Dars e Hadith pdf by Maulana Abdul Sattar
درس حدیث از مولانا عبدالستار صاحب
اللہ کے فضل و کرم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک احادیث کے سلسلے کی پہلی جلد آپ کے سامنے ہے۔ حضرات محدثین اور صالحین نے ہر دور میں احادیث کو جمع کرنے اور انہیں عام کرنے کا کام سرانجام دیا۔ آج کے دور میں بھی علماء حق کا عظیم احسان ہے کہ انہوں نے ان احادیث کو عربی سے اردو میں ترجمہ کر کے عام فہم بنایا، تاکہ عوام الناس آسانی سے ان سے مستفید ہو سکیں۔
مجلس تحقیقات اسلامیہ اور درس حدیث کا پس منظر
مجلس تحقیقات اسلامیہ کے درج ذیل علماء کرام نے اس کتاب کی تیاری میں حصہ لیا:
- حضرت مولانا مفتی عبدالستار صاحب مدظلہم
- حضرت مولانا محمد ازہر صاحب مدظلہم
- حضرت مولانا مفتی منظور احمد تونسوی مدظلہم
- حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب مدظلہم
- حضرت مولانا زاہد محمود صاحب مدظلہم
- مولانا حبیب الرحمن سلمہ الرحمن
اس مجلس نے جب عام فہم درس قرآن کا سلسلہ شروع کیا تو اللہ کے فضل سے اسے بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ درس قرآن اور حدیث کو لازم و ملزوم سمجھتے ہوئے، اکابر علماء نے درس حدیث کے کام کا آغاز کیا۔
درس حدیث کی ترتیب اور مضامین
یہ درس حدیث عوام الناس کی دینی ضروریات اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کی ترتیب کتبِ فقہ کے مطابق رکھی گئی ہے۔
درس حدیث کی پہلی جلد درج ذیل موضوعات پر مشتمل ہے:
- طہارت
- وضو
- غسل
- نماز
- مسجد
- جمعہ و عیدین
- نماز میں خشوع و خضوع
ہر درس میں اس بات کا خاص اہتمام کیا گیا ہے کہ کوئی بھی حدیث بغیر حوالہ کے نہ ہو۔
مستند کتب سے استفادہ
اس مجموعۂ احادیث میں درج ذیل مستند کتب سے اقتباس کیا گیا ہے:
- فضائل اعمال (شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ)
- البشیر والنذیر (حافظ عبد العظیم المنذری رحمہ اللہ)
- اصلاحی خطبات (شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ)
- فقہی رسائل (حضرت مولانا مفتی عبدالرؤف سکھروی مدظلہ)
- اصلاحی مضامین (حضرت مولانا مفتی عبد القادر رحمہ اللہ)
- معارف الحدیث (مولانا منظور احمد نعمانی رحمہ اللہ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر درود لکھنے کی اہمیت
درس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نامی کے ساتھ مکمل درود شریف لکھنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ محدثین کرام بھی اپنی کتب میں اس کا خاص خیال رکھتے تھے۔ حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ نے ایک مجموعۂ احادیث اسی نیت سے تالیف فرمایا تھا کہ اس میں جگہ جگہ درود شریف لکھ کر اللہ کی رحمتوں سے حصہ پایا جا سکے۔
درس حدیث کی تبلیغ اور معاشرتی اہمیت
ہر درس کے آخر میں دعائیہ کلمات دیے گئے ہیں اور اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ مسجد، مدرسہ، دفتر یا گھر میں اسے غور و فکر کے ساتھ پڑھا اور سنایا جائے۔ اس کے بعد اپنے دوست احباب میں اس درس سے حاصل شدہ علم کو محبت اور حکمت کے ساتھ عام کیا جائے۔
ہمارے معاشرے میں ایک بڑی کوتاہی یہ ہے کہ ہم دین کی باتیں سننے کے بعد ان پر مذاکرہ نہیں کرتے، حالانکہ جس طرح ہم اپنی اولاد کی دنیاوی فلاح چاہتے ہیں، اس سے زیادہ ان کی دینی تربیت ضروری ہے۔
حدیث کی حفاظت – ایک عظیم معجزہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے قرآن کی طرح احادیث کی حفاظت کا بھی خود ذمہ لیا ہے۔ محدثین کرام نے احادیث کی حفاظت کے لیے اسماء الرجال جیسے علوم متعارف کرائے، تاکہ کوئی دین دشمن ان احادیث میں تحریف نہ کر سکے۔
مسلمانوں کی زوال پذیری اور اسلامی تعلیمات سے دوری
آج مسلمان ہر طرف سے مغلوبیت کا شکار ہیں، کیونکہ ہم اسلامی تعلیمات سے دور ہو چکے ہیں۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان قرآن و سنت پر عمل پیرا رہے، اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا و آخرت میں عزت بخشی۔ آج بھی اگر مسلمان غالب آنا چاہتے ہیں تو انہیں تعلیماتِ نبوت کی روشنی میں زندگی گزارنی ہوگی۔
ادارہ تالیفات اشرفیہ کا مبارک کام
ادارہ تالیفات اشرفیہ اس لحاظ سے مبارکباد کا مستحق ہے کہ اس نے درس قرآن کے بعد عام فہم درس حدیث کو بھی عوام کے لیے پیش کیا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں تعلیماتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔