Allama Abdul Ghani Jajravi علامۃ عبدالغنی جاجروی

تصانیف علامۃ عبدالغنی جاجروی یہاں سے ڈاون لوڈ کریں۔ مطلوبہ کتاب کو ڈاون لوڈ کرنے کے لیے کتاب کے کور پر کلک کریں۔

شیخ التفسیر مولانا مولاناعبدالغنی جاجروی آپ ۱۹۲۳ء میں خانپور رحیم یارخان کی نواحی بستی حاجی بلوچاں‘ کے مولانا غلام محمد کے ہاں پیدا ہوئے ، بیس برس کے عمر میں علوم متداولہ سے فارغ ہوئے ۔ شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی اور مولانا خیر محمد بہاولپوری ثم المکی سے حدیث پڑھی۔ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری سے شیخ العرب والعجم مولانا عبیداللہ سندھی کی طرز پر اور شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان سے حضرت مولاناحسین علی کی طرز پر دورہ تفسیر پڑھا۔ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان کے علوم و معارف کی سب سے زیادہ اشاعت آپ کے ذریعے ہوئی۔ وہ اپنے علمی تبحر تدبروتدوین، زہد و تقوی اور مضامین قرآن پر رسوخ واستحضار کے باعث اپنے شیخ کے علمی جانشین اور ان کی فکر کے امین و وارث تھے۔ اہل علم کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے شیخ سے وہی تعلق تھا جو امام ابو یوسف کا امام ابوحنیفہ سے اور حافظ ابن قیم کا امام ابن تیمیہ سے تھا۔ آپ نے مولانا احمد علی لاہوری کے ہاتھ پر بیعت طریقت کی اور ان کے حکم سے مولا نا حماداللہ ہالیجی (سکھر) سے رجوع کر کے سلوک و عرفان کے مراحل کی تحمیل کی اوران سے مجاز ہوئے ۔ عمر کے آخری حصے میں شیخ القرآن ( راولپنڈی والے ) کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کی طرف سے بھی مجاز ہوۓ ۔ اپنے علاقے کے مختلف مدارس میں تدریس کرتے رہے ۔ ۱۹۳۲ء میں رحیم یار خان میں جامعہ حماد یہ بدرالعلوم کے نام سے ایک دارالعلوم قائم کیا اور آخر وقت تک ایے وابستہ رہے۔مولاناعمر بھر جمعیت اشاعت التوحید والسنہ سے وابستہ رہے ۔ جمعیت کے صوبائی امیر بھی رہے، تدریس کا بے حد شوق تھا تفسیر کے علاوہ دورۂ حدیث بھی پڑھاتے تھے۔ آپ نے چالیس برس تک تدریس کی اور دورہ تفسیر پڑھایا۔ براہ راست تلامذہ کی تعداد بارہ ہزار سے متجاوز ہے ۔نومبر ۱۹۹۰ء میں مولانا کا انتقال ہوا۔ آپ کے صاحبزادے مفتی محمد جاجروی آپ کے جانشین ہوئے ۔ مولانا کو تصنیف و تالیف سے بھی علاقہ تھا اور آپ نے گراں قدر تصانیف یادگار چھوڑیں، چند کے نام یہ ہیں ۔
(۱) مـقـدمـه كـتـاب الـتـوحـيـد (۲) كتاب التوحيد في التصرف (۳) كتاب التوحيد في العباده (۴) كتاب التوحيد في العلم (۵) المذهب المنصور في عدم سماع من في القبور (۲)شرح الصدر في مسئلة القبر (2) القول النقي في فضيلة النبي صلى الله عليه وسلم (۸)مبالغات القوم۔ مولانا نے مختلف موضوعات پر مختصر رسائل بھی تحریر فرماۓ جن کے نام درج ذیل ہیں
(۱) تحقیق فدک (۲) میراث انبیاء علیہم السلام (۳) نکاح یوسف علیہ السلام وز لیخا(۴) نفی حیات خضر علیہ السلام (۵)سنت نبویہ فی ثبوت اللحیۃ (۲) بشریت انبیاء۔ مولا نا عبدافتی صاحب نے سورہ اتم مومن اور سور حن سجد ہ کی تفسیر عربی زبان میں تحریرکی۔ قرآن پاک کی مکمل اردو تفسیر بھی غیر مطبوعہ حالت میں مولانا کی یادگار ہے۔ مولانا کی وفات کے بعد مولا نا مفتی محمد جاجروی مدظلہ کے اہتمام سے ” خطبات جاجروی“ کے نام سے مولانا کی تقاریر دوجلدوں میں شائع ہوئیں۔ جن کے مطالعہ سے مولانا کے اسلوب خطابت کا اندازہ ہوتا ہے۔

1401 ھ  کو راقم الحروف شریک درجہ موقوف علیہ تھا اور جامعہ بدرالعلوم کے افاد بخش دستور کے مطابق حضرت الاستاذ قبلہ والد مکرم رحمۃ اللہ علیہ کے درسی افادات قلم بند کر رہا تھا ۔ ابتدا میں یہ بات کہیں حاشیہ  خیال میں بھی یہ تھی کہ اپنی شکستہ تحریر کو منضبط ومرتب بھی کرنا ہوگا لیکن ایک موہوم سی امید ضرور تھی کہ کل امير مرهون با وقاته کے تحت ضرور اسے زیر اشاعت لانا ہے ۔ دورہ حدیث سے قبل سال میں حدیث کے مقبول اور جا مع منتخب مجموعہ (مشکوۃ المصابیح کا درس ہوتا ہے ۔جس کا مقصد طلباء کو دورہ حدیث کے لیے تیار کرنا اور ان میں دورہ حدیث والے سال بیان ہونے والی فنی مباحث کو اچھی طرح سمجھنے کی استعداد پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ اسی وجہ سے اس درجہ کو موقوف علیہ کہا جا تا ہے ۔ اور اسی مناسبت سے دورہ حدیث کے مباحث نسبت کم بسط وتفصیل کے ساتھ درس مشکوۃ شریف کے دوران بھی بیان کیے جاتے ہیں ۔استازی وو الدی المکرم نور اللہ مرقدہما کے درس مشکواۃ شریف کا شمار بھی مقبول ترین دروس حدیث میں ہوتا تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ ہرسال طلبا ، حدیث کی ایک اچھی خاصی تعدا را پنی علمی پیاس بجھانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتی اور اس چشم فیض سے سیراب ہوتی فلله الحمد، دار الفنار سے دار البقاء کی طرف رحلت فرمانے کے بعد دینی چشمہ کے فیض کا انقطاع ایک دینی وعلمی انخلاء اور نقصان تھا لیکن صد حمد وستائش کے لائق وہ ذات بابرکات ہے کہ جس نے اس نا اہل انسان کو محض اپنے فضل وکرم سے یہ توفیق عطا فرمائی کہ وہ ان غیر منضبط اوراق دتحریر کو اپنی ناقص و کم فہم دعقل کے مطابق تسوید و تبویب کے سانچہ میں شائقین علوم نبویہ کے سامنے پیش کر رہا ہے یہ نااہل انسان اس مقدس کام میں کہاں تک کامیاب و کامران رہا ہے ۔ یہ ناظرین و قارئین منتفعین باتمکین پر موقوف ہے کہ اپنے عقل سلیم کے مطابق جو فیصلہ فرما دیں

 نیز مجھے اس کام میں کن مراحل سے گذرنا پڑا اور کیا کچھ سنتا پڑا یہاں تک کہ بقول کس یہ کام صرف شہرت کے لیے ہے مگر میں اس کا کیا جواب دوں میں اتنا ہی کافی ہے کہ یہ معامله روز حشر پر چھوڑ دیاجائے ۔ ثانیا اگر شہرت اتنی سستی ہے تو یہ کام ان سے بھی تو لیا جا سکتا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ اس دنیا میں نیت با صواب کی ضرورت ہے ۔ اور ما استطعت وما توفيقي إلا بالله عليه توكلت واليه انیب ) کائنات کا تمام نظام مشیت ایزدی کے تابع ہے ۔ جو شخص بھی کوئی اچھا کام کرتا ہے اللہ تعالی کی توفیق ہی اسس کے شامل حال ہوتی ہے اگر چہ احادیث رسول اللہ کو اس کے گراں قدر اور بے شمار تحقیقات اور شردحات کی موجودگی میں اس نا اہل کی حقیر کی خدمت کی بالکل ضرورت ہی نہیں تھی ۔ مگر اس کا کیا علاج ہے کہ یہ نا اہل انسان تو محتاج خدمت ہے ۔

اسعد المفاتیح شرح اردو مشکاۃ المسابیح جلد اول از مولاناعبدالغنی جاجروی
اسعد المفاتیح شرح اردو مشکاۃ المسابیح جلد اول از مولاناعبدالغنی جاجروی

Leave a Reply