مقدمہ کتاب التوحید المعروف مسئلہ الٰہ مولانا عبدالغنی جاجروی

مقدمہ کتاب التوحید المعروف مسئلہ الٰہ مولانا عبدالغنی جاجروی

تعارف

مقدمہ کتاب التوحید، مولانا عبدالغنی جاجروی کی شاہکار تصنیف ہے جو مسئلہ الٰہ پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد اور جامع ہے، جس میں قرآنی آیات اور سلف کے اقوال سے ثابت کیا گیا ہے کہ اللہ کی وحدانیت کا مسئلہ کس طرح قرآن اور حدیث سے ثابت ہے۔

کتاب کا جائزہ

مولانا عبدالغنی جاجروی نے اس کتاب میں مسئلہ الٰہ کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہے

قرآنی دلائل: ہر دعویٰ کو قرآنی آیات سے ثابت کیا گیا ہے۔

سلف کا فہم: سلف نے ان آیات سے کیا مفہوم سمجھا ہے، اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

باطل عقائد: موجودہ دور کے باطل عقائد اور ان کے دلائل کا ذکر کیا گیا ہے، اور ان کا رد بھی سلف کے اقوال سے کیا گیا ہے۔

مغالطے: ان مغالطوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو باطل عقائد والے پیش کرتے ہیں، اور ان کا جواب سلف کے اقوال سے دیا گیا ہے۔

مشرکین کے عقائد

مولانا نے مشرکین کے بعض صحیح اور غلط عقائد کا ذکر کیا ہے اور قرآن نے ان کے غلط عقائد کو کیسے رد کیا، اس پر تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔

بریلویہ اور شیعہ عقائد

کتاب میں بریلویہ کے عقائد اور ان کے باطل قیاسات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ عقیدہ بریلوی فرقہ شیعہ کے ہم نوا ہیں۔

شفاعت اور شبہات

شفاعت کی اقسام اور اس کی اہمیت پر تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔ موجودہ دور کے عوامی شبہات کا بھی جواب دیا گیا ہے۔

شرک فی العلم اور شرک فی التصرف

مولانا نے شرک فی العلم اور شرک فی التصرف پر بھی بحث کی ہے اور اہل باطل کے مزخرفات کا جواب دیا ہے۔

احناف کا مسلک

احناف کے مسلک کو قرآن و سنت اور عقائد اہل حق کے موافق ثابت کیا گیا ہے۔

حاضر و ناظر کا مسئلہ

مولانا نے کہا کہ یہ مسئلہ بریلویوں نے عیسائیوں سے مستعار لیا ہے اور ان کے شبہات کو باحوالہ کتب سے نقل کر کے ان کے جوابات دیے ہیں۔

علمائے احناف اور اقوال صوفیاء

کتاب میں علمائے احناف کے اقوال بھی پیش کیے گئے ہیں اور اقوال صوفیاء سے اسے موید کیا گیا ہے۔

اختتامیہ

علماء و طلباء کو چاہیے کہ اس کتاب سے استفادہ کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ حضرت مولانا کو اس محنت کا ثواب جزیل عطا فرمائے۔ آمین۔