاب کی اردو زبان مین ایسی شرح کی ضرورت تھی جو اس کے جمیع مغلقات کے حل کے ساتھ ساتھ شرح جامی کو سمجھنے کے لئے تمہید ہو۔ اس شرح کی تین خوبیاں بطورِ خاص نمایاں ہیں۔

اغراض کافیہ شرح کافیہ کہ اہمیت

 اول- ایسے اختصار سے جو گل فہم ہو، اور ایسے طوالت سے جو دردسر ہوا جتناب کیا گیا ہے۔

دوم- ہر ہر عبارت کی تشریح یوں ظاہر وباہر ہے کہ مراد مصنف بالکل واضح ہو جائے۔

 سوم- طلبہ کی زبوں حالی، ذہنی پستی اور حصول علم میں عدم دلچسپی کو مد نظر رکھ کر مکنہ حد تک اسے عام فہم بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ کام بہت مشکل تھا کیونکہ اس لئے با صلاحیت اور تجربہ کار استاذ کی ضرورت تھی ، حمد للہ یہ کام احسن طریقے سے ابو اولیس مفتی محمد یوسف القادری نے سر انجام دیا ، کہ اب پورے وثوق سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس شرح کے ہوتے ہوئے طلباء کو یا کسی مدرس کو کافیہ کے حل کے لئے کسی اور شرح کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔

مصنف کے دیگر تصنیفات

مفتی محمد یوسف القادری صاحب نہ صرف کمال درجے کے مدرس ہیں، بلکہ عظیم المرتبت مدرس ہونے ساتھ ساتھ ، کمال درجے کے مقرر اور بے باک اور نڈر مصنف ہیں تھوڑے ہی عرصے میں ان کی متعدد کتب زیور طباعت سے آراستہ ہو کر ارباب علم و دانش سے خراج تحسین حاصل کر چکی ہیں، اور کچھ کتابت و طباعت کے مراحل میں ہیں مفتی محمد یوسف القادری صاحب جامعہ نظامیہ کے قابل ترین مدرسین میں شمار ہوتے ہیں علم نحو، بلاغت ، منطق ، فقہ تفسیر اور اصول حدیث کی بڑی کتب میں اپنی قابلیت کا سکہ جما چکے ہیں،  جن میں سے کچھ کے نام یہ ہیں۔اغراض التهذيب شرح اشرح تهذيب ،فوزو فلاح لحل نور الايضاح ،شرح فيض الادب ،اغراض شرح نخبة الفكر ،ضياء التركيب شرح شرح مائة عامل ،اغراض سلم العلوم ،اغراض كافيه ، اغراض جامی عزیز جناب حضرت علامہ مفتی محمد یوسف القادری صاحب زید مجدہ کی تحریر کردہ کافیہ کی اردو شرح اغراض کا فیہ جامع اور مفید ہے ، جس طرح علم نحو پر لکھی جانے والی کتب میں کافیہ کو اختصار اور جامعیت میں بلند و بالا مقام حاصل ہے ایسے ہی حضرت نے اردو شرح لکھتے ہوئے اختصار اور جامعیت کا جو انوکھا اور منفرد انداز اختیار کیا ہے اس کو دیکھ کر امید ہے کہ یہ شرح بھی بلند مرتبہ پر فائز ہوگی۔ کافیہ کی شرح پر اٹھنے والے اعتراضات کے سلیس اور سہل انداز میں دیئے گئے جوابات مغلق عبارات ، لا جواب تشریحات اور حشو و تطویل سے مبرا ہونے میں یہ شرح دیگر شروحات سے نہایت ہی منفرد اور ممتاز ہے۔

با ادب با نصیب

مقولہ مشہور ہے کہ با ادب با نصیب ! کہ ادب والے کے نصیب اچھے ہوتے ہیں، یہ ایک حقیقت ہے جسے ہر کوئی مانتا ہے، کوئی بھی اس کا انکار نہیں کرتا، اسی طرح یہ بات بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ کہ ہر عمل کا صلہ مؤخر ہو سکتا ہے لیکن ادب یہ ایک ایسا عمل ہے جس کا کچھ نہ کچھ صلہ دنیا میں ضرور ملتا ہے۔ میرے زمانہ طالب علمی میں ایک بار میری کلاس کے تمام طلبہ ایک استاذ کے خلاف جمع ہو کر ناظم تعلیمات صاحب کی بارگاہ میں پہنچےتا کہ انہیں اس استاذ گرامی کی شکایت کر کے اپنا سبق کسی اور استاذ کی طرف منتقل کرایا جا سکے، قبلہ ناظم تعلیمات صاحب (ہمارے استاذ گرامی ہیں اللہ انہیں عمر خضر اور صحت و سلامتی عطا فرمائے) نے تمام طلباء سے پوچھا کہ تم تمام لوگ ان کی کار کردگی سے غیر مطمئن ہو؟ تو اس سوال کا جواب میرے تمام ساتھیوں نے اثبات میں دیا کہ جی ہاں! ہمیں وہ مطمئن نہیں کر رہے۔ جب اپنے ایک استاذ گرامی کی تذلیل اور تو ہین ہوتے ہوئے میں نے دیکھی تو مجھ سے رہا نہ گیا میں نے اپنے تمام ساتھیوں کی بھر پور مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب غلط کہہ رہے ہیں استاذ گرامی بہت اچھا پڑھاتے ہیں مگر یہ لوگ ہی توجہ نہیں کرتے، بس پھر کیا تھا قبلہ ناظم تعلیمات صاحب نے میری بات پر فیصلہ سنا دیا کہ اگر پڑھنا ہے تو انہیں کے پاس پڑھو، ورنہ یہ بات کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اللہ نے آج مجھے جتنی بھی کامیابیاں عطا کی ہیں کہ میری تدریسی صلاحیت ؟ میرے تمام ساتھیوں سے نمایاں رہی تصنیفی اور تالیفی میدان میں میرے تمام ساتھی مجھ سے پیچھے رہ گئے ، میرے انداز تقریر اور مواد تقریر پر میرے سینئر ساتھی مجھے دار دیتے ہیں، یہ تمام کی تمام اس ادب کی بدولت ہیں جسے میں نے بڑی ہمت سے بجالا یا تھا۔ پس اس لئے میری تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے استاذ کی بے ادبی نہ کریں ، امام اعظم ابو حنیفہ مہینے کے بارےمیں آتا ہے کہ ایک بار ایک اجتماع میں بیٹھے ہوئے پاس ایک عیسائی کے گزرنے پراد یا کھڑے ہو گئے کسی نے عرض کی! اے امام عالی مقام ! یہ تو غیر مسلم ہے عیسائی ہے آپ اس کے ادب میں کھڑے ہو گئے ہیں؟ آپ نے فرمایا جیسا ایسا بھی ہے مگر میرا استاذ ہے کہ میں نے ایک بار اس سے ایک مسئلہ پوچھا تھا، تو عزتیں اور مقامات بڑوں کو بڑا سمجھنے اور ان کا ادب کرنے سے ملتے ہیں ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ میری اس کاوش کو قبول فرمائے اسے میرے لئے ، میرے والدین کے لئے اور میرے جمیع اساتذہ و معاونین کے لیے ذریعہ نجات بنائے ۔ آمین ثم آمین ابواویس مفتی محمد يوسف القادرى