Alward Ul Shazi Pashto Sharh Tirmizi الورد الشزی پشتو شرح ترمزی

Alward Ul Shazi Pashto Sharh Tirmizi الورد الشزی پشتو شرح ترمزی

Alward Ul Shazi Pashto Sharh Tirmizi
الورد الشزی پشتو شرح ترمزی

PDF Viewer and Downloader

Download PDF

Online Study

Share Book

Install Our Apps
Link Copied!
Download Started!

جمع و ترتیب و مصنف
خادم العلماء، المحتاج الی اللہ، ابو ہلال عبد الخالق بن خان محمد
فارغ التحصیل: جامعہ امداد العلوم الاسلامیہ پشاور
فاضل: وفاق المدارس العربیہ (ایم اے اسلامیات)

از افادات
شیخ الاسلام، فقیہ العصر، محمد حسن جان المدنی شہید رحمہ اللہ

ناشر:
مکتبہ رحمانیہ، پشاور

خصوصیات

معرّب متن، متن پر اعراب، باب نمبر، حدیث نمبر، ترجمہ و تشریح، لغات کی وضاحت، رواة کے حالات، حدیث کی تخریج، مذاہب اربعہ کی تحقیق، سند کے ساتھ مکمل متن

امام ترمذیؒ کی علمی خدمات و مقام

امام ترمذیؒ کا مکمل نام
ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورہ بن موسیٰ بن ضحاک ہے۔ ان کی تین نسبتیں مشہور ہیں: (1) السُّلمی، (2) التِّرمذی، (3) البُوْغِی۔

علامہ سمعانی نے “ضحاک” کی جگہ “شدّاد” لکھا ہے۔ ان کا اصل نام محمد اور کنیت ابو عیسیٰ ہے۔ بعض اوقات جب کنیت یا لقب زیادہ مشہور ہو جائے تو اصل نام کی جگہ اسی کو استعمال کیا جاتا ہے۔

سُلمی قبیلہ کی طرف نسبت قبیلہ کے تعلق سے ہے، کیوں کہ امام ترمذیؒ کا تعلق قبیلہ بنی سُلیم سے تھا۔
ترمذ اور بوغ ان کے وطن ہیں۔ ترمذ ان کا اصل شہر ہے جو دریائے جیحون (بلخ کا دریا) کے کنارے واقع تھا، اور ایک قدیم شہر ہے۔ یہ علاقہ ماوراء النہر کہلاتا ہے۔
ترمذ کا شہر آج کل کے نقشہ میں ازبکستان میں واقع ہے۔
یہ علاقہ 200 ہجری سے 600 ہجری تک دینی علوم کا مرکز رہا ہے۔ اس علاقے کو مدینۃ الاولیاء بھی کہا جاتا ہے۔
بوغ، ترمذ کے قریبی دیہات میں ایک گاؤں ہے، جہاں امام ترمذی کی پیدائش ہوئی، جو ترمذ سے چھ فرسخ کے فاصلے پر واقع ہے۔

پیدائش و وفات

صحیح قول کے مطابق امام ترمذیؒ کی پیدائش 209 ہجری میں ہوئی۔
ان کی وفات پر علما کا اتفاق ہے کہ وہ 279 ہجری میں ترمذ شہر میں پیر کی شام 70 سال کی عمر میں ہوئی۔

کنیت “ابو عیسیٰ” پر اعتراض

بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابو عیسیٰ کنیت رکھنا ممنوع ہے، کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا باپ نہیں ہے۔
ابن ابی شیبہ نے روایت کیا کہ ایک شخص نے اپنے لیے “ابو عیسیٰ” کنیت رکھی تو نبی کریمﷺ نے فرمایا:
لا أبا عيسى یعنی عیسیٰ کا کوئی باپ نہیں، اس وجہ سے نبی کریمﷺ نے انکار فرمایا۔

مگر سنن ابو داؤد کی روایت کے مطابق حضرت عمر فاروقؓ کے بھائی نے اپنے لیے “ابو عیسیٰ” کنیت رکھی تو حضرت عمرؓ نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا۔

جوابات

ممکن ہے کہ یہ ممانعت والی حدیث امام ترمذی کو نہ پہنچی ہو (یہ کمزور جواب ہے)۔

ممانعت ابتدائی دور میں تھی، بعد میں منسوخ ہو گئی۔

امام ترمذی نے اس ممانعت کو کراہتِ تنزیہی یا خلافِ اولیٰ سمجھا۔

ابو داؤد کی ایک روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغیرہ بن شعبہؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے خود میرے لیے یہ کنیت رکھی تھی۔

امام ترمذیؒ کا علمی سفر

چونکہ امام ترمذیؒ ماوراء النہر کے علاقے میں پیدا ہوئے، جو چار سو سال تک علم کا مرکز رہا، لہذا ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔
مزید علمی ترقی کے لیے انہوں نے مختلف ممالک کے سفر کیے جیسے:
بخارا، خراسان، بصرہ، کوفہ، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ۔

امام ابن حجر کہتے ہیں:
طاف البلاد و سمع خلقاً یعنی انہوں نے کئی علاقوں کا سفر کیا اور بہت سے علما سے علم حاصل کیا۔

مشائخ و اساتذہ

چونکہ امام ترمذیؒ نے بہت سے علاقوں کا سفر کیا، اس لیے ان کے اساتذہ کی تعداد بھی زیادہ ہے۔
چند مشہور اساتذہ درج ذیل ہیں

 امام بخاریؒ جن سے سب سے زیادہ استفادہ کیا
امام مسلم

امام ابو داؤدؒ

قتیبہ بن سعید

محمد بن بشار

یحییٰ بن سعید انصاری

هناد بن السریع

محمود بن غیلان

امام ترمذیؒ خود فرماتے ہیں کہ میں نے سب سے زیادہ فائدہ امام بخاریؒ سے اٹھایا۔

امام ترمذیؒ نے اپنی کتاب جامع ترمذی میں 114 مقامات پر امام بخاری سے استفادہ ذکر کیا ہے۔
جن اساتذہ سے انہوں نے براہ راست روایت لی، ان کی تعداد 206 ہے۔

شاگردان

ان کے شاگردوں کی تعداد بھی کافی ہے، چند مشہور درج ذیل ہیں

ابو العباس محمد بن احمد، ابو حامد احمد بن عبداللہ مروزی، داود بن نصرائی، احمد بن یوسف نصفی، محمد بن محمود، ابو الحسن احمد بن ابراہیم۔

امام بخاریؒ فرماتے تھے
“ما انتفعت بك أكثر مما انتفعت لي”
یعنی میں نے تم سے جتنا فائدہ اٹھایا، اتنا تم نے مجھ سے نہیں اٹھایا۔

علمی مقام

امام بخاریؒ کے بعد، امام ترمذیؒ ان کے حقیقی جانشین بنے۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں
“مات البخاری فلم یخلف بخراسان مثل أبی عیسیٰ”
یعنی بخاریؒ کی وفات کے بعد، خراسان میں امام ترمذیؒ جیسا علم، حفظ، زہد اور تقویٰ والا کوئی نہ تھا۔
ان کے اتنے زیادہ رونے کی وجہ سے ان کی بینائی چلی گئی اور کئی سال وہ نابینا رہے۔

عالی السند

امام ترمذی کو عالی السند مقام حاصل تھا، یعنی ان کے اور نبی کریمﷺ کے درمیان واسطے کم تھے۔
جامع ترمذی میں ایک حدیث ایسی ہے جس میں ان کے اور نبی کریمﷺ کے درمیان صرف تین واسطے ہیں۔
ایسے احادیث کو ثلاثیات کہتے ہیں۔ بخاری میں 22، موطا امام مالک میں سب سے زیادہ ثلاثیات ہیں۔

جمع حدیث کا مقصد

ہر محدث کا کوئی خاص مقصد ہوتا ہے۔
امام ترمذیؒ کا سب سے بڑا مقصد ائمہ مذاہب کے اقوال اور دلائل کو بیان کرنا تھا۔
امام ابو داود نے دلائل کو جمع کیا، جبکہ امام ترمذیؒ نے اقوال، دلائل اور ابہام کی وضاحت کو ایک ساتھ بیان کیا۔

Leave a Reply