Dars e Irshad Ul Sarf Sharah Irshad Ul Sarf درس ارشاد الصرف

Dars e Irshad Ul Sarf Sharah Irshad Ul Sarf درس ارشاد الصرف شرح ارشاد الصرف
PDF Viewer

کتاب کا تعارف

درس ارشاد الصرف مولانا مفتی احمد ممتاز کی ایک اہم تصنیف ہے، جس کا مقصد علوم دینیہ کے طلبہ کو صرف و نحو کے قواعد و اصول سے آگاہ کرنا ہے۔ یہ کتاب طلبہ کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے جو انہیں قرآن و سنت کی بہتر سمجھ بوجھ فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ارشاد الصرف کی اہمیت

علوم و فنون میں صرف و نحو کی کیا حیثیت اور کتنی ضرورت ہے، یہ بات تقریباً کسی طالبعلم سے بھی مخفی نہیں ہے۔ ہر طالب علم جانتا ہے کہ قرآن و سنت، تفسیر و حدیث، فقہ و تاریخ کو کماحقہ سمجھنے کے لیے صرف و نحو کے قواعد و اصول کو سمجھنا اور یاد رکھنا از حد ضروری ہے۔

کیوں صرف و نحو ضروری ہے؟

علوم دینیہ کے ہر طالب علم پر یہ لازم ہے کہ قرآن و سنت کے علوم و معارف کو سمجھنے کے لیے دو چیزیں بہت اہم ہیں:

الفاظ اور کلمات کی شناخت اور حیثیت اور ان کا باہمی ربط: الفاظ اور کلمات کی شناخت، ان کی حیثیت اور باہمی ربط کا نام صرف و نحو ہے۔

قرآن و سنت کے مفاہیم میں اقوالِ سلف صالحین رحمہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور موافقت۔

چودہ سو سال میں جتنے بھی مفسرین، محدثین، فقہاء عظام و آئمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ گزرے ہیں یا جو حضرات ابھی موجود ہیں، ان سب کی دینی خدمات، تفقہ فی الدین اور رسوخ فی العلم نہ تو کسی کالج یا یونیورسٹی کا مرہونِ احسان ہے اور نہ ہی کسی پروفیسر یا کسی ڈاکٹر کے مذہبی لیکچر کا نتیجہ، بلکہ ان حضرات کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث بننے کا جو اعزاز اور شرف حاصل ہے، وہ علوم نبوت کو لسان نبوت کے آئینہ میں حاصل کرنے کا نتیجہ ہے۔

تجدد پسندوں کی گمراہی

آج کے تجدد پسند جو دین کو نئے پیرائے میں متعارف کرانا چاہتے ہیں اور ان کے علاوہ دیگر وہ لوگ جو قرآن و سنت کی فہم میں ٹھوکر کھا کر بزعم خود مجدد بن کر گھنٹوں لیکچر دیتے ہیں، خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ ان حضرات کی گمراہی اور بے راہ روی کے دو ہی وجوہ ہیں:

قرآن و سنت کے علوم و معارف کو سمجھنے کے لیے اردو کی چند کتب پر اکتفا کر کے صرف و نحو اور عربی قواعد سے بے نیاز ہو کر بزعم خود عالم اور مجتہد بن بیٹھنا۔

اگر کسی نے زحمت کر کے صرف و نحو کی کوئی معمولی شد بد حاصل بھی کی لیکن اس نے قرآن و سنت کی فہم میں حضرات سلف صالحین رحمہم اللہ تعالیٰ کی مخالفت کی۔

آج ٹی وی چینلوں پر اور ابلاغ کے دیگر ذرائع پر مسلمانوں کو لیکچر دینے والوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو اس شعر کے مصداق ہیں: “خود تو ڈوبے ہیں صنم کو بھی لے ڈوبے ساقی”

مولانا مفتی احمد ممتاز کی کاوشیں

برادرم مکرم و استاذ محترم حضرت مولانا مفتی احمد ممتاز صاحب مدظلہ العالی کی ہمیشہ یہ کاوش رہی ہے کہ اُمت مسلمہ کو قرآن و سنت کا صحیح اور ٹھوس علم دیا جائے اور ان کے عمل کو اقوال و اعمال سلف صالحین رحمہم اللہ کے سانچے میں ڈھالا جائے۔ آپ کی زیر نظر تصنیف ‘درس ارشاد الصرف’ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ عزیز طلبہ کرام کو چاہیے کہ درسِ ارشاد الصرف سے کامل استفادہ کر کے صرف میں کمال حاصل کریں تا کہ آپ مستقبل میں قرآن و سنت کی بہترین خدمت کے ساتھ ساتھ ہر باطل گروہ کا بھی ٹھوس اور مدلل تعاقب کر سکیں۔