Hadia Urdu Sharah Kafia by Maulana Saeed Ahmad Palanpuri
ہادیہ شرح کافیہ مولانا سعید احمد پالن پوری
کافیہ کا تعارف
کا فیہ علم نو کا مشہور و مقبول متن ہے۔ اس کی عبارت آسان اور سلیس ہے۔ اس میں فن نحو کے تمام ضروری مسائل سمو لئے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ کہنے والے نے کہا ہے: ” کا یہ کافی است باقی در دسر ! یعنی اس میں فن کے تمام ضروری مسائل آگئے ہیں ، اس سے زائد کی چنداں ضرورت نہیں۔ مگر اس آسان متن کو طریقہ تدریس نے مشکل بنادیا ہے۔ کافیہ صرف مسائل کی کتاب ہے، جیسے ” قدوری صرف مسائل کی کتاب ہے، دلائل کے لئے ہدایہ ہے، اسی طرح یہاں بھی دلائل کے لئے شرح جامی ہے۔ مگر اساتذہ کا فیہ میں صرف مسائل پر اکتفا نہیں کرتے ، بلکہ دلائل، حقائق ، دقائق اور نکات تک بیان کرتے ہیں۔ ظاہر ہے جو بچہ نفس مسئلہ ہی نہیں سمجھا وہ دوسری باتوں کا متحمل کیسے کرسکتا ہے۔ پھر کتاب اس انداز سے چھپی ہوئی ہے کہ اس میں ” معالم طریق نہیں ۔ ایک جنگل ہے۔ کچھ پتہ نہیں چلتا کہ بات کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں ختم ہوئی۔ کافیہ کی اصل زمخشری رحمہ اللہ کی مفصل‘ ہے، اسی کو ابن حاجب رحمہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔ مفصل میں کوئی خاص ترتیب نہیں۔ علم صرف کے مسائل بھی اس میں شامل ہیں اور امثلہ میں تو ایسے اشعار پیش کئے ہیں جن کو حل کرنا کارے دارد ! عرب طلباء تو اس سے استفادہ کر سکتے ہیں مگر عجمی طلباء کے بس کی وہ کتاب نہیں۔ اللہ تعالیٰ ابن حاجب رحمہ اللہ کو جزائے خیر عطا فرمائیں کہ انھوں نے مفصل کو مرتب کر دیا، ضروری مثالیں باقی رکھیں ، باقی مثالیں حذف کر دیں ،صرف کے مسائل کو چھوڑ دیا اور جو مسائل تشنہ تھے ان کی تکمیل کی اور اس طرح ایک نہایت آسان متن تیار کر دیا۔
کافیہ کی تدریس: تجربات اور تجاویز
طلبہ کا پس منظر
مولانا سعید احمد پالن پوری کے دو لڑکے ان سے کافیہ پڑھ رہے ہیں۔ مولوی احمد سعید پالن پوری دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہیں اور جامعۃ الشیخ میں مدرس ہیں، جبکہ عبد اللہ سعید پالن پوری عربی سوم کے طالب علم ہیں۔
کافیہ کی تدریس کے چیلنجز
اگرچہ مولوی احمد سعید کے لیے کافیہ مشکل نہیں ہے، مگر عبد اللہ سعید کے لیے یہ ایک سنگین چیلنج ثابت ہوئی۔ اس لیے مولانا سعید احمد پالن پوری نے کتاب کو مفصل اور مرتب کیا، تاکہ مسائل اور قواعد کو جدا جدا کیا جا سکے۔
کتاب کی اصلاحات
مولانا نے کتاب میں نہ کوئی اضافہ کیا اور نہ ہی کوئی کمی۔ جو کچھ شامل کیا گیا، وہ دو کھڑی قوسوں [ ] کے درمیان ہے، جس سے کتاب نہایت آسان ہو گئی۔ اردو شرحوں پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ ان میں بھی وہ تمام مضامین شامل ہیں جو کافیہ میں غیر ضروری ہیں۔
تدریس کا طریقہ
مولانا سعید احمد پالن پوری کا تدریس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک طالب علم پہلے مسئلہ پڑھتا ہے، پھر سب طلبہ مل کر اس عبارت کو تین مرتبہ دہراتے ہیں۔ اس کے بعد مولانا اس مسئلہ کی تشریح کرتے ہیں اور طلبہ سے اپنی بات دہرواتے ہیں۔ اس طریقے سے مسئلہ سب کے ذہن نشین ہو جاتا ہے۔
کافیہ کے حفظ کا اہتمام
پہلے لوگ کافیہ کو حفظ کرتے تھے، جیسے کہ مولانا سعید احمد پالن پوری کے استاد حضرت مولانا محمد صدیق صاحب جموعی نے کیا تھا۔ مولانا کا ماننا ہے کہ کتاب کو سمجھنا اور یاد کرنا ضروری ہے۔
مشقی سوالات کا اضافہ
مولانا نے کتاب یاد کرنے کے لیے ہر بحث کے بعد مشقی سوالات بڑھائے ہیں تاکہ طلبہ کافیہ کے تمام مسائل کا احاطہ کر سکیں۔ اساتذہ کو چاہئے کہ وہ طلبہ سے بار بار کتاب یاد کرائیں اور تعریفات اور ضروری قواعد کی عربی عبارتیں حفظ کرائیں۔
نتیجہ
اگر طلبہ نے کافیہ کو سمجھ لیا اور اسے یاد کر لیا تو انہیں بے حد نفع ہوگا اور ان کا کافیہ پڑھنے کا مقصد پورا ہوگا۔ مولانا سعید احمد پالن پوری اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ طلبہ کی مدد کریں اور انہیں کامیابی کی راہ پر گامزن کریں۔
البتہ تین باتیں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے بغیر منزل تک رسائی مشکل ہے
پہلی بات
کافیہ کا تدریسی طریقہ: ایک مرحلہ وار عمل
طلبہ کی استعداد کتاب اور درجہ کے مطابق ہونی چاہئے۔ اگر ان کی استعداد فروتر ہوگی تو ان میں تخم عمل ضائع ہوگا۔ بیچارہ محنت کر کے تھک جائے گا اور کچھ حاصل نہ ہوگا۔ آج کل اہل مدارس طلبہ پرظلم کرتے ہیں کہ وہ جو درجہ مانگتا ہے دیدیتے ہیں وہ اس کو حسن سلوک سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ طالب علم کی زندگی کو تباہ کرنا ہے۔ طلبہ کو خود بھی چاہئے کہ معرفت خودی سے کام لیں۔ جلدی آگے بڑھنے کی کوشش نہ کریں۔ بلکہ استعداد کے مطابق چلیں تو کامیاب ہونگے ،ورنہ ضیاع وقت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔
دوسری بات
استاد کو فن پر گرفت ہونا چاہیے
استاذ کتاب پر قابو یافتہ ہونا چاہئے ،اگر خود استاذ کو کتاب یاد نہیں تو اس کا طالب علم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ فن کی مہارت الگ چیز ہے یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ امام الخو تو صدیوں میں کوئی پیدا ہوتا ہے، مگر زیر درس کتاب پر حاوی ہونا ہر مدرس کے لئے ضروری ہے، اس کے بغیر کوئی مدرس کامیاب درس نہیں دے سکتا۔ جب استاذ کو کتاب یاد ہوگی تو وہ کسی بھی وقت کوئی بھی مسئلہ دریافت کر سکتا ہے۔ اور استاذ کو چونکہ ہر سال یا کئی سال تک کتاب پڑھانی ہوتی ہے اس لئے اس کے لئے یہ بات کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ مگر آج کل اساتذہ سہل انگاری سے کام لیتے ہیں۔ مطالعہ کر کے پڑھا دیتے ہیں پھر خود ہی بھول جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ طلبہ کو بالیاقت نہیں بنا سکتے ۔ اس لئے اس طرف خصوصی توجہ ضروری ہے۔
تیسری بات
طالب علم محنت کش ہونا چاہیے
طالب علم کی محنت درکار ہے۔ محنت کے بغیر کوئی کمال حاصل نہیں ہوسکتا۔ اگر استاذ کے بس کی بات ہوتی تو وہ ہر شاگرد کو با کمال بنادیتا، کسی کوکم تر نہ رہنے دیتا۔ مگر یہ بات طالب علم کی محنت پر موقوف ہے اور محنت تین باتوں کا نام ہے: خواندہ یاد کرنا ، آگے مطالعہ کر کے سبق میں جانا اور سبق میں بات سمجھنے کی اور کتاب حل کرنے کی پوری کوشش کرنا۔ اگر ان تین باتوں کی طالب علم گارنٹی دیدیتے تو میں اس کو علم کی ضمانت دیتا ہوں۔ وہ ضرور عالم ہوگا اللہ تعالی اس کو علم سے حفظ وافر عنایت فرمائیں گے۔ اس سلسلہ میں ایک بات یہ بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اب کا فیہ اتنی آسان ہو گئی ہے کہ درجات عالیہ کے طلبہ از خود بھی اس کو حل کر سکتے ہیں اور یاد کر سکتے ہیں۔ وہ بے اندازہ نہ چلیں۔ مطالعہ کی ایک مقدار متعین کرلیں اور شرح کی مدد سے اس کو حل کر لیں پھر اس کو یاد کریں۔ متعلقہ متن بھی یاد کر لیں تو نور علی نور اور خیر علی خیر ۔ وہ ایک سال میں پوری کافیہ پر قابو پاسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نو نہالوں کو ہمت مردانہ عطا فرمائیں اور ان کو دین سیکھنے کے لئے مر مٹنے کا حوصلہ عطافرمائیں اور ان کو کامیابی سے ہم کنار فرمائیں (آمین) كتبه سعید احمد عفا اللہ عنہ
ارباب مدارس سے دو گزارشیں
پہلی گزارشطالب علم یہ کتاب محفوظ کرلے تو بیڑا پار ہے، عربی زبان کے لئے اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں، بلکہ کافیہ کے بعض مسائل بھی ضرورت سے زائد ہیں۔ مگر مدارس عربیہ میں اس کو پڑھانے کا طریقہ صحیح نہیں۔ رائج طریقہ خراسان اور افعانستان کے علماء نے چلایا ہے۔ انھوں نے تحریر سنبٹ“ جیسی کتابیں لکھیں اور ان کی روشنی میں کافیہ پڑھانے کا طریقہ چل پڑا۔ سوال و جواب ، حقائق و دقائق اور نکات بیان کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اور اصل مسائل ذہن سے اوجھل ہو گئے۔ ضرورت ہے کہ کافیہ کا طریقہ درس بدلا جائے۔ کافیہ میں صرف مسائل فہمی کی جائے اور ان کو خوب یاد کرایا جائے ، متعلقہ عبارتیں بھی حفظ کرادی جائیں تو استعداد میں چار چاند لگ جائیں گے۔ اساتذہ تمرین کے لئے مثالیں بڑھا ئیں اس شرح میں ہر بحث کے بعد مشقی سوالات دیئے گئے ہیں۔ ان میں پوری کتاب کا احاطہ کر لیا ہے۔ ان کے جوابات کما حقہ یاد کرا دیئے جائیں تو پوری کتاب قابو میں آجائے گی ۔ اور ممتحن حضرات بھی اسی کی روشنی میں امتحان لیں۔ حقائق و دقائق اور دلائل و نکات دریافت نہ کریں۔ ان کا مل آگئے شرح جامی” ہے۔ اگر کتاب اس طرح پڑھائی جائے گی تو امید ہے کہ طلبہ کو زیادہ فائدہ ہوگا۔
دوسری گذارش: علم صرف علم نحو سے زیادہ مشکل ہے۔ مگر اس کی تعلیم کا طریقہ بھی عربی مدارس میں صحیح نہیں ۔ ہم عربی کا علم صرف اردو اور فارسی کتابوں کے ذریعہ پڑھاتے ہیں۔ عربی علم صرف کی کوئی کتاب ہمارے نصاب میں شامل نہیں ۔ نصاب کی آخری کتابیں علم الصیغہ اور فصول اکبری ہیں۔ پہلے مراح الارواح، چار بردی اور شافیہ پڑھاتے تھے ۔ اب سب کو رخصت کر دیا گیا ہے۔ پھر صرف کی تعلیم عربی دوم وسوم میں ختم کر دی جاتی ہے، جبکہ ابھی بچے کا شعور بالغ نہیں ہوتا۔ اس لئے اس طرف بھی توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے کہ نصاب میں علم صرف کی عربی کتابیں شامل کی جائیں۔ زرادی، شذا العرف في فن الصرف، مراح الارواح، جار بردی اور شافیہ فن صرف کی بہترین کتابیں ہیں۔ ان میں سے بعض کتابیں ضرور شامل نصاب کی جائیں، تا کہ خاطر خواہ فائدہ حاصل ہو۔ واللہ الموفق !
علم صرف: تین باتوں کا مجموعہ ہے۔ تصریفات، خاصیات اور تعلیمات۔ ہمارے طلبہ صرف صحیح کی گردان سے واقف ہوتے ہیں۔ ہفت اقسام کی تصریفات کا مضبوط علم نہیں رکھتے۔ حروف علت : بڑے خطرناک ہیں۔ وہ جس لفظ میں آجاتے ہیں اس کو بیمار کر دیتے ہیں۔ اس کی تیمارداری ( تعلیل ) بہت ضروری ہے۔ نیز خاصیات کے علم کے بغیر ابواب کا علم ادھورا ہے۔ وہ خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ اور یہ باتیں بے شعوری کے زمانہ میں قابو میں نہیں آتیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ اساتذہ اور ارباب مدارس اس طرح خصوصی توجہ مبذول فرمائیں تا کہ ہمارے نونہالوں کی عربی استعداد پختہ ہو اور وہ علوم شرعیہ سے کما حقہ بہرہ ور ہوں۔ واللہ
تذکرہ علامہ ابن حاجب رحمہ اللہ
کافیہ کے مصنف کا نام علامہ ابن حاجب رحمہ اللہ ہے۔ آپ ساتویں صدی کے جلیل القدر نحوی صرفی اصولی اور مالکی فقیہ ہیں۔ آپ کا لقب جمال الدین، کنیت ابو عمر و اور ابن الحاجب ہے۔ آپ کے والد دربان تھے اس لئے آپ اس کنیت سے مشہور ہوئے۔ آپ کا نام عثمان اور والد کا نام عمر تھا۔ سن ۵۷۰ ھ مطابق ۱۷۴ء میں مصر کے گاؤں ”انا“ میں آپ کی ولادت ہوئی ۔ قاہرہ میں نشو ونما پائی ، دمشق میں بود دباش اختیار کی اور سن ۶۴۶ ھ مطابق ۱۴۲۹ء میں شہر اسکندریہ میں آپ کی وفات ہوئی ۔ آپ کر دی النسل تھے ۔ آپ نے بہت سی قیمتی کتابیں لکھی ہیں ۔ چند یہ ہیں: (1) الكافية فى النحو (۲) الشافية فى الصرف (۳) منتهى السؤل والأمل في علمي الأصول والجدل (۴) مختصر السُّؤل والأمل (اس کی بہت سے علماء نے شرحیں لکھی ہیں ) یہ سب کتابیں مطبوعہ ہیں (۵) مختصر الفقہ (فقہ مالکی) اس کو جامع الأمهات بھی کہتے ہیں۔ (1) المقصد الجلیل: یہ علم عروض میں ایک قصیدہ ہے (۷) الأمالي النحوية (۸) الإيضاح: یہ علامہ زمخشری رحمہ اللہ کی مفصل کی شرح ہے۔ یہ کتابیں ابھی طبع نہیں ہوئیں۔ ان کے مخطوطے موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ ابن حاجب رحمہ اللہ کی قبر کو نور سے بھرے اور ان کو امت کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے کہ وہ امت کے لئے بڑا کام انجام دے گئے!
