Mufti Sulaiman Sajid Tordher مفتی سلیمان ساجد تورڈھیر

مفتی سلیمان ساجد تورڈھیر

مفتی سلیمان ساجد تورڈھیر نے کتاب ” سیف الساجد علی عنق المعاند ” کے تصنیف کی سبب تصنیف درج ذیل الفاظ قارئین کتاب سے تہہ دل سے گزارش کی جاتی ہے کہ مذکورہ کتاب کو پڑھنے سے پہلے اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ دین خداوندی کی حفاظت نہایت ہی ایک ضروری امر ہے ،اور یہ بھی بالکل واضح ہے کہ دین محمدی ص کو ہر دور میں مٹانے اور ختم کرنے کیلئے لوگ کاوشیں اور کوششیں کرتے رہتے ہیں ،ان کوشش کرنے والوں میں سرفہرست نام ابلیس لعنة اللہ علیہ کا ہے ۔ کہ لوگوں پر ایسے کام کرا تا ہے کہ وہ اس کو دین سمجھ کر کرتے ہیں ۔ یعنی اس ماحول میں بعض علماء کے ذہن میں یہ بٹھایا کہ بعض کام ایسے بھی ہیں کہ اگر چہ جناب رسول اللہ ص کے زمانہ میں موجود نہ تھے مگر آج اس کے کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اس بات سے دین کو اتنا نقصان پہنچتا ہے کہ ایک دن بدعات دین کی جگہ لے لیتی ہیں جن باتوں کو آج ہم معمولی جان کر کرتے ہیں مستقبل میں بدعت کی ایسی شکل اختیار کر لیتی ہے کہ دینی حیثیت اختیار کر جاتی ہے پھر اسے مٹاناعلماء کے بس سے باہرہو جا تا ہے ۔اسی کڑی کا ایک سلسلہ ہمارے گاؤں کے مولوی چاند بادشاہ صاحب ہیں آج سے کئی عرصہ پہلے انہوں نے ایک پوسٹر چھا پا تھا جس میں کئی بدعات کو ثابت کرنے کی نا کام کوشش کی تھی اور ادھر ادھر سے دلائل جمع کرنے کی ناکام کوشش کی جن کو وہ آج تک کر رہے ہیں ان بدعات کی تردید کیلئے تورڈھیر گاؤں کے بعض ساتھیوں نے فتوے منگواۓ اور ان کے نام اکثر فتاؤوں میں بطور سائل درج ہیں ،اب ہم جناب مولوی چاند بادشاہ صاحب کی حقیقت آشکارا کر نے کیلئے ان فتاؤں کو اس کتاب میں نقل کر دیا تا کہ عوام الناس ان کے دھوکے سے بیچ جائیں ۔ مگر اس صورت میں ہم نے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی کہ لوگ کہیں  کہ اک عمر رسید عالم کی تردید میں کتاب لکھی ہمیں صرف خوف خدا ہے کسی کی پرواہ نہیں۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ ہم کومولوی صاحب کیساتھ نہ کوئی ذاتی جھگڑا ہے نہ کوئی دشمنی ، نہ کوئی ووٹ کا مسئلہ نہ کھیت کا ، ہمارا جھگڑا ہی ان سے اس بات پر ہے کہ جناب جو کام نبی ص نے دین نہیں سمجھا اور نہیں کیا ہےصحابہ کرام کے زمانے میں دین نہیں تھا، تابعین اور تبع نہیں۔ تابعین کے زمانے میں وہ دین نہ تھا تو کیوں آج آپ ان باتوں کو دین ثابت کر کے لوگوں کو جہنم کا ایندھن بنارہے ہیں پس واللہ اسی نظریہ کے مطابق کی سنت نبوی کی حفاظت ہو اور بدعت کا نام ونشان مٹ جاۓ ہم نے قلم کا سہارالیا اور مولوی چاند بادشاہ صاحب کی تردید کی اور اس کوعلماء کی اصطلاح میں جرح کہتے ہیں نہ کہ غیبت ہمارے دین کی بڑی بنیاداس جرح پر ہے ۔لہذا اس کو پڑھنے سے پہلے اس بات کوملحوظ رکھیں کہ کتاب لکھنے کا مقصد دشمنی یا عداوت نہیں بلکہ دین کی حفاظت ہے۔ آخر میں یادر ہے کہ ہمارا کام لکھنا تھا جو ہم کر چکے اور اپنے فرض سے سبکدوش ہوۓ ان شاء اللہ ۔ اب لوگوں کی مرضی ، فیصلہ ان پر ہے کہ مانتے ہیں یا پھر وہی کہانی شروع کرتے ہیں کہ کس کی مانیں ، والله هو الهادي الىٰ سواء السبيل! امفتی سليمان ساجد تورڈھیر (ساجد سیف الساجد علی عنق المعاند صفحہ نمبر 19-20 باقی علماء کی کتب ڈاون لوڈ کرنے کے یہاں کلک کریں۔میں کی ہے۔

سیف الساجد علی عنق المعاند ۔مفتی سلیمان صاحب
سیف الساجد علی عنق المعاند ۔مفتی سلیمان ساجد تورڈھیر