At Tafseer wal Mufassiroon pdf by Dr Muhammad Husayn Dhahabi
کتاب: التفسير و المفسرون
مصںف: ڈاکٹر محمد حسین ذھبی
موضوع: علوم القرآن
فن: علم التفسیر
ناشر: مکتبہ وھبہ قاھرہ
تعداد :3 جلدیں
کتاب کا تعارف اور علومِ قرآن کا پس منظر
التفسير والمفسرون علومِ قرآن اور علمِ تفسیر کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب محض کسی ایک تفسیر یا مفسر کا تعارف نہیں بلکہ پورے تفسیری ذخیرے کا جامع، تحقیقی اور تنقیدی مطالعہ پیش کرتی ہے۔ علومِ قرآن وہ بنیاد ہے جس پر قرآن فہمی کی عمارت قائم ہوتی ہے، اور علمِ تفسیر اسی بنیاد پر قرآنِ کریم کے معانی، مقاصد اور ہدایات کو انسانوں تک پہنچاتا ہے۔ زیرِ نظر کتاب نے اس پورے علمی سفر کو ابتدا سے عصرِ حاضر تک نہایت منظم انداز میں پیش کیا ہے، جس کی وجہ سے یہ کتاب تفسیری ادب میں ایک مستقل مقام رکھتی ہے۔
علمِ تفسیر کی اہمیت
قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے، مگر اس کے معانی، احکام اور اشارات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے علمِ تفسیر ناگزیر ہے۔ ہر دور میں مسلمانوں کو مختلف فکری، عقلی اور معاشرتی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، اور مفسرین نے اپنے اپنے زمانے کے حالات کے مطابق قرآن کی تشریح کی۔ علمِ تفسیر کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ اسی کے ذریعے صحیح عقیدہ، درست عمل اور متوازن فکر کی تشکیل ہوتی ہے۔ التفسير والمفسرون اسی علمی ضرورت کو پورا کرتی ہے، کیونکہ یہ قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ مختلف تفاسیر کن اصولوں، مناہج اور پس منظر میں لکھی گئیں۔
مصنف کا تعارف
ڈاکٹر محمد حسین ذھبی بیسویں صدی کے ممتاز محقق، مفسر اور علومِ قرآن کے ماہر تھے۔ آپ نے جامعہ ازہر سے وابستہ رہتے ہوئے قرآن، حدیث اور تفسیر پر گراں قدر تحقیقی کام کیا۔ آپ کی تحریروں میں اعتدال، علمی دیانت اور تحقیقی گہرائی نمایاں نظر آتی ہے۔ التفسير والمفسرون دراصل آپ کا وہ علمی شاہکار ہے جو آپ نے 1946ء میں علومِ قرآن و حدیث میں اعلیٰ سند کے حصول کے لیے پیش کیا، اور بعد ازاں یہ کتاب عالمِ اسلام میں بے حد مقبول ہو گئی۔
کتاب کی تالیف کا مقصد
مصنف نے خود واضح کیا ہے کہ اس کتاب کی تالیف کا مقصد مسلمانوں کو اپنے عظیم تفسیری ورثے سے روشناس کرانا ہے۔ اسلامی کتب خانہ تفاسیر سے بھرا ہوا ہے، مگر اکثر لوگ چند مخصوص تفاسیر تک محدود رہتے ہیں۔ اس کتاب کے ذریعے مصنف نے چاہا کہ قاری مختلف مکاتبِ فکر، مختلف ادوار اور مختلف اسالیبِ تفسیر سے واقف ہو، تاکہ وہ کسی بھی تفسیر کو پڑھتے وقت اس کے منہج، رجحان اور علمی پس منظر سے آگاہ ہو سکے اور حق و باطل میں تمیز کر سکے۔
کتاب کی مجموعی ساخت
التفسير والمفسرون تین جلدوں پر مشتمل ہے اور اسے ایک مقدمہ، تین بڑے ابواب اور ایک مفصل خاتمے پر تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ منظم تقسیم اس کتاب کو ایک باقاعدہ انسائیکلوپیڈیا بنا دیتی ہے۔
مقدمہ کے مباحث
مقدمے میں تین بنیادی مباحث شامل ہیں۔ پہلے مبحث میں تفسیر اور تأویل کی تعریف اور ان کے درمیان فرق کو واضح کیا گیا ہے، جو قرآن فہمی کے لیے نہایت اہم ہے۔ دوسرے مبحث میں قرآن کا غیر عربی زبانوں میں ترجمہ اور تفسیر کرنے کے مسائل پر گفتگو کی گئی ہے۔ تیسرے مبحث میں اس سوال کا علمی تجزیہ کیا گیا ہے کہ مفسرین کا اختلاف تصورات میں ہے یا تصدیقات میں، جو تفسیری اختلافات کو سمجھنے کی کلید ہے۔
پہلا باب: عہدِ نبوی اور صحابہ کا تفسیر
اس باب میں قرآن کی تفسیر کے ابتدائی دور پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے فہمِ قرآن، صحابہ کرامؓ کے تفسیری مناہج، اس دور کے مصادرِ تفسیر اور تفسیر بالمأثور کی حیثیت کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ باب بتاتا ہے کہ تفسیر کی اصل بنیاد کس قدر مضبوط اور مستند تھی۔
دوسرا باب: عہدِ تابعین کا تفسیر
یہ باب تفسیر کے دوسرے مرحلے پر مشتمل ہے، جس میں تابعین کے دور کی تفسیری کوششوں، مدارسِ تفسیر کے قیام اور اس دور کے تفسیری اختلافات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس حصے میں قاری کو یہ سمجھ آتا ہے کہ تفسیر کیسے ایک منظم علم کی صورت اختیار کرتی گئی۔
تیسرا باب: عصورِ تدوین اور بعد کے ادوار
یہ باب سب سے وسیع اور تحقیقی ہے، جس میں عباسی دور سے لے کر عصرِ حاضر تک تفسیر کے مختلف رجحانات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ تفسیر بالمأثور، تفسیر بالرأی، صوفیانہ تفسیر، فلسفیانہ تفسیر، فقہی تفسیر اور سائنسی تفسیر—سب پر مفصل بحث کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلیات، موضوع روایات اور باطل رجحانات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
خاتمہ اور عصرِ حاضر کی تفاسیر
خاتمے میں جدید دور کے تفسیری رجحانات پر روشنی ڈالی گئی ہے، جن میں علمی، مذہبی، الحادی اور ادبی و سماجی تفاسیر شامل ہیں۔ یہ حصہ خاص طور پر عصرِ حاضر کے طالب علم اور محقق کے لیے نہایت مفید ہے، کیونکہ اس سے موجودہ فکری چیلنجز کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
طلبہ کے لیے فوائد
دینی مدارس اور جامعات کے طلبہ کے لیے یہ کتاب علمِ تفسیر کا تعارفی دروازہ بھی ہے اور تحقیقی رہنما بھی۔ اس کے مطالعے سے طلبہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کون سی تفسیر کس مزاج کی حامل ہے اور اسے کس زاویے سے پڑھنا چاہیے۔
علماء اور محققین کے لیے افادیت
علماء اور محققین کے لیے یہ کتاب ایک بنیادی ریفرنس ہے۔ تفسیر پر کام کرنے والا کوئی بھی شخص اس کتاب کے بغیر اپنی تحقیق مکمل نہیں سمجھ سکتا۔ مختلف تفسیری مکاتب کا منصفانہ تجزیہ اس کتاب کی سب سے بڑی علمی خصوصیت ہے۔
عوام کے لیے رہنمائی
اگرچہ یہ کتاب تحقیقی نوعیت کی ہے، مگر سنجیدہ ذوق رکھنے والے عام قارئین بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو مختلف تفاسیر کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔
عصری اہمیت
آج کے دور میں جب سوشل میڈیا اور مختلف فکری تحریکوں کے ذریعے قرآن کی من مانی تشریحات سامنے آ رہی ہیں، التفسير والمفسرون قاری کو علمی معیار فراہم کرتی ہے کہ وہ کس تفسیر پر اعتماد کرے اور کیوں۔
نتیجہ
التفسير والمفسرون ایک ایسی جامع اور معیاری تصنیف ہے جو علمِ تفسیر کی تاریخ، مناہج اور رجحانات کو ایک ہی جگہ جمع کر دیتی ہے۔ یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ناگزیر ہے جو قرآنِ کریم کو گہرائی، بصیرت اور ذمہ داری کے ساتھ سمجھنا چاہتا ہے۔