Maulana Badshah Munir مولانا بادشاہ منیر

آپ بروز جمعہ ۱۵ ذی الحجہ ۱۳۸۷ھ بمطابق ۱۹۶۸ منصور آ بادخال در پائیں میں جناب اختر منیر کے ہاں پیدا ہوۓ ۔ ابتدائی تعلیم حضرت مولانا خائستہ رحمان صاحب مدظلہ کے ہاں حاصل کی ۔ درجہ رابعہ سے موقوف علیہ تک کتب حضرت مولانا عبد الشکور صاحب مدظلہ سے پڑھی ، مولا نا محمد وہاب صاحب سے ہدایہ رابع پڑھنے کی سعادت حاصل کرنے کے بعد بالا خیر ۱۔۱۴۱۰ھ بمطابق ۹۱-۱۹۹۰ء میں فراغت دارلعلوم کراچی سے ہوئی ۔ آپ کے مشہور اسا تذہ میں شیخ العرب والعجم حضرت مولا نا محمد طاہر رحمۃ اللہ علیہ، شیخ القرآن مولا نا خائستہ رحمان صاحب ، شیخ القرآن مولانا محمد طیب صاحب ، شیخ القرآن مولا نا عبدالشکور صاحب شیخ الاسلام مفتی محد تقی عثمانی صاحب مفتی اعظم پاکستان مولا نا محمد رفیع عثمانی صاحب ، شیخ القرآن مولا نا عبدالسلام صاحب اور شیخ القرآن مولا نا محمد افضل خان صاحب نوراللہ مرقدہ شامل ہیں۔ آپ دوران طالب علمی اسباق میں غیر حاضری کو طبعا پسند نہیں کرتے تھے ۔ایک مرتبہ آپ کے پاؤں پر کالا پھوڑا نکلا ، جس کی وجہ سے سخت بخار بھی ہونے لگا ،مگر اس کےباوجود مطول کے درس کو حاضر ہوئے اور استاد سے چھٹی لینا گوارہ نہ کیا لیکن جب استادحضرت مولا نا عبدالشکور صاحب مدظلہ کی نظر پڑی تو انہوں نے تکلیف بھانپ لی اور دیگرساتھیوں سے اجازت لے کر باقی ماندہ اسباق کی چھٹی دی ۔آپ فراغت کے بعد اپنے مادر علمی دارالعلوم تعلیم القرآن خال دیر میں درس  وتدریس کی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ کئی مرتبہ مبتدعین سے مناظرے ہوئے ۔ ایک مناظرے کا حال یوں لکھتے ہیں کہ : ہم مناظرہ گاہ بنے تو سب کی بالائی منزل جائے مناظرہ مقرر ہوئی، مناظرہ شروع ہوا میں نے فریق مخالف سے پوچھا کہ یہ حیلہ مروجہ فرض ہے، واجب ہے ، سنت ہے یا مستحب؟ وہ لا جواب ہو کر چپ ہو گئے، بالآ خر کہنے لگے مستحب ہے۔ میں نے مستحب کی تعریف پوچھی تو پھر چپ ہو گئے ۔ وہاں موجودلوگ سمجھ گئے کہ مبتدعین باطل پر ہیں۔یہ لوگ چپ چاپ نیچے اترے اور لوگوں کو اکسانے اور اپنی خفت چھپانے کی غرض سے کہنے لگے کہ یہ پنج پیری ہیں ان کو مار ڈالو، ایک پنج پیری کا مار ڈالنا ستر ہندوؤں سے افضل ہے ۔ جب ہم جائے مناظرہ سے نیچے اترے تو دیکھا کہ لوگوں کے ہاتھ میں کلاشنکوفیں اور بندوقیں تھیں ، ان کے عزائم اچھے نظر نہیں آ رہے تھے کہ انہی میں سے ایک شخص کو اللہ نے غیرت دلائی وہ ز یادتی برداشت نہ کر سکا۔ سوا کیلا ان تمام کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو گیا اور ان کے حملے کو پسپا کر کے انہیں پیچھے دکھیلا ،اس پر مخالفین نے پتھر مارنا شروع کر دئے ۔ اللہ نے کرم کیا اور بخیر و عافیت واپس آ گئے ۔ آج الحمد للہ وہ علاقہ موحدین کا علاقہ بن چکا ہے۔مولا نا بادشاہ میر صاحب جماعت اشاعت التوحید والسنہ کے نائب ناظم نرو اشاعت کے عہدہ پر فائز ہیں ۔ اللہ کریم آپ کی دینی خدمات و مساعی کو قبول فرمائے اور انہیں مزید ترقی سے نوازے۔(آمین)


مولانا بادشاہ منیرکے تمام تصانیف یہاںسے ڈاون لوڈ کریں۔

انارة الضحو شرح ھدایۃ النحو پشتو
انارة الضحو شرح ھدایۃ النحو پشتو

منتدب الحماسی شرح منتخب الحسامی
منتدب الحماسی شرح منتخب الحسامی

التقرير السامی فی شرح الجامی جلد 1پشتو از بادشاہ منیر
التقرير السامی فی شرح الجامی جلد 1پشتو از بادشاہ منیر

التقرير السامی فی شرح الجامی جلد 2 پشتو از بادشاہ منیر
التقرير السامی فی شرح الجامی جلد 2 پشتو از بادشاہ منیر

Leave a Reply