Al Alamat e Nahwia Urdu pdf العلامات النحویہ اردو

Al Alamat e Nahwia Urdu pdf العلامات النحویہ اردو

Al Alamat e Nahwia Urdu by Maulana Muhammad Hasan

PDF Viewer

کتاب:  العلامات النحویہ فی حل تراکیب العربیہ اردو

موضوع :علم النحو

مصنف : مولانا محمد حسن

زبان: اردو

ناشر: ادارہ محمدیہ لاہور

العلامات النحویہ فی حل تراکیب العربیہ اردو کی اہمیت

ترکیب فہمی میں آسانی

یہ کتاب ترکیب کی گتھی سلجھانے کے لیے بہت عمدہ معاون ہے، جس کی مدد سے ابتدائی طلباء بھی مشکل ترکیبوں کو با آسانی سمجھ سکتے ہیں۔

علمی اعتماد میں اضافہ

اس کتاب کی مسلسل مشق سے طلباء میں علمی اعتماد پیدا ہوتا ہے اور وہ عربی عبارات کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

العلامات النحویہ فی حل تراکیب العربیہ اردو کے فوائد

طلباء کے لیے

  • عربی عبارت پڑھنے، سمجھنے اور ترجمہ کرنے میں مہارت
  • قرآن، حدیث اور دیگر نصوص کی ترکیب سیکھنے میں آسانی
  • امتحانات کی تیاری میں مددگار

اساتذہ کے لیے

  • تدریس کے لیے عملی رہنمائی
  • ترکیب سکھانے کے نئے انداز
  • درسی ترتیب کے ساتھ تربیت

عام شائقین کے لیے

  • عربی زبان سے شغف رکھنے والوں کے لیے بہترین آغاز
  • قرآن فہمی میں مددگار
  • عربی عبارتوں کو سمجھنے کا شعور

کتاب العلامات النحویہ فی حل تراکیب العربیہ اردو کیوں منفرد ہے؟

العلامات النحویہ فی حل تراکیب العربیہ اردو عام نحو کی کتب سے ہٹ کر عملی مشق کی کتاب ہے جو علاماتی اسلوب، تدریجی ترتیب، اور آسان انداز سے ترکیب سکھاتی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف مدارس میں پڑھائی جا سکتی ہے بلکہ گھر پر خود مطالعہ کرنے والوں کے لیے بھی بہترین ہے۔

کتاب ہذا کو دیکھنے کا طریقہ

آپ نے جو بحث دیکھنی ہو تو قرآن کریم یا کوئی عربی کی کتاب جو آپ پڑھتے ہوں اس کو سامنے رکھیں پھر آپ کتاب کے اندر علامات کو دیکھتے جائیں اور اس کی مثالیں تلاش کرتے جائیں۔ چند دن ایسا کرنے سے الحمد للہ آپ کو عربی عبارت میں کافی سوجھ بوجھ حاصل ہو جائے گی۔

علامات نحویہ کو استعمال کرنے کی ایک حسی مثال

ان علامات اور تراکیب کے حل کی مثال دوائی کی طرح ہے جیسے حکیم نے ایک مریض کو ایک ہفتہ کی دوائی اکیس گولیاں ایک شیشی میں بند کر کے دیں اور کہا کہ ہر روز تین تین گولیاں کھانی ہیں۔ تو اب اگر وہ مریض ہر روز تین تین گولیاں کھائے تو وہ دوائی اس کے لیے مفید ثابت ہو گی اور شفاء کا ذریعہ بنے گی انشاء اللہ اور اگر وہ مریض ایک ہی دن میں ساری دوائی کھائے تو پھر وہ دوائی بجائے فائدہ کے نقصان کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اسی طرح طالب علم کی مثال بھی مریض کی طرح ہے اور ان علامات کی مثال شیشی میں بند گولیوں کی طرح ہے لہذا طالب علم ان علامات کو ایک ہی دن میں استعمال نہ کرے یعنی اخبار کی طرح ایک ہی مجلس میں یکبارگی سب پر نظر نہ ڈالے بلکہ مریض کی طرح آہستہ آہستہ ان علامات کی گولیوں کو استعمال کرے تو انشاء اللہ جلد شفایابی اور عربی ترکیب کے اندر مہارت اور قوت کا سبب بنیں گی۔ پھر حکیم جیسے بہت سخت مریض کو ایک پڑیا میں گولیوں کے ساتھ کیپسول بھی دیتا ہے اور وہ بھی گولیوں کے ساتھ ایک ایک یا دو دو کر کے کھائے جاتے ہیں لہذا بڑی تراکیب (جملہ فعلیہ جملہ اسمیہ وغیرہ) کے حل کی مثال کیپسول کی طرح ہے تو ان کو بھی بقدر ضرورت آہستہ آہستہ بقدر فهم استعمال کیا جائے پھر جیسے حکیم کبھی گولی اور کیپسول کے ساتھ پینے کے لیے شربت بھی دیتا ہے تاکہ جسم کو تازگی اور ٹھنڈک پہنچے تو اسی طرح آپ بھی ان علامات کی گولیوں کے ساتھ اور بڑی تراکیب کے ساتھ اجراء کا ٹھنڈا شربت ضرور لیجے کیونکہ محض علامات کی گولیاں اور بڑی تراکیب کے کیپسول کھانے سے ذہن میں خشکی پیدا ہو سکتی ہے لیکن جب اجراء کا ٹھنڈا شربت پئیں گے تو وہ آپ کے ذہن کی خشکی اور بد دلی کو ختم کرے گا اور دل کو فرحت سرور اور خوشی سے ہمکنار کرے گا۔ الغرض ان علامات اور جملوں کی تراکیب کے حل کو آہستہ آہستہ اجراء کے ساتھ دیکھا جائے۔
علامات وغیرہ کے اجراء کی ترتیب

 ان علامات اور تراکیب کے اجراء کی ترتیب یہ ہے کہ شروع میں مضاف مضاف الیہ اور موصوف صفت کی ابتدائی کثیر الاستعمال علامات کی قرآن کریم احادیث نبویہ اور دیگر کتب درسیہ سے مثالیں نکلوا کر ان کی خوب مشق کروائی جائے۔ پھر جملہ اسمیہ کی تعریف اور اس کی علامات یاد کروائی جائے پھر پہلے چھوٹے جملہ اسمیہ کی مشق کروائی جائے۔ چھوٹے جملہ اسمیہ سے مراد وہ جملہ ہے جو دو اسموں سے مل کر بنا ہو مثلا اللّٰهُ سَمِيعٌ اللّٰهُ عَلِيمٌ “۔ پھر بڑے جملہ اسمیہ کی مشق کروائی جائے جس میں مضاف مضاف الیہ کی ترکیب استعمال ہوئی ہو۔ مثال الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر يا موصوف صفت وغیرہ کی ترکیب استعمال ہوئی ہو جیسے هو الله الخالق البارئ المصور۔ پھر اس کے بعد جملہ فعلیہ کا حل چار حصوں میں تقسیم کر کے پڑھایا جائے۔

  • پہلے دن فاعل و مفاعیل خمسہ کی تعریف
  • دوسرے دن مضمرات کی بحث
  • تیسرے دن جملہ فعلیہ کی تراکیب کا حل
  • چوتھے دن جملہ فعلیہ کا اجراء

 اجراء میں جملہ فعلیہ کی قرآن پاک سے خوب مثالیں نکلوائی جائیں۔ اور اس میں فاعل و مفاعیل خمسہ میں سے ہر ایک کی تعیین کے ساتھ پہچان کروائی جائے۔ انشا اللہ چند دن آپ کے اس طرح مشق کروانے سے طلباء کو ترکیب کے ساتھ مناسبت پیدا ہو جائے گی۔ پھر بقیہ تراکیب بمع مشق کے پڑھائی جائیں۔ یہ بندہ کی ناقص کی رائے ہے۔ باقی اساتذہ کرام جو شب و روز اخلاص کے ساتھ مہمانان رسول صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں مشغول ہیں وہ اپنے علم و فہم اور تجربہ کی بنیاد پر وہ ترتیب اپنائیں جس کو طلباء کے لیے مفید سمجھیں۔

دفع و خل مقدر جواب سوال مقدر

اس کتاب کے قاری کے ذہن میں یہ بات ملحوظات ہے کہ

یہ علامات ابتدائی طلباء کے ذہن کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں ان علامات میں عام استعمال کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ لھذا اگر کسی مقام میں کوئی مثال ان علامات کے خلاف مل جائے تو اس کو مستثنیات میں شمار کیا جائے کیونکہ ان علامات سے مقصود جزئیات کا انضباط کرنا ہے لہذا ایک علامت کے ذریعے سو میں سے بچاس یا زائد کا احاطہ ہو سکتا ہے تو اس کے لیے ایک علامت مقرر کر دی گئی ہے آپ اس علامت سے مثلاً پچاس جزئیات اور مثانوں کی ترکیب کو حل کریں باقی کا حل بھی اللہ پاک آپ کے ذہن میں ڈال دیں گئے۔ ان تمام نشانیوں میں مشترکہ طور پر یہ بات ذہن میں رکھیں کہ نشانی کے بعد ترجمہ میں

غور کریں اگر ترجمہ ٹھیک ہے تو بہت اچھا ورنہ وہاں دوسری ترکیب کا احتمال پیدا ہو جائے گا۔

دیگر مباحث مھمہ

 اس کتاب میں مشہور ترکیبوں کے حل اور علامات کے علاوہ تین اہم بنیادی مباحث مثلاً عبارت پڑھنے اور سننے کا طریقہ مطالعہ کرنے کا طریقہ اجراء کرنے کا طریقہ کا خصوصی طور پر اضافہ کیا گیا ہے جن کا مطالعہ ابتدائی کتب پڑھانے والے اساتذہ اکرام اور عبارت اور کا مطالعہ کے بارے میں پریشانی رکھنے والے طلباء کرام کی لیے انشاء اللہ مفید ثابت ہو گا ساتھ ہی نحو میر کی وہ ابتدائی ابحاث بھی آسان انداز سے ذکر کر دی گئی ہیں جن کا مبتدی کے لیے اجراء کے وقت استحضار ضروری ہے تا کہ اس کتاب میں اجزاء کی بحث میں دیئے گئے سوالات اور جوابات کو سمجھنے میں آسانی ہو آخر میں انتہائی معذرت کے ساتھ مشورہ عرض ہے کہ صرف ونحو کی ابتدائی کتب کے لیے ایک ماہر استاذ کی خدمات حاصل کی جائیں۔ ابتدائی اساتذہ کرام ان کے زیر نگرانی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھیں۔ جب بڑے اساتذہ کرام یہ سمجھیں کہ آپ ابتدائی اساتذہ کرام تعلیمی سلسلے کو بوٹی سنبھال سکتےمیں تو پھر صرف ونجو کا کام ان کے سپرد کر دیا جائے۔

حسبنا الله ونعم الوكيل ، نعم المولى ونعم النصير

Leave a Reply