Khair Ul Zad Urdu Sharh Irshad Ul Sarf by Maulana Muhammad Ashraf Shad
کتاب کا نام : خیرالزاد شرح ارشاد الصرف
افادات: مولانa اشرف شاد
جمع وترتیب : علامہ عبدالرشید بلال
علم الصرف کی تعریف
علم الصرف عربی زبان کی تصریفات، یعنی الفاظ کی تبدیلیوں اور بناوٹ کا مطالعہ ہے۔ یہ علم الفاظ کے مختلف صیغوں، شکلوں، اور ان کی تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، جو زبان کی گہرائی اور درست استعمال کے لیے ضروری ہے۔ علم الصرف زبان کی بنیادی ساخت کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس کے مختلف قواعد اور اصولوں کا بھی مطالعہ کرتا ہے۔
علم الصرف کی اہمیت
علم الصرف کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر عربی اور اسلامی علوم میں۔ یہ علم عربی متون کی صحیح تفہیم اور تعبیر میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس علم کے بغیر، عربی زبان کے قواعد و ضوابط کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے، جو اسلامی علوم اور فقہ میں درستگی کے لیے ضروری ہے۔ علم الصرف عربی کی زبان کی تصریفات کو سمجھنے اور اسے بہتر طریقے سے سیکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
خیرالزاد شرح ارشاد الصرف: کتاب کا تعارف
کتاب “خیرالزاد شرح ارشاد الصرف” مولانا اشرف شاد کی تصنیف اور علامہ عبدالرشید بلال کی جمع و ترتیب کردہ ایک اہم کتاب ہے۔ یہ کتاب “ارشاد الصرف” کی تفصیلی شرح پیش کرتی ہے اور علم الصرف کے مختلف اصولوں کی وضاحت کرتی ہے۔ اس کا مقصد علم الصرف کے مطالعے کو آسان اور قابل فہم بنانا ہے۔
خیرالزاد شرح ارشاد الصرف کے مطالعہ کے فوائد
تفصیلی وضاحت: کتاب میں علم الصرف کے تمام اہم اصولوں اور قواعد کی جامع اور تفصیلی وضاحت موجود ہے، جو طلباء اور محققین کے لیے مفید ہے۔
فہم میں اضافہ: یہ کتاب پیچیدہ تصریفات اور اصطلاحات کو سادہ اور واضح طریقے سے بیان کرتی ہے، جس سے طلباء کو بہتر فہم حاصل ہوتی ہے۔
تعلیمی مدد: “خیرالزاد شرح ارشاد الصرف” اردو میں ہونے کی وجہ سے غیر عربی زبان بولنے والوں کے لیے مفید ہے، خاص طور پر وہ طلباء جو عربی تصریفات میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
مدرسوں کے لیے مفید: یہ کتاب تعلیمی اداروں میں علم الصرف کی تعلیم کے لیے بہترین ذریعہ ہے، اور مدارس میں اس کا مطالعہ طلباء کی علمی ترقی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
جان لو کہ لغت نحو اور علم صرف کا جاننا فرض کفایہ ہے، کیونکہ احکام شرعیہ کا جاننا بالا جماع واجب ہے اور احکام کا جاننا ان کے دلائل جانے بغیر محال ہے۔ اور ان کے دلائل کتاب وسنت کی طرف راجع ہیں۔ اور کتاب وسنت عربی لغت نحو اور صرف کے ساتھ وارد ہوئے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا لغت نحو اور صرف کا جاننا لازم ہوا۔ کیونکہ واجب کا مقدمہ بھی واجب ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء اسلام نے اس فن کی طرف خصوصی توجہ مبذول فرمائی ہے۔ آج بھی ہمارے ہاں تمام دینی مدارس میں علوم عالیہ سے پہلے صرف و نحو نہایت اہتمام سے پڑھائی جاتی ہیں۔ کتب صرف میں تعلیل، ادغام اور تخفیف کے قوانین خاصے مشکل ہیں کیونکہ ایک ایک قانون کے ساتھ متعدد شرائط ہیں۔ جن کا یاد رکھا عموما دشوار ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی ما ہرفن استادل جائے تو وہ اس مشکل کو آسان کر دیتا ہے۔ افسوس کہ اب ایسے ماہر اساتذہ کا وجود کبریت احمر کی طرح نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ جنوبی پنجاب میں حضرت مولانا محمد اشرف شاد مد ظله (صدر مدرس و هستم جامعہ اشرفیہ اشرف آباد مانکوٹ، کبیر والا ضلع خانیوال ) امام الصرف الخو” کے طور پر مشہور ہیں۔ بلاشبہ مولانا موصوف کا انداز تفہیم و تدریس منفرد اور صرف کے مشکل مسائل کو پانی کر دینے والا ہے ۔ اب تک سینکڑوں بلکہ ہزاروں طلبہ نے آپ سے کسب فیض کیا اور علم صرف میں ممتاز ہوئے۔ حال ہی میں آپ کے ایک تلمیذ رشید مولانا عبدالرشید بلال نے خیر الزاد مع فوائد علامہ شاد“ کے عنوان سے آپ کے صرفی افادات کو جمع کیا ہے، جس کا غالب حصہ صرف کی مشہور کتاب ”صرف بہائی“ کی تشریح و توضیح پر مشتمل ہے۔ مشکل مباحث و قوانین کو خاص انداز اور امثلہ کے ذریعے آسمان کیا گیا ہے۔ ان شاء اللہ یہ کتاب مبتدی طلبہ کے لئے بہت مفید ثابت ہوگی ، حضرات اساتذہ کرام و مدرسین بھی اس سے مستفید ہو سکیں گے
طریقہ تعلیم رسالہ خیرالزاد شرح ارشاد الصرف
حضرات مدرسین کی خدمت میں التماس ہے کہ مبتدی کو اس کتاب کا پہلا حصہ جس میں محض صرف بہائی کی چند صرفی اصطلاحات ہیں۔ بر زبان حفظ کرا کے ضرب یضرب کا صرف حفظ کرا ئیں ۔ اس کے بعد اس کے ماضی سے لے کر فعل تعجب تک جمیع ابواب کی گردان بلا معنی اچھی طرح سے یاد کرائیں۔ اس کے بعد ان سب صیغہ جات کے معانی پڑھائیں ۔ جب وہ اچھی طرح ضبط ہو جائیں تو ان کی بڑائیں اور بناؤں کے اثناء میں جوقوانین آتے رہیں، بخوبی یاد کرا دیں۔ اس کے بعد صحیح کے باقی ابواب جاری کرائیں ۔ جب افتعال کے قوانین تک پہنچ جائیں پہلے قوانین ضبط کرا کے اس کے بعد افتعال و ثلاثی مزید فیہ کے باقی ابواب پڑھا ئیں۔ جب صحیح کے جمیع ابواب حسب مرقوم بال ختم ہو جا ئیں تو مثال اجوف، ناقص ہموز اور مضاعف ہر ایک کے اول قوانین حفظ کر کے قوانین کے قیو داحترازی سے انہیں بخوبی واقفیت کراکے اس کے بعد ہر ایک قسم کی صغیر میں، اس کے بعد کبیریں پڑھا ئیں ۔ اور ہر ایک صرف صغیر ، صرف کبیر میں جو جو صیغے تعلیل ہو کر آتے جائیں گے تو چونکہ طلبہ کو قوانین بخوبی یاد ہوں گے اس لئے جس جس صیغہ میں قانون جاری ہوتا ہوگا ، قانون کے زور پر خود بخود تعلیل کرتے جائیں گے۔ اور جب مختلطات کی نوبت آجاوے تو قوانین مثال ، اجوف ، ناقص ،مہموز اور مضاعف کو دوبارہ تازہ کرا کے مرکبات و مختلطات شروع کرائیں۔ طلبہ خود بخود گر دانوں کے پڑھنے اور قوانین جاری کرنے میں دوڑتے جائیں گے۔ فقط والحمد لله اولاً وآخراً