Shaikh ul Hadith Maulana Yar Bad shah شیخ الحدیث مولانا یار بادشاہ

شیخ الحدیث مولانامحمد یار بادشاہ صاحب

شیخ الحدیث مولانا یار بادشاہ صاحب کا تعارف

شیخ الحدیث مولانا یار بادشاہ صاحب آپ کا تعلق باجوڑ ایجنسی سے ہے ۔ حضرت شیخ القرآن کے خصوصی تلامذہ میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔ آپ نہایت رقیق القلب انسان ہیں ، خوف وخشیت من اللہ کا طبیعت پہ اکثر غلبہ رہتا ہے، کافی عرصہ سے دارالقرآن پنج پیر میں احادیث نبویہ کی خدمت میں مصروف تھے ۔ آپ اعلی پایہ کے ایک گمنام شیخ الحدیث تھے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ برصغیر میں اس وقت علمی طور پر آپ سے بڑا شیخ الحدیث موجود نہیں۔ ہمارے اس دعوی کو ان کے قریب جا کر پر کھا جاسکتا ہے ۔ آپ جیسے مایہ ناز عالم میں اتنے ہی عارف بھی ہیں۔ عارفی کچھ دل کی خلوت ہی میں ملتا ہے سکون جب کبھی دنیا کے ہنگاموں سے گھبراتا ہوں میں آپ بجا طور پر ایک خدا مست اور عباد الرحمن کی عملی تفسیر ہیں ۔ شیخ الحدیث مولانا یار بادشاہ صاحب مدظلہ کے نماز سے محبت کے بارے میں سننے میں آیا ہے کہ آپ جماعت اور پابندی وقت کا اس قدر اہتمام کرتے ہیں کہ ان کو دیکھ کر قرة عيني في الصلوة کے معنی سمجھ میں آ جاتا ہے ۔ان کی حالات زندگی انہی کے الفاظ میں نذر قارئین ہیں

نام ولدیت تاریخ پیدائش سکونت

 :ابونعمت الله محمد یار بادشاہ بن سید احمد عرف میاں گل صاحب بن سید قمر شاه عرف بادشاہ صاحب تاریخ پیدائش ۱۹۴۵ء سکونت باجوڑ ایجنسی سلارزئی گاؤں بڈ مالی قریب فشت ۔

ابتدائی تعلیم

 : اپنے والد ماجد سے ناظرہ قرآن پڑھا۔ خلاصہ منیۃ المصلی اردو ،فارسی مولانامحمد امین المعروف مولانا خال صاحب سے پڑھیں ۔ صرف ونحو مولانا گل شہزادہ صاحب المعروف سرکئی بابا سے سرکئی سخاکوٹ میں پڑھیں ۔ کافیہ اور مسائل منطق مولانا عنایت اللہ صاحب اور مولانا محمد شعیب چکیسر والے سے پڑھیں، اصول فقہ اور فقہ مولانا محمد صدیق المعروف اجمیر بابا سے قلیل عرصہ میں پڑھیں اکثر اصول فقہ اور فقہ مولانامحمد صدیق چونگی بابا اور میراث اور ادب کی کتابیں بھی ان سے پڑھیں اور موقوف علیہ مولانا عنایت الرحمن صاحب سے اور پھر انہی سے مشکاۃ، بیضاوی ،مسلم الثبوت تلویح بھی پڑھا ۔ ہدایہ جلالین اور بعض کتب مولانا نقیب احمد صاحب سے پڑھیں اورتفسیر قرآن پاک مسلسل تین چار سال شیخ القرآن مولانا محمد طاہر صاحب سے پڑھتے رہے۔

واقعہ

دورۂ تفسیر کے دوسرے سال قرآت کا مقابلہ ہوا۔ باجوڑ کے طلبہ کے ساتھ مولانا ضیاء الرحمن کوثری نے مخاطب کر کے فرمایا کہ تم بھی قرآت کے مقابلہ میں شریک ہو جاؤ۔ شیخ الحدیث مولانامحمد یار بادشاہ صاحب نے عذر پیش کیا کہ میں دورہ تفسیر کی کتابت کی وجہ سے شریک نہیں ہوسکتا۔ مگر پھران کے اصرار پر شرکت کرنے پر مجبور ہوگیا، مقابلہ شروع ہوا۔ پہلے دن مقابلہ کرنے والے زیادہ تھے۔ دوسرے دن چار باقی رہے ۔ تیسرے دن ایک میں رہ گیا ، دوسرا تیراہ کا ایک قاری تھا، پھر شیخ القرآن نے اس کو بھی مقابلے سے باہر کر دیا۔ شاید اس لئے کہ شیخ القرآن اونچی آواز اور گلت قرآت پسند کرتے تھے ۔طلبہ نے پوچھا کہ کیاتم حافظ قرآن ہو میں نے کہا کہ والد صاحب سے قرآن ضبط کیا اور عادت تلاوت سے یہ فیض حاصل ہوئی ہے ۔ اس کے بعد ہمیشہ میں ہی قاری رہا۔شیخ القرآن مجھ سے بہت زیادہ محبت کر تے تھے۔دورہ حدیث اور سن فراغت ۱۹۷۲ء میں دورۂ حدیث دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی میں شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان کی زیرنگرانی شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن مینوی صاحب اور مولا نا عبدالمنان صاحب سے پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ شیخ القرآن سے دوبارہ صحیح بخاری ،صحیح مسلم پڑھے اور ساتھ ساتھ دور تفسیر بھی پڑھا۔

تدریسی خدمات

شیخ یار بادشاہ صاحب نے فرمایا : ” جب میں فارغ ہوا تو بعض کتب کی تحیل کے لئے سوات چلا گیا۔ شیخ القرآن نے بعض طلبہ کو میرے نام خط دے کر سوات بھیجا ۔ اس خط میں تحریر تھا کہ تورڈھیر چلے آؤ، تور ڈھیر والوں نے شیخ القرآن کے حکم پر مجھ سے درس قرآن کا مطالبہ کیا۔ میں نے دو سال درس قرآن پڑھایا، پھر ۱۹۷۳ء میں شیخ القرآن نے بلا کر فرمایا کہ : تم دارالقرآن میں دورہ حدیث پڑھاؤ۔ اس لئے کہ مجھے فرصت نہیں۔ اب صرف دور و تفسیر پڑھاؤں گا اور تم اس لئے تدریس شروع کر دو کہ ہمارے طلبہ دوسری جماعتوں کے مدارس میں جب جا کر پڑھتے میں تو ذہنی طور پر وہاں کے مدرسین کا اثر قبول کر جاتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ میں پہلے فنون پڑھانا چاہتا ہوں پھر دورہ حدیث پڑھاؤں گا اس پر شیخ القرآن نے بڑے لطیف پیرائے میں فرمایا کہ : ” جب گھوڑے کی سواری کی سہولت نہیں ہے تو گدھے پر کیوں سوارہونا چاہتے ہو“۔ حضرت شیخ القرآن کے حکم سے مجبور ہوکر میں تورڈھیر سے پنج پیر چلا آیا۔ دورہ حدیث میں شیخ القرآن کے ذمہ بخاری ومسلم اور میرے ذمہ ترمذی اور ابوداؤد کی کلاسز ذمہ ہماری  تھیں۔دو تین سال فنون بھی پڑھاۓ ۔ میری تمنا تو تھی کہ میں فنون کو چھوڑ کر صرف دورہ حدیث پڑھاؤں لیکن ادب کی وجہ سے میں شیخ القرآن سے اظہار نہ کر سکا لیکن شیخ القرآن میری تمنا کو بھانپ کر مجھے کہا کہ چلوفنون چھوڑ دو اور صرف دورۂ حدیث پڑھاؤ ۔ میں یہ سن کر بہت خوش ہوا میں نے شیخ القرآن کے بخاری ومسلم کے امالی بھی قلمبند کیےحضرت شیخ القرآن جب دنیا سے رحلت فرما گئے تو دورہ حدیث کی تمام کتب میرے ذمہ ہوگئیں۔ دو سال میں اکیلے پڑھاتا رہا، پھر دوسال بعد میں نے دو کتابوں کی تدریس کی ذمہ داری مولا نا محمد طیب صاحب کے حوالے کی ۔ چند سال بعد جب مفتی صاحب ( مفتی سراج الدین صاحب ) نے موقوف علیہ پڑھانا مکمل کیا تو ابوداؤد اور مسلم جلد ثانی ان کے حوالہ کر دیا۔ مطلب یہ کہ بندہ نے ۱۹۷۳ء سے دورۂ حدیث کا پڑھانا شروع کیا۔۳۲ سال بحمداللہ حدیث کی خدمت کی اور اس عرصہ دارالقرآن سے ۲۰۰۰ سے زائد طلبہ فارغ ہوۓ ۔ میری دعا ہے کہ اللہ کریم تادم آخر مجھ سے احادیث نبویہ کی خدمت ہے۔(آمین)

بیعت ومجاز

:فرماتے ہیں میں شیخ القرآن سے بیعت بھی ہوں اور ان ہی کا خلیفہ مجاز بھی ہوں‘۔

جماعتی عہدہ

شیخ الحدیث مولانا یار بادشاہ صاحب کو جماعت اشاعت التوحید صوبہ سرحد کی جانب سے امارت کی ذمہ داری سپرد کی گئی ہے ۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ شیخ الحدیث صاحب مدظلہ کی عمر میں برکت ڈالے تا کہ تشنگان علوم حدیث ان کے فیض سے مستفیض ہوتے رہیں ۔ (آمین) اگرباقی علماء کی تصانیف ڈاون لوڈ کرنا چاہیتے ہو تو یہاں کلک کریں۔