دورۃ تفسیر القرآن پشتو 2000 از شیخ القرآن مولانا عبدالسلام رستمی صاحب

دورۃ تفسیر القرآن پشتو 2000 از شیخ القرآن مولانا عبدالسلام رستمی Dora Tafseer ul Quran 2000 Pashto by Shaikh ul Quran Molana Sayyed Abdul Salam Rustamiصاحب

Dora Tafseer ul Quran 2000 Pashto by Shaikh ul Quran Molana Sayyed Abdul Salam Rustami

Custom Audio Player
Select a track
0:00 / 0:00
Downloading 0% (0 MB / 0 MB)

    نام : دورۃ تفسیر القرآن پشتوازشیخ القرآن مولانا سید عبدالسلام رستمی صاحب

    زبان: پشتو

    سال: 2000

    موضوع : تفسیر القرآن

    ناشر:مکتبۃ الاشاعت ڈاٹ کام

    دورۃ تفسیر القرآن پشتو از شیخ القرآن مولانا سید عبدالسلام رستمی صاحب کا تعارف

    نام و نسب: ابو زکریا سید عبدالسلام ولد سید عبدالروف رستمی رحمہ اللہ۔

    لقب: شیخ القرآن والحدیث، علامہ۔


    شیخ القرآن مولانا سید عبدالسلام رستمی صاحب ایک ممتاز عالم دین، مفسر، اور محدث ہیں جو قرآن کی تفسیر اور تدریس میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی دورۃ تفسیر القرآن پشتو 2000 پشتو بولنے والے علاقوں میں قرآن کی تفسیر کی ترویج کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ مولانا رستمی صاحب کی تفسیر کی خصوصیت ان کی آسان بیانیہ، مستند حوالہ جات، اور مفسرین کی آراء کی روشنی ہے۔ ان کی دورۃ تفسیر کے آڈیوز مکتبہ الاشاعت ڈاٹ کام سے دستیاب ہیں، جو ہزاروں لوگوں کو مستفید کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔

    حضرت شیخ صاحب درس کے امتیازات
    مولانا سید عبدالسلام رستمی صاحب کے درس تفسیر کی اہمیت اس کی سادگی، بلاغت، اور مستند حوالہ جات میں ہے۔ وہ قرآن کے مشکل ترین آیات کو آسان انداز میں حل کرتے ہیں اورمحققین مفسرین کا حوالہ دیتے ہیں۔ درس میں پہلے اصول القرآن بیان کیے جاتے، پھر ہر سورۃ کا مقصد، خلاصہ، امتیازات، اور پچھلی سورۃ سے ربط واضح کیا جاتا۔ یہ درس طلباء کو قرآن کے اصل مقصد سے آگاہ کرتا تھا اور انہیں تفسیری اصطلاحات یاد کراتا تھا۔ مولانا صاحب کی خوش آوازی اور لذیذ بیانیہ طلباء کو بور نہیں ہونے دیتی تھی، جو اللہ کی طرف سے عطا کردہ فضیلت تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی یہ خدمت کو صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔

    پیدائش: آپ 8 نومبر 1938ء (24 رمضان المبارک 1355ھ) کو محلہ کہنڈر رستم، ضلع مردان، صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محلے کی جامع مسجد کے امام و خطیب تھے اور آپ کے ماموں حضرات اس وقت کے جید علما میں شمار ہوتے تھے۔

    ابتدائی تعلیم: آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ فیض الاسلام رستم میں پانچویں جماعت تک حاصل کی۔ اسی دوران اردو، فارسی اور قرآن کریم کا لفظی ترجمہ سیکھا۔ چھ سالہ تعلیم کے بعد آپ نے علومِ عربیہ کی باقاعدہ تعلیم شروع کی۔ ابتدائی کتب مولانا عبدالرب شہبازگڑھی، مولانا عبدالرزاق ادینہ سے مدرسہ فیض الاسلام میں پڑھیں۔ کچھ علوم اپنے والد کے دوست مولانا محب اللہ گبرالی سے سیکھے۔ نحو، صرف، منطق، فقہ، عروض و معانی وغیرہ زیادہ تر آپ نے اپنے ماموں مولانا میاں گل صاحب گڑیالوی سے پڑھے، جو شیخ الاسلام انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے خاص شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔ دورانِ تعلیم آپ درسِ نظامی کی کئی کتابوں پر حواشی بھی لکھتے رہے جو ہجرت کے وقت ضائع ہوگئے۔ آپ کی عادت تھی کہ استاد سے سننے کے بجائے خود استاد کو سبق سناتے، یہی وجہ تھی کہ “ہدایت النحو” سے لے کر “موقوف علیہ” تک کتب آپ نے طریقۂ سماع کے مطابق سیکھیں۔

    اعلیٰ تعلیم: سن 1955ء میں جامعہ اسلامیہ اکوڑہ خٹک میں داخلہ لیا اور وہاں مولانا عبدالرحمن بہبود آبادی اور مولانا عبدالشکور بہبودی سے دورۂ حدیث کیا۔ صرف انیس سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوئے۔

    علوم القرآن: درسِ نظامی کے ساتھ آپ کو قرآن کے علوم سے خاص محبت تھی۔ دس سال کی عمر میں ہی قرآن کریم کا لفظی ترجمہ سیکھ لیا تھا۔ سن 1956ء میں دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی میں شیخ القرآن غلام اللہ خان رحمہ اللہ سے تفسیر کا سند حاصل کیا۔ 1957ء میں اپنے گاؤں میں قرآن کی تفسیر کا درس شروع کیا۔ 1958ء میں شیخ القرآن محمد طاہر پنج پیری رحمہ اللہ کی تفسیر میں شریک ہوئے اور ان سے بھی تفسیر کی سند حاصل کی۔

    تدریس: 1958ء میں مدرسہ فیض القرآن رستم میں تدریس شروع کی۔ بدعات و شرک کے خلاف آواز بلند کرنے کی وجہ سے مشکلات پیش آئیں اور آپ نے استعفا دے دیا۔ سن 1960ء میں مدرسہ عربیہ میانوالی میں دو سال تدریس کی مگر مزید رکاوٹوں کے باعث چھوڑنا پڑا۔ 1963ء میں مدرسہ محمودیہ قلعہ دیدار سنگھ پنجاب میں تدریس شروع کی۔سن 1966ء میں والد محترم کے انتقال کے بعد گاؤں واپس آگئے۔

    سن 1966ء میں مسجد شمشاد خان (بونیری خان) رستم میں مدرسہ قائم کیا۔ 1968ء میں رستم بازار میں دارالعلوم تعلیم القرآن کی بنیاد رکھی۔ بعد میں طلبہ کی تعداد بڑھنے پر مردان روڈ پر نئے مقام پر مدرسہ تعمیر کیا گی ا جہاں آپ قرآن کی تفسیر، دورہ حدیث اور دیگر کتب خود پڑھاتے تھے۔

    سن1979 ء میں جب آپ کے استاد شیخ القرآن غلام اللہ خان رحمہ اللہ وفات پاگئے تو آپ نے ان کی جگہ دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی میں درسِ تفسیر دیا۔

    قید و بند کی زندگی: 7 مئی 1990ء کو مخالفین کے ایک حملے کے بعد جھوٹے مقدمے میں آپ کو اپنے بیٹے عبدالصبور اور ڈرائیور مولانا عبداللہ کے ساتھ سات ماہ سنٹرل جیل مردان میں قید رکھا گیا۔ اس دوران آپ نے “تفسیر احسن الکلام” کے دس پاروں کا مختصر تفسیر لکھی، “تحفة السجن” کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی اور قرآن کا اکثر حصہ حفظ کیا۔

    ہجرت: یکم اپریل 1991ء کو دعوتی و تعلیمی رکاوٹوں کے باعث رستم سے پشاور منتقل ہوگئے اور سعید آباد، دلازاک روڈ میں آباد ہوئے۔ یہاں مسجد توحید کی بنیاد رکھی اور قرآن کے درس شروع کیے۔ 1995ء میں سیفن، کوہاٹ روڈ پر “دارالتفسیر الجامعہ العربیہ” کی بنیاد رکھی جہاں آج بھی ہزاروں طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

    منہج: آپ نے پوری زندگی قرآن و سنت کی خدمت میں گزاری۔ سلف صالحین اور اہلِ حدیث کے طریقے پر لوگوں کو قرآن و سنت کی طرف بلاتے اور معاشرے میں ضد، بغض، حسد اور تعصب کے خلاف تعلیم دیتے رہے۔

    عہدے

    • مدیر دارالتفسیر جامعہ عربیہ، سیفن، پشاور
    • مدیر جامعہ تعلیم القرآن، رستم مردان
    • مدیر دارالأطفال الاسلامی، رستم مردان
    • امیر جمعیت اشاعت التوحید و السنہ علیٰ منہج السلف الصالحین
    • امیر شوریٰ علمائے اہل حدیث خیبر پختونخوا

    تصانیف

    1. أحسن الندي على من انتقد على النبي الصحابي (اردو)
    2. انکار حدیث سے انکار قرآن تک (اردو)
    3. بدرة الصلاة في مستخرجات أحاديث المشكاة (عربی)
    4. التبيان في تفسير أم القرآن (عربی)
    5. تحفة السجن (پشتو)
    6. ترتيب الجهاد بضد أهل الإلحاد (پشتو)
    7. ترجمة درر منظومات (فارسی)
    8. تفسير أحسن الكلام (9 جلدیں) (پشتو)
    9. تفسير القرآن العظيم (ایک جلد)
    10. التنجيد في مسألة التقليد (عربی)
    11. تنشيط الأذهان في أصول القرآن (عربی)
    12. توجيه الناظرين إلى مقاصد الكتاب المبين (عربی)
    13. توضیح المحجة فی اثبات ان الحدیث حجة (اردو)
    14. الخطبات الإيمانية (عربی و پشتو)
    15. الدرر المنظومات في ربط السور والآيات (پشتو)
    16. رسالة في ترجمة الأذكار والصلاة
    17. رهنمائے قرآن (فارسی)
    18. سيرة الإزم عن دسيسة سوشلزم (پشتو و عربی)
    19. غيث السحابة على أمة الإجابة (عربی)
    20. لطائف القرآن في تفسير سورة الفاتحة (عربی)
    21. مخمسات تفسير فاتحة (پشتو)
    22. مسائل بطريقة سؤال وجواب (پشتو)
    23. معالم الأحاديث المكررة في الجامع الصحيح للبخاري (عربی)
    24. المنهاج المستقيم في دعوة القرآن الكريم (عربی)
    25. الفرائد الربانية في الفوائد القرآنية (3 جلدیں، عربی)
    26. (پشتو)نماز کی کتاب

    وفات: طویل علالت کے بعد بروز پیر 17 نومبر 2014ء (24 محرم 1436ھ) کو دوپہر 2 بجے وفات پاگئے۔ مغرب کے بعد آپ کی وصیت کے مطابق دارالتفسیر جامعہ عربیہ میں آپ کا جنازہ ادا کیا گیا جس میں کثیر تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی۔

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

    علم التفسیر کا تعارف
    علم التفسیر قرآن مجید کی آیات کے معانی، اسلوب، شان نزول، اور حکمتوں کی تفصیل و تشریح کا فن ہے، جو اللہ کے کلام کی گہرائی کو انسانی فہم کے مطابق واضح کرتا ہے۔ یہ علم قرآنی علوم کا تاج ہے، جو تفسیری اصطلاحات، اصول تفسیر، اور مفسرین کی آراء کو شامل کرتا ہے۔ شیخ القرآن مولانا سید عبدالسلام رستمی صاحب کی دورۃ تفسیر القرآن پشتو اس علم کی روشنی میں قرآن کی تفسیر کو پشتو بولنے والے طلباء اور قارئین کے لیے آسان بناتی ہے، جو اللہ کے کلام کو ان کی زبان میں پہنچاتی ہے۔

    علم التفسیر کی اہمیت
    علم التفسیر قرآن کی صحیح تفہیم اور اس پر عمل کرنے کی بنیاد ہے، جو ایمان کی مضبوطی، اخلاقی تربیت، اور شرعی احکام کی سمجھ فراہم کرتا ہے۔ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے، اور اس کی تفسیر بغیر علم کے ممکن نہیں۔ مولانا سید عبدالسلام رستمی صاحب کی دورۃ تفسیر القرآن 2000 اس علم کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جو طلباء کو قرآن کے اصل مقصد، حکمتوں، اور تفسیری اصولوں سے روشناس کراتی ہے۔ یہ دورۃ دینی شعور کو بیدار کرتی ہے اور قرآن کی تعلیمات کو عملی زندگی میں اتارنے کی ترغیب دیتی ہے۔

    استاد کے درس کے فوائد

    طلباء کے لیے فوائد
    قرآنی تفہیم کی گہرائی
    مولانا رستمی صاحب کے درس سے طلباء قرآن کی تفسیر آسان انداز میں سیکھتے ہیں، جو ان کی قرآنی فہم کو گہرا کرتا ہے۔
    اصول تفسیر کی سمجھ
    درس میں اصول القرآن اور تفسیری اصطلاحات کی تعلیم طلباء کو تفسیر کے قوانین سکھاتی ہے، جو مستقبل کی تدریس اور تحقیق میں مددگار ہے۔

    علماء کے لیے فوائد
    تدریسی رہنمائی
    علماء مولانا صاحب کے درس کو تدریسی مواد کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں، جو تفسیر کی بلاغت اور سادگی کی وجہ سے تدریس کو مؤثر بناتا ہے۔
    تحقیقاتی ذریعہ
    علماء اور محققین اس درس سے مستند حوالہ جات اور مفسرین کی آراء کی تحقیق کر سکتے ہیں، جو تفسیری علوم کی گہرائی بڑھاتا ہے۔

    عوام کے لیے فوائد
    روحانی سکون
    عام قارئین مولانا صاحب کی تفسیر سن کر روحانی سکون حاصل کرتے ہیں، جو قرآن کی حکمتوں سے ان کی زندگی کو منور کرتی ہے۔
    دینی شعور کی ترویج
    یہ درس عام لوگوں میں دینی شعور کو فروغ دیتا ہے اور قرآن کے اصل مقصد کو سمجھنے کی ترغیب دیتا ہے۔

    استاد کے درس کے امتیازات
    مولانا سید عبدالسلام رستمی صاحب کے درس تفسیر کے امتیازات ان کی آسان بیانیہ، مستند حوالہ جات، اور بلاغت میں ہیں۔ وہ قرآن کے مشکل ترین آیات کو آسان کرتے تھے اور ہر سورۃ کا مقصد، خلاصہ، اور ربط بیان کرتے تھے۔ درس میں ہزاروں طلباء کی شرکت اس کی مقبولیت کی گواہی دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی یہ خدمت کو صدقہ جاریہ بنائے اور آخرت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

    دورۃ تفسیر القرآن پشتو آڈیوز اسباق ڈاؤن لوڈ کریں

    اب آپ دورۃ تفسیر القرآن پشتو از شیخ القرآن مولانا سید عبدالسلام رستمی صاحب کا آڈیو فارمیٹ ہماری ویب سائٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں یا سن سکتے ہیں۔ یہ اسباق تفسیر القرآن کے طلباء، علماء، اور عام قارئین کے لیے ایک عظیم روحانی خزانہ ہیں۔ اسے ڈاؤن لوڈ کریں اور مولانا رستمی صاحب کی تفسیر سے استفادہ حاصل کریں۔

    Leave a Reply