Download Nahw Meer Urdu pdf by Maulana Muhammad Javaid Qasmi
نحو میر اردو مع تمرین و تعلیق از مولانا محمد جاوید قاسمی
صاحب نحو میر، جن کا اصل نام علی بن محمد ہے، کنیت ابوالحسن اور لقب زین الدین تھا۔ آپ میر سید شریف جرجانی کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کی پیدائش 22 شعبان کو شہر جرجان میں ہوئی۔ کم عمری ہی میں آپ نے علوم اور ادب کی تکمیل کر لی اور متعدد کتب تصنیف کیں۔ آپ نے بچپن ہی میں “وافیہ شرح کافیہ” جیسی اہم کتاب تحریر کی۔
تعلیم و اساتذہ
آپ نے علم عقائد اور منطق کی تعلیم قطب الدین رازی کے شاگرد خاص، مبارک شاہ منطقی سے حاصل کی۔ علوم نقلیہ کے لئے آپ نے شیخ اکمل الدین با برتی حنفی صاحب عنایہ وغیرہ سے استفادہ کیا۔ جبکہ عالم تصوف و سلوک کی تعلیم خواجہ علاء الدین محمد عطار بخاری، جو شیخ بہاء الدین نقشبندی کے خلیفہ تھے، سے حاصل کی۔
روحانی تجربات
میر صاحب فرماتے ہیں: “عطار بخاری کی صحبت سے پہلے میں نے خدا کو جیسا پہچاننا چاہئے تھا، نہیں پہچانا۔” یہ جملہ آپ کی روحانی حالت اور تجربات کو واضح کرتا ہے۔
تدریس و خدمات
میر صاحب نے شیراز کے بڑے مدرسے “دار الشفاء” میں دس سال تک تدریس کی۔ اس کے بعد آپ سمرقند چلے گئے اور وہاں بھی درس و تدریس میں مصروف رہے۔ آخر میں آپ پھر شیراز واپس آگئے۔
تصانیف
آپ کی تصانیف کی تعداد پچاس سے زائد ہے۔ ان میں “شرح مواقف”، “نحو میر”، “صرف میر”، “صغری کبری”، اور “میر قطبی” خاص طور پر مشہور ہیں اور آج بھی اکثر مدارس کے نصاب میں شامل ہیں۔ فن مناظرہ میں بھی آپ کا ایک رسالہ “شریفیہ” کے نام سے موجود ہے۔
وفات
ربیع الاول 812 ہجری کو بدھ کے دن، آپ 24 سال کی عمر میں شیراز میں وفات پا گئے۔ آپ کی تاریخ وفات مشہور دارین سے نکالی جاتی ہے۔
نحو میر اور فارسی زبان کی اہمیت
ہمارے درس نظامی میں سب سے پہلی کتاب جو علم نحو کی تعلیم کے لیے پڑھائی جاتی ہے، وہ “نحو میر” ہے جو فارسی زبان میں ہے۔ ماضی میں، جب طلبہ اس کتاب کو پڑھنا شروع کرتے تھے، تو انہیں فارسی زبان سے کافی واقفیت ہوتی تھی۔ اس لئے ان کے لئے کتاب کے ترجمے اور مطلب کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی۔
فارسی زبان کی تدریس میں کمی
اب صورتحال یہ ہے کہ فارسی سکھانے کا وہ پہلے والا اہتمام نہیں رہا۔ بلکہ بیشتر مدارس میں فارسی زبان کی تعلیم پر توجہ ختم ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے اب طلبہ کے لئے نحو میر کا ترجمہ کرنا اور اس کو سمجھنا بہت دشوار ہو گیا ہے۔ اسی وجہ سے اس بات کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ نحو میر پر بھی علم الصیغہ اردو کے طرز پر کام کیا جائے تاکہ یہ ابتدائی طلبہ کے لئے آسان اور مددگار ثابت ہو۔
کتاب “نحو میر اردو مع تمرین و تعلیق”
زیر نظر کتاب “نحو میر اردو مع تمرین و تعلیق” اس سلسلے کی ایک مفید کوشش ہے، جو جناب مفتی محمد جاوید صاحب قاسمی کی قابل تحسین کاوش ہے۔ موصوف دارالعلوم دیوبند کے جید الاستعداد فاضل ہونے کے علاوہ، دارالعلوم کے شعبہ “تدریب المعلمین” سے وابستہ ہو کر تدریسی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
مفتی محمد جاوید قاسمی کی علمی کاوش
مفتی محمد جاوید قاسمی علم نحو میں خصوصی ذوق اور مہارت رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی وہ “درس ہدایت النحو” کے نام سے “ہدایت النحو” کی شرح تحریر فرما چکے ہیں، جو علمی حلقوں میں کافی مقبول ہو رہی ہے۔ مفتی صاحب نے اپنے تجربات کی روشنی میں نحو میر پر جو کام کیا ہے وہ لائق تحسین ہے اور اس علمی ضرورت کی تکمیل کے لئے ایک کامیاب کوشش ہے۔
اردو نحو میر کی افادیت
اگر اس اردو نحو میر کو فارسی نحو میر کی جگہ درس نظامی میں شامل کیا جائے تو انشاء اللہ مفید ثمرات مرتب ہوں گے اور امید ہے کہ یہ کتاب متعلمین و معلمین دونوں کے لئے نفع بخش ثابت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ مؤلف کی اس علمی کاوش کو قبولیت سے نوازے اور علمی طبقوں میں مقبول بنائے۔
نحو میر کے تدریس میں مشکلات
نحو میر ایک مختصر مگر نہایت مفید رسالہ ہے، جو حسن ترتیب اور مصنف کے خلوص کی وجہ سے عرصہ دراز سے مقبول ہے اور ہمارے مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم کا اہم حصہ بنا ہوا ہے۔ تاہم، اس دور میں، جب فارسی زبان کی تدریس کم ہو چکی ہے، نحو میر پڑھنے اور پڑھانے والوں کو دو قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
نحو میر کی تدریس میں درپیش مسائل
پہلی مشکل یہ ہے کہ ہند و پاک میں فارسی زبان کی جگہ دوسری زبانوں نے لے لی ہے، جس کی وجہ سے طلبہ کو دوہری محنت کرنی پڑتی ہے۔ پہلے وہ فارسی سے اردو ترجمہ یاد کرتے ہیں، پھر اس کو زبانی یاد کرتے ہیں، اور اس کے باوجود بھی وہ نحو میر کو کماحقہ سمجھ نہیں پاتے۔
نحو میر کی اصطلاحات اور ان کے مسائل
دوسری مشکل یہ ہے کہ نحو میر میں بہت سی ایسی اصطلاحات ہیں جن کی تعریف صاحب نحو میر نے بیان نہیں کی۔ ان کی تعریفات لکھوا کر یاد کرائی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے جو وقت مشق و تمرین میں لگنا چاہئے تھا، اس کا بیشتر حصہ لکھوانے میں صرف ہو جاتا ہے۔
نحو میر پر کام کی ضرورت
اسی وجہ سے کافی دنوں سے یہ ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ نحو میر کی سلیس اردو زبان میں ترجمانی کی جائے اور جن اصطلاحات کی تعریف نہیں کی گئی، ان کی آسان اور جامع تعریف لکھ دی جائے تاکہ نحو میر کو سمجھنے اور پڑھانے میں آسانی ہو۔
مفتی محمد جاوید قاسمی کی کوشش
مفتی محمد جاوید قاسمی نے اسی ضرورت کی تکمیل کے لئے یہ کتاب مرتب کی ہے۔ انہوں نے اس میں کہاں تک کامیابی حاصل کی ہے، اس کا فیصلہ قارئین کریں گے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس حقیر کاوش کو قبولیت عطا فرمائے اور یہ کتاب بندہ کے لئے سعادت دنیوی و اخروی کا ذریعہ بنے۔ آمین۔
کمزور طلباء کے لیے اجراء کا طریقہ
متوسط یا کمزور ذہن والے طلبہ کے لئے نحو اور دیگر موضوعات کا اجراء آسان بنانے کے لیے استاذ کو درج ذیل طریقہ کار اپنانا چاہئے، جس میں سوال و جواب کا طریقہ استعمال کیا جائے۔ اس طریقے سے طلبہ کو نہ صرف مفہوم سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ وہ موضوعات کو گہرائی سے جانچ سکیں گے۔
سوال: أَطْباءُ بَارِعُونَ لفظ کی کونسی قسم ہے؟
جواب: موضوع ہے۔
سوال: آپ نے کیسے پہچان لیا کہ یہ موضوع ہے؟
جواب: اس لئے کہ یہ معنی دار ہے، اس کے معنی ہیں: بہت سے ماہر ڈاکٹر۔
سوال: یہ لفظ موضوع کی کونسی قسم ہے؟
جواب: مرکب ہے۔
سوال: کیسے پہچان لیا کہ یہ مرکب ہے؟
جواب: اس لئے کہ یہ دو کلموں سے مل کر بنا ہے۔
سوال: مرکب کی کونسی قسم ہے؟
جواب: مرکب غیر مفید ہے۔
سوال: کیسے پہچان لیا کہ یہ مرکب غیر مفید ہے؟
جواب: اس لئے کہ جب کہنے والا اسے کہہ کر خاموش ہوتا ہے، تو سننے والے کو اس سے کوئی خبر یا طلب معلوم نہیں ہوتی۔
سوال: مرکب غیر مفید کی کونسی قسم ہے؟
جواب: مرکب توصیفی ہے۔
سوال: کیسے پہچان لیا کہ یہ مرکب توصیفی ہے؟
جواب: اس لئے کہ یہ ایسے دو اسموں سے مل کر بنا ہے جن میں سے دوسرا اسم پہلے اسم کی حالت بیان کر رہا ہے۔ اس میں اطباء موصوف ہے کیونکہ اس کی حالت بیان کی جارہی ہے، اور بَارِعُونَ صفت ہے کیونکہ یہ اپنے سے پہلے اسم کی حالت بیان کر رہا ہے۔
