Maulana Zia ur Rahman Kaosari مولانا ضیاءالرحمان الکوثری

مولانا ضیاءالرحمان الکوثری

تعارف

مولانا ضیاءالرحمان الکوثری باجوڑ ایجنسی کے گاؤں کوثرمیں مولا نا عبدالباقی بن مولانامحمد صدیق کے ہاں ذی الحجہ ۱۳۲۴ھ میں پیدا ہوۓ ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم مولا نا عبدالحق بہسودی اور اپنے والدمحترم سے حاصل کی ۔ اس کے بعد دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں مولانامحمد علی سواتی ،مولا نا عبدالحلیم سواتی ، مولا نا ہاروت ،مولا نا تاج محمد سواتی اور مولا نا شیر علی شاہ سے استفادہ کرنے کے بعد دارالعلوم حقانیہ سیدوشریف سوات میں مولا نا محمد ادریس چکیسری ، مولا نا رحیم اللہ اور مولانا عبداللہ کو ہستانی سے استفادہ کیا ۔ اس کے بعد آپ نے مولانا عبدالخالق مصنف غنیۃ القاری شرح صحیح البخاری ( جو غیر مطبوع ہے ) سے ماموند با جوڑ میں استفادہ کرنے کے بعد جامعہ اکوڑہ خٹک میں صاحب حق شاہ منصور اور طور وضلع مردان میں مختلف اساتذہ سے استفادہ کیا۔ ۱۹۶۲ء میں شیخ المشائخ ، استاد العلماء مولا نا محمد طاہر نور اللہ مرقدہ سے تفسیر القرآن الکریم پڑھا ۔ ۱۹۶۷ء میں محقق الاحناف مولانا محمد یوسف بنوری سے بخاری شریف مولا نا محمد ادریس میرٹھی سے مسلم شریف اتر ندی مولا نامفتی ولی حسن صاحب سے ، ابوداؤ دمولانافضل محمد سواتی سے،مؤطائن مولا نا مصباح اللہ شاہ ہزاروی سے طحاوی مولانا بدیع الزمان سے جامعتہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤں کراچی میں پڑھی۔ اس کے بعد شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان نور اللہ مرقدہ سے تفسیر القرآن میں کسب فیض حاصل کیا ، پھر کئی سال تجارت میں مشغول رہے ۔ بعد میں شیخ المشائخ قاضی شمس الدین سابق مدرسدارالعلوم دیو سے کچھ حصہ بخاری ومسلم پڑھا۔ کے ۱۹۷۹ء میں شیخ الحدیث مولا نا عبدالحق بانی دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک ، شیخ القرآن مولا نا محمد طاہر سے ملاقات کی اور پھر کئی سال مدرسہ احیاءالعلوم با جوڑ ایجنسی میں جلالین ،مشکوۃ المصابیح ، مولوی ، شرح جامی ،شافیہ، مقامات، حماسہ ،نورالانوار وغیرہ پڑھاتے رہے۔ ۱۹۸۲ء میں آپ کی تقرری سرکاری سکول میں عربی زبان کے معلم کی حیثیت سے ہوئی۔ ساتھ ساتھ روزانہ درس قرآن کے علاوہ تشنگان علوم نبوت کو علوم دینیہ بھی آتے ہیں اور اپنی علمی پیاس بجھاتے ہیں۔ خصوصا رمضان المبارک میں اکثر طلباء میراث سیکھنے کے لئے آپ کے ہاں آپ نے بعض کتابیں بھی تحریر ہیں جو کہ وسائل کی کمی کے باعث شائع نہ ہو سکے، البتہ طلبا فوٹوسٹیٹ کر کے اس سے استفادہ کرتے رہتے ہیں ۔جن میں(۱) جهد المقل في حل صور الميراث المتعلقه بمتن السراجی (۲) گہر منظوم فی خواص الابواب (۳) هداية الحجاج الى الفجاج في احكام الحج (۴) حل صور الميراث المتعلقه باالشريفيہ شامل ہیں ۔ اللہ کریم مولانا کی کاوشوں کو قبول فرما کر دار مین میں اجر عظیم کا سبب بناۓ اور آپ کی عمر کو دراز فرمائے تا کہ طلباء کو ان سے مستفید ہونے کا زیادہ سے زیادہ موقع مل . سکے۔