ڈاکٹر سراج الاسلام حنیف صاحب کا تعارف.! . موصوف کا نام سراج الاسلام حنیف بن عبدالمعبود بن خیر محمد بن گل محمد هے. ۱۶ محرم الحرام ۱۳۷۵ھ, ۴ ستمبر ۱۹۵۵ کو ضلع مردان کے مضافاتی قصبه شهباز گڑی کے ایک حپهوٹے سے گاؤ هوسئی میں پیدا هوئے. موصوف نے وفاق المدارس الاسلامیه ملتان سے سند فضلیت حاصل کی. اور پیشاور یونیورسٹی سے علوم حدیث میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی. (معرفه علوم الحدیث از ڈاکڑ سراج السلام حنیف ص ۱۴۵, ۱۴۶.) موصوف مذهب حنفی دیوبندی مماتی هیں. . میں ڈاکٹر صاحب کو بهت اهل علم سمجھتا تها لیکن میں نے دهوکه کهایا. . میں اپنے اس حواله سے چند ایک عبارات پیش کروں گا جس سے بخوبی با سمجھ آجائے گی. یاد رهے یهاں کسی کی گستاخی مقصود نهیں. . موصوف نے اپنی اسی کتاب معرفه علوم الحدیث جو که مشهور معروف هے. یه کتاب دار القران والسنه سے شائع هوئی هے. موصوف اس کتاب کے (صفحه نمبر ۳۶۹ فصل ۴ مدرج المتن) تحت کهتے هیں که: “مثلا صحیح بخاری حدیث ۳۰۹۳ اور صحیح مسلم کی روایت ۱۷۵۹ میں امام زهری نے حسب عادت ادراج کیا هے, جس سے یار لوگ صحابه کرام رضی الله عنه پر طعن کرنے کے مرتکب هو رهے هیں.” . ڈاکٹر صاحب نے جس حدیث کیطرف اشاره کیا هے وه روایت “لا نورث ما ترکنا صدقه…” والی روایت هے. جب هم نے ڈاکٹر صاحب کی معلوم علوم پڑهی تو هماری نظر سے مذکوره بالا عبارت گزری هم نے اس پر حاشیه لگا لیا. اور هم نے حسن ظن رکھا که هو سکتا هے که انهوں نے کوئی اسکی وضاحت کی هو تو هم کو موصوف کی دوسری کتاب “صحابه کرام رضی الله عنهم پر اعتراضات کا علمی جائزه” هاتھ آئی. موصوف نے اس کتاب میں مذکوره روایت کا ذکر کیا. موصوف نے یهاں امام ربیعه الرای کا قول نقل کیا که وه ادراج کرتے تهے. پهر کھتے هیں: “سیده فاطمه رضی الله عنھا خفگی والی روایات میں بهی امام زهری نے حسب عادت ادراج کی هے, جو اعتراض کا سبب بن گیا.” (ایضا ص ۳۵۸, ۳۵۷ باب ۲۲, سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله عنه پر پهلا اعتراض.) . هم نے جب یه عبارت پڑهی اور بار بار پڑهی هم پریشان هوئے که جناب نے یهاں ایسی کونسی دلیل پیش کی هے جس سے امام زهری کی مدرج هونے کا ثبوت ملتا هے.؟ . موصوف نے خود هی اپنی معرفه علوم کے ص ۳۷۲ پر ادراج کیسے معلوم کیا جائے؟ کے تحت لکھا هے ۱: کسی روایت میں مدرج حصے کا ممتاز هو کر آنا ۲: راوی کا اپنا اقرار اور اسکی تصریح ۳: کسی ماهر فن اور واقف کار امام کی تصریح ۴: استحاله یعنی رسول الله صلی الله علیه وسلم کا ارشاد هونے کا عدم امکان. . هم کوئی انصاف پسند آدمی هم کو بتائے که اس میں سے کس اصول کے تحت امام بخاری کی روایت میں زهری کے مدرج هونے پر الزام لگایا.! کوئی مائی کا لعل آئے اور خوردبین لگا کر موصوف کی کتاب صحابه پر دیکھے اور بتائے یهاں موصوف نے کونسا اصول بیان کیا هے. اور اس روایت کو کسی نے ادراج کے ذمره میں پیش کیا هے. مدرج پر مشتمل کتب موجود هیں هم کو یه روایت ان کتب میں نکل کر دیکھا دیں. هم شکریه ادا کریں گئے. امام ابن عبدالبر نے تمهید میں اسکو صحیح کها هے. (التمهید جزء الثامن ص ۱۵۰.) یه بهی یهاں یاد رهے که امام بخاری نے اس روایت کو اپنی صحیح میں نقل کیا هے. جو کے امام العلل اپنے فن کے امام هے, نے بهی اسکو زهری کی مدرج میں شمار نهیں کیا اگر مدرج هوتی تو فاتحه خلف الامام کی روایت کیطرح اسکے مدرج هونے کیطرف بهی اشاره کرتے. فتدبر نیز یه بهی یهاں یاد رهے که فلاں کتب میں یه روایت هے وهاں فلاں فلاں الفاظ نهیں تو عرض هے که محترم ادراج محض دعوی یا احتمال کی بنیاد پر ثابت نهیں هوتا, اسکے اثبات کے لئے کسی ٹهوس دلیل کا موجود هونا شرط هے. قال حافظ لابن حجر فی فتح الباری ج ۲ ص ۹۱ “الادراج لا یثبت بمجود الاعوی والاحتمال.” (و انظر ج ۳ ص ۹۶, ج ۵ ص ۳۸, ۱۹۹, ج ۱۱ ص ۹۰, ۴۸۶.) نیز ایک جگه کهتے هیں: “ما کان فی الخبر فهو منه حتی یقوم دلیل علی خلافه والاصل عدم الادراج ولا یثبت الا بدلیل.” (ایضا ج ۲ ص ۸۳, ۱۹۶, ج ۴ ص ۴۳۷, ج ۷ ص ۳۱۱.) لهذا موصوف کو ادراج کا دعوی کرنے میں بڑی همت سے کام لینا هو گا. . اس هی طرح موصوف اپنی علوم الحدیث کی کتاب میں رجل من الصحابه کو حجت نهیں مانتے. (دیکھے ص ۳۶۲ بحث رجل من الصحابه.) وجه یه که عصر صحابه میں منافقین ومرتدین بهی موجود تهے: (ایضا.) پهر اپنے دوسری کتاب میں ایک معترض کے جواب میں کهتے هیں: “صحابی کے عادل هونے میں مجھ کوئی اختلاف نهیں. اس سلسلے میں میری ایک ضخیم کتاب “انبیائے عظام اور صحابه کرام پر اعتراضات کا علمی جائزه.” عرصه سے موجود هے.” (التحفه الکریمه فی بیان بعض الاحادیث الضعیفه والسقیمه, مقدمه التحقیق ص ۱۵.) موصوف نے جس کتاب کا ذکر کیا هے وه کتاب وه هی هے جسکا هم نے پهلے حواله دیا هے کیونکه انبیائے عظام اور صحابه کرام پر اعتراضات کا علم جائز ۲۰۰۹ تک اس هی نام سے شائع هوتی رهی پهر جب حپهٹی بار طبع هوئی تو اسکا نام صحابه کرام پر اعتراضات کا علمی جائزه تجویز کردیا گیا. . اسهی طرح معرفه علوم ص ۱۹۱ میں ایک جگه بخاری کے راوی ابی بن عباس بن سهل کو ضعیف بتایا گیا اور صحیح البخاری کی روایت کو ضعیف بتایا گیا. یه بهی موصوف کا حسن ظن هے بخاری نے اس سے احتجاج کیا هے اور ایک جماعت نے اسکی تصحیح وه تحسین کی هے اس پر جرح مفسر موجود نهیں هے ذهبی اور ابن قیم نے اس کو حسن الحدیث بتایا هے. همارے پاس وقت نهیں ورنه هم الله کے فضل سے ڈاکٹر صاحب کی کتب سے اور بهی بهت کپھ نقل کرتے. الله هم کو صحیح دین سیکھنے کی توفیق دیے. آمین. مولانا ڈاکٹر سراج الاسلام حنیف یہاں سے ڈاون لوڈ کریں





