Al Tibyan fi Siagh ul Quran by Maulana Abdul basit
التبیان فی صیغ القرآن مولانا عبدالباس
قرآن شریف کے کلمات کی مکمل صرفی تحقیق صیغہ کا اصل باب چہاردہ اقسام اور قوانین
مرتب مولوی عبد الباسط عفی عنہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی و مدرسه جامعہ دار العلوم گلستان نظر ثانی
مفتی حمد اللہ صاحب۔ فاضل جامعہ دار العلوم کراچی باهتمام وجعاون مولنا محمد اشرف علی دامت برکاتہ (چمن) فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی
مكتبه عزیزیہ (چمن)
کچه حل شدہ ترتیب کے بارے میں
یا ایک ا جو آیت یا کلمہ مکر رہو اسکو دوبارہ حل نہیں کیا جاتا بلکہ ایک جگہ پر حل کرنے پر اکتفاء کیا جائیگا۔ پر جو لفظ جامد ہوا گر جمع تھا اسکو اسم جمع سے اور اگر مفرد ہو اسکو اسم مفرد سے بھی لکھا جاتا ہے۔ چونکہ صرفی حضرات اعلال و تغیر سے بحث کرتے ہیں تو کتاب مذکور میں ابتدائی ایک پارہ کے علاوہ تمام پاروں میں صرف وہ الفاظ کے حل بیان ہوا ہے جو معرب ہوا سمائے غیر ممکن( ضمائرز ، اشارات، موصلات) وغیرہ مبنیات سے بحث نہیں کیا جاتا۔- جن کلمات میں قواعد و قوانین جاری ہوئے ہیں اُن قواعد کو اُن ناموں سے ذکر کیے جاتے ہیں جنکو صرف کے مشہور کتاب ارشاد الصرف نے موسوم کیے ہیں اگر چہ وہ نام نحوی لحاظ سے اُس لفظ پر منطبق نہیں ہوتا ہو مثلا ارشاد الصرف میں ایک قاعدہ ہے کہ جس کلمہ میں تنوین ، یا نون تثنیہ وجمع ہو بوجہ الف لام ، واضافہ ،تنوین ونون تثنیہ و جمع حزف کیا جاتا ہے اس قاعدہ کو اضافہ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے مثلا بسم اللہ میں لفظ اسم سے بوجہ اضافہ تنوین حرف ہوا ہے اور لفظ اللہ میں بوجہ الف لام تنوین حرف ہوا ہے دونوں میں قاعدہ اضافہ جاری ہوا ہے اگر چہ لفظ اسم میں نحوی لحاظ سے اضافہ ہے اور لفظ اللہ میں اضافہ نہیں۔ پھر بھی لفظ اللہ کے قوانین کے خانے میں اضافہ لکھا جائیگا۔ – ثلاثی مجرد کے اکثر مادوں میں ایک مادہ دو تین بابوں میں آسکتا ہے تو اُن الفاظ کیلئے باب کے خانے میں تینوں ہی بابوں کیطرف اشارہ کیا جاتا ہے مثلا فسوق کا مادہ ضرب، نصر، شرف سب سے آتا ہے۔ جو الفاظ اپنا اصل پر ہو انکو اصل کے خانے میں علی اصلہ یا بر اصل خود لکھنا ہوگا۔ – کتاب مذکور میں جن قواعد کا زیادہ استعمال ہوا ہے آسانی کیلئے انکے مختصر وضاحت کریں گے۔ وفقكم الله تعالى

2 thoughts on “Al Tibyan fi Siagh ul Quran التبیان فی صیغ القرآن”
التبیان فی صیغ القرآن خریدنا چا ھتا ہو ں
کتاب پر موجود پبلشر سے رابطہ کریں