Kashf Ul Matalib Sharah Kafia کشف المطالب شرح کافیہ

Kashf Ul Matalib Sharah Kafia by Maulana Ateeq Ur Rahman
کشف المطالب اردو شرح کافیہ مولانا عتیق الرحمان

کافیہ  کے مصنف کے مختصر حالات

عثمان نام، ابو عمر وکنیت، جمال الدین لقب اور والد کا نام عمر ہے، حافظ ذہبی نے لکھا ہے کہ آپ کے والد امیر عزالدین موسک صلاتی کے یہاں دربان تھے جس کو عربی میں حاجب کہتے ہیں، اس لیے آپ ابن الحاجب سے مشہور ہیں۔ سلسلہ نسب یوں ہے جمال الدین ابو عمر و عثمان بن عمر بن ابی بکر بن یونس الدوینی۔ ملک مصر میں صعید اعلی کے اعمال قوصیہ میں آشنا نامی ایک چھوٹی سی نبستی ہے شیخ موصوف اواخر ۵۷ھ میں یہیں پیدا ہوئے۔

ابتداء آپ نے قاہرہ میں تعلیم پائی صغرنی میں قرآن پاک حفظ کیا، علامہ شاطبی سے قرآت کی تحصیل اور اتیسیر کا سماع کیا علامہ ابوالجود سے قرآت سبعہ پڑھی اور شیخ ابو منصور ابیاری وغیرہ سے علم فقہ علامہ شاطبی اور ابن البناء سے علم ادب حاصل کیا علامہ بو یصیری وغیرہ سے بھی سماع حاصل ہے۔

علامہ ابن حاجب بلند پایہ فقیہ اعلیٰ مناظر، بڑے دین دار متقی اور پرہیز گار معتمد واثقہ نہایت متواضع اور تکلفات سے قطعاً نا آشنا تھے، تبحر علمی میں بہت اونچا مقام رکھتے تھے۔ مؤرخ ابن خلکان کا بیان ہے کہ ادائے شہادت کے سلسلے میں آپ بارہا میرے پاس تشریف لائے میں نے علوم عربیہ کے مختلف مسائل مشکلہ آپ سے دریافت کیے آپ نے نہایت سکون اور وقار کے ساتھ ہر ایک کا تسلی بخش اور معقول جواب دیا۔ آپ کی ذہانت و ذکاوت کی تعریف میں ابن خلکان ہی رقم طراز ہیں كان من احسن خلق الله ذهنا. اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ روشن ذہن تھے۔ جامع دمشق میں ایک زمانہ درس و تدریس کے بعد آپ اور شیخ عز الدین بن عبد السلام مصر تشریف لائے اور مدرسہ فاضلیہ میں صدر مقرر ہوئے اخیر میں آپ اسکندریہ منتقل ہو گئے تھے اور یہیں مستقل قیام کا ارادہ تھا، مگر یہاں آپ کو کچھ زیادہ دن نہ ہوئے تھے کہ راہی ملک بقاء ہو گئے۔

 چنانچہ ۶ رشوال ۶۳۶ ھ میں جمعرات کے روز دن چڑھے اسکندریہ میں وفات پائی اور باب البحر سے باہر شیخ صالح ابن ابی اسامہ کی تربت کے پاس مدفون ہوئے۔ یوں تو آپ کی ہر تصنیف بے بہا موتیوں کا خزانہ ہے، لیکن نحوی ولایتوں میں کافیہ کی شہرت کا جو سکہ جما ہوا ہے وہ محتاج بیان نہیں جس میں آپ نے علم نحو کے تمام قواعد نہایت عمدہ اسلوب کے ساتھ جمع کئے ہیں علم نحو کا یہ جامع اور مستند ذخیرہ سات سو سال سے مدارس میں داخل درس ہے، آپ کی تصانیف کی عمدگی اور افادیت کے بارے میں ابن خلکان کہتے ہیں و کل تصانيفه في نهاية الحسن والافاده. آپ کی کل تصانیف نہایت عمدہ اور مفید ہیں ۔ (احوال المصنفین)

۔

کافیہ کے متن کی جامعیت نے خود اسے حل طلب بنا دیا چنانچہ بہت سے طالع آزماؤں نے اسے اپنے فکر ومحنت کا میدان بنایا اور شروح و حواشی کے نام سے بہت کچھ لکھا گیا بعض بڑی قابل قدر اور لائق ستائش کاوشیں منصہ شہود پر آئیں اور تا ہنوز اس کا سلسلہ جاری ہے۔

علم عربی کے بنیادی علوم اور ان کی اہمیت

علم نحو و علم صرف علم بیان علم معانی وغیرہ لغت عربیہ کے لیے بنیادی علوم میں ان علوم کے حصول کے بغیر آدمی عربی زبان پر عبور و قدرت حاصل نہیں کر سکتا۔ تکلم، کتابت، قراءت بلا ان علوم کے حصول کے بڑا دشوار ہوتا ہے۔

کافیہ کی اہمیت

علامہ ابن حاجب نے علم نحو میں الکافیہ لکھ کر اہل علم کے لیے قواعد نحو کے افہام و تفہیم کو بڑی حد تک آسان بنادیا ہے۔ الکافیہ ابن حاجب کی مشہور و مقبول کتاب ہے، اس پر بہت سے حضرات نے محنت کی ہے اور اس کی شروح عربی اور اردو میں لکھی گئی ہیں۔ اس کی ایک نہایت مقبول شرح شرح جامی (فوائد ضیائی) کے نام سے لکھی گئی جو مدارس عربیہ میں داخل درس ہے۔ کافیہ فن نحو کی معروف ومتداول کتاب ہے اور برصغیر میں مدارس عربیہ کے نصاب کا ایک اہم جزء جس پر ہر عہد میں خصوصی توجہ دی جاتی رہی ، درس و تدریس کے اعتبار سے بھی اور شرح و توضیح کے اعتبار سے بھی۔ برصغیر میں اس کی بہت سی شروح لکھی گئیں ۔ حتی کہ بعض صوفیانہ ذوق کے حاملین حضرات نے اپنی شرح میں اس کو تصوف کی ایک کتاب کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ قریبی عہد میں بزبان اُردو بھی اس پر کام ہوا ہے اور اچھا کام ہوا ہے مگر ایسی کتابیں برابر اور مسلسل کام کی متقاضی رہتی ہیں۔

کشف المطالب شرح کافیہ

اللہ تعالیٰ نے ابن حاجب کی اس خدمت کو قبولیت بخشی ہے۔ عزیزم مولانا عتیق الرحمن بہرا نچی نے بڑی محنت و کاوش سے کافیہ کی اُردو شرح لکھی ہے زیر نظر کتاب کشف المطالب اپنی سی کوشش کا مجموعہ ہے۔ حل عبارت کی حتی المقدور سعی کی گئی ہے۔ سہولت پسندی کے اس دور میں طلبہ کی آسانی کے لیے عبارت کا ترجمہ بھی لکھ دیا گیا ہے۔ ”کتاب“ جیسی بھی ہے آپ کے سامنے ہے اللہ تعالیٰ اسے قبول عام عطا فرمائے اور طلبہ عزیز کے لیے نافع بنائے۔ معاونین اور دوستوں کو بالخصوص مولانا حفیظ اللہ صاحب بہرائچی استاذ جامعہ عربیہ کو اپنے شایان شان بدلہ عطا فرمائے کہ موصوف نے مسودہ کے صاف کرنے میں بڑا تعاون دیا۔ اس شرح کا نام کشف المطالب عن اسرار ابن الحاجب رکھا ہے۔ آج کل میری آنکھ کا آپریشن ہوا ہے، جس کی وجہ سے لکھنے پڑھنے سے معذوری ہوگئی ہے۔ تاہم میں نے اس کو دیکھا اور پسند کیا۔ کافیہ کے مضامین کو عمدہ طرز پر سمجھانے کے لئے اچھی کتاب ہے ۔ اللہ تعالیٰ عزیز موصوف کی اس کتاب کو قبول عام عطا فرمائے اور طلبہ و اساتذہ کے لیے مفید بنائے۔ اور مزید علمی خدمات اور علوم عربیہ دینیہ کی اشاعت کرنے کی توفیق سے نوازے۔ آمین