Atai Rabbani Urdu Sharah Mukhtasar ul Maani by Mufti Yar Muhammad Khan
عطائے ربانی اردو شرح مختصر المعانی


عطائے ربانی اردو شرح مختصر المعانی
مصنف حضرت علامہ شیخ سعد الدین تفتازانیؒ
شارح حضرت مولانا مفتی یار محمد خان قادری خطیب مرکزی جامع مسجد گھمکول شریف (یو۔کے)
مكتب الفرقان جام پورضلع راجن پور (پاکستان)
صاحب مختصر المعانی پر مختصر نظر
حضرت علامہ سعد الدین بن برہان الدین عبدالله تفتازانی، خراسانی علیه الرحمة والرضوان ماہ ظفر المظفر ۲۲ ے ے کو شہر تفتازان میں پیدا ہوئے، وقت کے اساطین علم و فضل اساتذہ اور شیوخ سے جملہ علوم وفنون میں کمال پایا۔ زمانہ شباب ہی میں آپ کا شمار وقت کے اکابر علما، فضلا میں ہونے لگا، آپ کے ایک ہمعصر عالم علامہ کفوی فرماتے ہیں میری آنکھوں نے آپ جیسا کوئی اور عالم نہیں دیکھا۔
قلم کی آبیاری اور علوم وفنون کی تصانیف کا ذوق و شوق آپ کے دل میں زمانہ طالبعلمی سے ہی ودیعت ہو چکا تھا، چنانچہ تحصیل علم سے فراغت کے بعد درس و تدریس تعلیم و تعلیم کے ساتھ ساتھ علم صرف علم محو علم منطق ، علوم فقه، اصول تفسیر، حدیث، عقائد، معانی، بیان وغیرہ میں آپ نے کتابیں تصنیف فرما ئیں۔ آپ کے حالات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے ۷۳۸ھ میں تصانیف کا سلسلہ شروع کیا اور آخری دم تک قلم کا تعلق ٹوٹنے نہ پایا۔ آپ جہاں جہاں بھی گئے قلم کی خدمت کو برق رفتاری سے جاری رکھا، آپ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب المختصر المعانی شہر غجدوان میں ۵۷ ھ کو ماہ جمادی الاخریٰ میں قلم بند فرمایا۔ علاوہ ازیں مزید کتابیں لکھیں مگر جو آفاقیت، محبوبیت اور مقبولیت مختصر معانی کو نصیب ہوئی دوسری تصانیف وہ مقام حاصل نہ کر سکیں، تاہم ہر کتاب اپنے اپنے فن میں درجہ قبول کو پہنچی۔ آپ کا فیضان تو ہمیشہ جاری رہے گا تا ہم آپ نے اپنی زندگی بڑی مصروف گزاری، تفتازان، ہرات غجدوان، بلا د ترکستان، جام ، خوارزم، سمرقند اور دیگر ممالک ، شہروں اور قصبوں کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے نوازا۔
وصال
حضرت علامہ تفتازانی مذہب و مسلک حنفی پر کار بند رہے اگر چہ شوافع سے بھی آپ کو دلچسپی تھی ۔ آپ کے وصال پر ملال کا واقعہ بڑا عجیب ہے مؤرخین کا بیان ہے کہ شاہ تمر لنگ یعنی تیمور بادشاہ کو آپ سے بڑی گہری عقیدت تھی، بے حد احترام کرتا جب آپ نے مطول شرح تلخیص قلمبند فرمائی ، بادشاہ نے دیکھی تو اس نے بہت پسند کی اور ایک عرصہ تک قلعہ ہرات کے دروازے کی زینت رہی۔ یعنی صاحبان علم آتے اور اس تصنیف لطیف سے استفادہ کرتے۔ میر سید شریف جرجانی جس نے آپ سے علمی استفادہ کیا تھا صاحب علوم و فنون ہونے کے باعث اسے بھی امیر تیمور کے دربار میں آپ کی وساطت سے بازیابی کا شرف حاصل ہوا، مگر نہ جانے میر سید شریف جرجانی کے دل میں کیا بات آئی کہ ایک مرتبہ امیر تیمور کی مجلس میں علمی گفتگو جاری تھی اور علامہ تفتازانی شرح کشاف کی عبارت پڑھا رہے تھے کہ میرسید شریف جرجانی نے اعتراض کر دیا۔ بات بڑھنے لگی یہاں تک کہ مناظرہ شروع ہو گیا ، نعمان نامی ایک معترلی فاضل جو علامہ تفتازانی سے پرخاش رکھتا تھا وہ حکم ٹھرا، دونوں حضرات نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے ، میر سید شریف جرجانی علامہ تفتازانی کی بہ نسبت فصیح اللسان تھا جبکہ علامہ کی زبان میں قدرے لکنت تھی جس کے باعث معتزلی نے سید میر شریف جرجانی کے حق میں فیصلہ دیا اور تیمور کے سامنے جرجانی کا مرتبہ بڑھ گیا۔ آپ سے اس کی عقیدت کم ہوگئی اس تکلیف دہ واقعہ سے علامہ تفتازانی علیہ الرحمتہ کو شدید صدمہ لاحق ہوا اور بیماررہنے لگے۔
مرض بڑھتا گیا جوں جو دوا کی
آخر ۲۲ محرم الحرام ۷۹۲ ھ کو فصاحت و بلاغت کا یہ بادشاہ سمرقند میں بروز پیر سپردخاک کردیا گیا، پھر تقریبا ساڑھے تین ماہ بعد 9 جمادی ۷۹۲ ھ بروز بدھ سمرقند سے سرخس آپ کے جسد مبارک کو منتقل کیا گیا۔ دعا ہے اللہ تعالی ان کی خدمات کو قبول فرمائے ان کےمدارج و مراتب میں ترقی جاری رکھے۔ امین ثم آمین
طالب دعا : محمد منشا تابش قصوری
جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور۔ (پاکستان)
8 ذو الحجة المبار که ۱۴۳۴ھ ۱۴ اکتوبر ۶۲۰۱۳ پیر