مولانا خان بادشاہ کے والد ماجد کا نام شاندی گل ہے ۔ آپ علاقہ کو ہاٹ کے ایک معزز و محترم خاندان کے فرد فرید ہیں ۔ آپ مسلکاََ ومشر باََ حنفی ، دیو بندی ، اشاعتی پنج پیری ہیں ۔ رب ذوالجلال نے آپ کو بے شمار اوصاف جمیلہ سے نوازا ہے ۔حضرت مولانا مدظلہ نہایت ذہین فطین اور محنتی ہیں ۔اساتذہ کی تو جہات اور شفقتیں میسر آئیں تو جو ہر قابل نے جلد ہی اپنامقام بنالیا ، بالخصوص شیخ العرب والعجم مولا نا محمد طاہر کے درس و صحبت اصلاح وتربیت میں تو مردم سازی کی بڑی شان تھی ۔ دور طالب علمی میں آپ کو حضرت شیخ کی سر پرستی حاصل رہی ۔ آپ کو اللہ نے تصنیف و تالیف اور تحقیق و تدقیق کا بے مثال ملکہ عطا فر مایا ہے ۔ آپ کے قلم میں بلا کی روانی ،طوفان کی تیزی اور تلوار کی کاٹ ہے ۔ یہ کہنا مبالغہ آرا کی نہیں ہوگی کہ اسماءالرجال کے فن میں آپ یقینا اس وقت امامت کے درجے تک پہنچ چکے ہیں ۔ آپ نے جس موضوع پر قلم اٹھایا لکھنے کا حق ادا کر دیا ، آپ نہایت انوکھے ا انداز میں لکھتے اور دلائل و براہین کے انبار لگادیتے ہیں ۔تصنیف و تالیف کا ذوق اور ملکہ ایک وہبی چیز ہے ۔ کتاب پڑھنا جس قدر آسان ہے لکھنا اسی قدرمشکل ،مگر اللہ نے زہدو رع تقوی و پرہیز گاری ، قوت حافظہ ، ذہانت و ذکاوت کی دولت کے ساتھ ساتھ ادبی اور تصنیفی ذوق وافر عطا فرمایا ہے ۔ قرآن وحدیث میں تحقیق کے میدان میں آپ نے اچھےانچوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آپ کا انداز تحریر نہایت ناقدانہ ہے ۔ حتی کہ اپنے جماعت کے ساتھیوں پر بھی نقد فرمانے سے نہیں ہچکچاتے ۔ آپ کے قلم بفضل تعالی سے اب تک پچاس سے زائد تصانیف و تالیفات منظر عام پر آ ئیں ۔ ذیل میں ان کی تصانیف کی طویل فہرست ہیں:
۱ ) ارشاد الناظر فيما افترى بہ الفوى الفاجر على الائمة الاكابر (عربی) (۲) الصو اعق المرسلہ على الملا الداجوى و اتباعہ الطاغية (۳) الیواقیت الخفیۃ علی الاعتراضات الداجویة . (۴) تطهير الجنان واللسان (۵) رفع اعلام عن الماموم و الامام (۲) السكين (۷)الفتاوى (۸) الشهاب النارية على من رد على العقيدة السلفية (9) القول المبين في اثبات تراویح العشرین (۱۰) فصل الخطاب على من يحرم السواد بالخضاب ( ا ا ) تشريح فتوىٰ خطيب مكة المكرمه ( ۱۲ )مسرة على من يقول بوجوب الصلوٰتین(۱۳) حقيقة المناظره في دارالعلوم تهل ( 1 ) الشهاب المبين (۱۵)تحفة الكرام بمن تكرم فی المهد بالكلام و هو عيسى ٰعليه السلام (۲ ۱ )المسامير الناريه على المقالات الفريديه (1) الارشاد المفيد لعلماء اشاعة التوحيد ( ۱۸ ) التحفة العجيبۃ لاهل السنة والشيعه (١٩) الصارم المسلول على من یفضل الولى على الرسول (۲) التنبيه الطالب على عدم نفاق ثعلبة بن حاطب ( ۲۱ ) الصارم المسلول على من بدل دين الرسول (۲۲) تسكين الخاطر لاعمال مولانا محمد طاهر (۲۳) قرة العيون بما عليه السلف الصالحون (۲۴) السيف السقيل على ابن نيلاك الذليل (۲۵) تدقيق الكلام على تدقيقات مولوى عبدالسلام (۲۲) اقامة البرهان على مكائد الشيطان(۲۷) قلائد العقيان في عجائب اهل الزمان (۳۴) الجواهر الثمين في تحقيق المسائل عشرين (۳۵) الدرة النفسيه في المسائل الحديثه (۳۶) الرسالة اللامعة لمضل الرابطه (۳۷)مقامع الحديد على من يكفر اهل التقليد (۳۸)الياقوت الحمراء على من ينسب الشرك الى آدم و حوا عليهما السلام (۳۹) النبی المغفور سماه الظالمون بالمسحور (۴۰) کشف الغطاء عن علم آصف بن برخيا (۴۱) اللؤلؤ والمرجان في حل مشكلات القرآن (۴۲) جواهر الحسان في تفسير القرآن بالقرآن (۲۳)السيف الشهير على من ترك المذهب لدراهم والدنانير (۴۴) المقامع الحديد على خرافات الصفدریه (۴۵) الرد المنظوم في مناقب الامام المظلوم (۴۲) قرة العينين في تحقيق المسئلتين (۴۷) الجواب المحرق السرى على شاطن المهجور الغوی (۴۸) التنقيد الجوهر ی على خرافات سردار جی (۴۹) اہل میت کی طرف سے دعوت کی رسم (۵۰) البرهان الجلى على مسنونية الذكر الخفی۔حضرت علامہ ماشاء اللہ سے ابھی حیات ہیں ۔ اللہ ان کی عمر میں برکت ڈالے تا کہ قرآن وسنت کے سلسلے میں اسی طرح تحقیقی وتعمیری کام کرتے رہیں اور ہم جیسے فقیر طالب علموں ان سے استفادہ کرنے کا موقع ملتار ہے ۔ حضرت علامہ مدظلہ عرصہ دراز سے دولہ قطر میں مقیم ہیں ۔ وہاں آپ کو حکومت کی طرف سے ایک بڑے عہدہ پر فائز کیا گیا ہے ۔ آپ کا ذخیرہ کتب نہایت شاندار ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آپ کی ہر تصنیف و تالیف مبرہن و مدلل ہوا کرتی ہے ۔ آپ نے مسئلہ توحید ، ردشرک و بدعت میں نہایت تکلیفیں برداشت کی ہیں ، یہاں تک کہ کسی نام نہاد مفتی کے فتوئی کی وجہ سے آپ کا گھر تک جلا کر آپ کو علاقہ بدر کر دیا گیا۔اہل بدعت کے ساتھ مناظرے بھی ہوۓ ہیں ۔ان میں بعض مناظروں کی آپ نے اپنی تصنیفات میں منظر کشی بھی کی ہے ۔ جیسے حقیقۃ المناظرہ فی دار العلوم تھل وغیرہ اور بعض ایسے مکاتبتی بحث ہوۓ جسے انہوں نے مسامیر وغیرہ کتابوں میں شامل کر دیا ہے ۔ مولانا موصوف بہت سے اوصاف حمیدہ کے مالک ہیں ۔اہل باطل سے ہار ماننا گویا ان کی سرشت میں ہی نہیں ۔ بڑے بڑے اہل بدعت ان کے تحریرات کے مقابل قطعا بے بس اور لاجواب ہوکر خاموش ہو چکے ہیں اور ہمارا یہ تبصرہ مبالغہ آرائی قطعا نہیں بلکہ واقعہ ہی یہی ہے ۔ شیخ خان بادشاہ جماعت اشاعت کا قابل فخر سر مایہ ہیں ۔خصوصاً ایسے دور میں جب دین اسلام کے خلاف نبردآزما قوتوں نے دین کا لبادہ اوڑھ کر پیغمبری تعلیمات کو مسخ کرنے کی مذموم کوششیں اپنی انتہاء پر ہیں۔ایسے حالات میں شیخ خان بادشاہ اوران جیسے دوسرے علماۓ اشاعت کا وجود رب کریم کا امت پر ایک بہت بڑا احسان ہے، جنہوں نے اللہ کی نصرت سے اپنے علم اور بے پناہ تحقیق کی صلاحیتوں کو پوری قوت سے استعمال کرتے ہوۓ باطل کی بنائی گئی بھول بھلیوں کے طلسم کو توڑ کر رکھ دیا۔ علامہ خان بادشاہ کی زندگی کے تمام پہلوؤں کے متعلق بحث کرنا کم از کم مجھ جیسے حقیر وفقیر طالب العلم کے لئے تو نہایت دشوار ہےالبتہ ان کی مدح وتعریف میں یہ جو سطور تحریر کر پایا ہوں ،ان شاءاللہ ہم جیسے طالب علموں کے لئے فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔ مولانا مدظلہ نے ان گنت اور حق تصنیفات لکھ کر شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور علامہ ابن قیم کی گو یا یاد تازہ کردی۔ ہماری دلی دعا ہے کہ خدا ان کے علم قلم کو یونہی جوان اور سدا بہار رکھے اور ان کی عمر میں طول عطا ء فرمائے تا کہ امت ان کے فیض سے کئی زیادہ مستفید ہو۔



شیخ القرآن والحدیث مولانا خان بادشاہ قطر کے اب تک سکین شدہ کتابوں میں سے درج ذیل کتب ڈاون لوڈ کریں












عربی+اردو

القول المبین فی اثبات التراویح العشرین جزء اول عربی اردو از ذھبئ وقت سلمه الله یہ وہ شہرہ آفاق کتاب ہے کہ جس میں آٹھ تراویح پر ضد کرنے والے اور بیس تراویح کو بدعت کہنے والے تنگ نظر طبقہ پر اتمام حجت کردیا گیا ہے،
اور اس کتاب کو دیکھ کر امام الحرم المکی الشیخ قاری عبد الرحمن السدیس حفظہ اللہ نے انتہائی اچھے الفاظ سے یاد فرمایا اور اس پاکستانی نژاد عالم جو قطر میں مقیم ہیں،( الله تعالی انکو صحت عطاء فرمائے ) نے پوری اہل سنت کی طرف سے بیس تراویح اور تین وتر کے دلائل کو ایسا لاجواب مبرھن کیا کہ تاحال اسکا ایسا توڑ کوئی نہ کرسکا جس نے تحقیق کے میدان میں اس کتاب کی کسی دلیل کو مات دی ہو،جبکہ اس کتاب کے آخر میں فریق مخالف کی ایک ایک دلیل کے مکمل رد پر حوالہ جات کے انبار لگا دئیے ہیں، قطر کی اسوقت مشہور زمانہ شرعی عدالت نے علامہ خان بادشاہ صاحب کی کتاب کو بیسیوں قضاة علماء کے سامنے پیش کیا اور اسے لاجوب قرار دیکر وظیفہ اورانعام سے نوازا۔
پھر مزہ یہ کہ تقریباً چھ سو صفحات کی اس کتاب کے جواب میں جب چھوٹے چھوٹے ناقابل ذکر رسائل بھڑاس نکالنے منظر عام پر آئے تو اس مرد درویش نے چھ چھ سو صفحات کی دو جلدیں بنام ( البرھان الصحیح فی عدد صلٰوۃ التراویح والرد علی القول القبیح او اقامۃ البرھان علی مکائد الشیطان ) مزید لکھ کر سب کو خاموش کرادیا ۔۔۔



