Dora Tafseer ul Quran Pashto Audios دورہ تفسیر القرآن پشتو مولانا حمداللہ جان

Dora Tafseer ul Quran Pashto Audios دورہ تفسیر القرآن پشتو مولانا حمداللہ جان

Dora Tafseer ul Quran Pashto Audios by Maulana Hamdullah Jan Dagi

Custom Audio Player
Select a track
0:00 / 0:00
Downloading 0% (0 MB / 0 MB)

    دورہ: دورہ تفسیر القرآن پشتو

    مدرس: مولانا حمداللہ جان ڈاگئ

    موضوع: دورہ تفسیر القرآن پشتو

    فن: علم التفسیر

    دورہ تفسیر القرآن: فہمِ قرآن کا عظیم ذریعہ

    قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا وہ آخری کلام ہے جو انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل کیا گیا۔ اس کے معانی اور مفاہیم کو سمجھنا ہر مسلمان کی اولین ضرورت ہے۔ پشتون معاشرے میں “دورہ تفسیر” کی ایک قدیم اور مبارک روایت رہی ہے، جہاں رمضان المبارک یا مخصوص ایام میں قرآنِ کریم کی مکمل تفسیر پڑھائی جاتی ہے۔ “دورہ تفسیر القرآن پشتو” اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو عوام الناس کو براہِ راست کتاب اللہ سے جوڑنے اور ان کے عقائد و اعمال کی تصحیح کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

    مدرس کا تعارف: شیخ القرآن مولانا حمد اللہ جان ڈاگئؒ

    اس دورہ تفسیر کے مدرس حضرت مولانا حمد اللہ جان ڈاگئؒ (المعروف ڈاگئ باباجی) ہیں۔ آپ برصغیر کے ان جلیل القدر علماء میں سے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی (تقریباً 105 سال) علمِ دین کی اشاعت، سیاستِ حقہ اور روحانیت کے لیے وقف کر دی۔

    • تعلیمی پس منظر: آپ نے مظاہر العلوم سہارنپور سے تعلیم حاصل کی اور شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ اور مولانا حسین احمد مدنیؒ جیسے اکابرین کے شاگرد رہے۔
    • علمی مقام: آپ کو “شیخ القرآن والحدیث” کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ آپ کی یادداشت اس قدر قوی تھی کہ آپ روزانہ 48 اسباق تک پڑھایا کرتے تھے۔
    • بین الاقوامی اثر: آپ نے نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان (کابل) میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں اور ریڈیو شریعت پر آپ کی تفسیر و بخاری کے دروس نشر ہوتے رہے۔

    دورہ تفسیر القرآن پشتو کی نمایاں خصوصیات

    ڈاگئ باباجیؒ کے اس دورہ تفسیر میں درج ذیل تین بنیادی اور اہم خصوصیات پائی جاتی ہیں:

    پشتو زبان میں سلیس ترجمہ

    باباجیؒ نے قرآنِ کریم کے عربی الفاظ کا نہایت سادہ اور عام فہم پشتو ترجمہ کیا ہے۔ آپ کا اندازِ بیاں اتنا فطری ہے کہ ایک ان پڑھ دیہاتی سے لے کر اعلٰی تعلیم یافتہ شخص تک، ہر کوئی قرآنی پیغام کو آسانی سے سمجھ لیتا ہے۔

    مکمل اور مفصل تفسیر

    یہ محض ایک سرسری ترجمہ نہیں بلکہ مکمل اور مفصل تفسیر ہے۔ اس میں:

    • علمی نکات: نحو، صرف، لغت اور بلاغت کے باریک نکات کی وضاحت کی گئی ہے۔
    • ربطِ آیات: ایک آیت کا دوسری آیت سے تعلق اور سورتوں کے باہمی ربط کو مدلل طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔
    • شانِ نزول: آیات کے پس منظر اور ان کے نزول کے اسباب پر روشنی ڈالی گئی ہے تاکہ حکم کی حقیقت واضح ہو سکے۔

    عوامی اصلاح میں مفید

    اس تفسیر کا سب سے بڑا حسن اس کا “اصلاحی پہلو” ہے۔ باباجیؒ نے تفسیر کے دوران:

    • عقائد کی تصحیح: شرک و بدعت کی تردید اور توحیدِ خالص کا درس دیا ہے۔
    • اخلاقی تربیت: معاشرتی برائیوں کی نشاندہی اور اسلامی اخلاق و آداب کی ترغیب دی ہے۔
    • سیاسی و جہادی بصیرت: مسلمانوں کو ان کے وقار اور جہاد کی اہمیت سے روشناس کروایا ہے۔

    شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا حمد اللہ جان ڈاگئؒ (المعروف ڈاگئ باباجی) کی زندگی علم، زہد، سیاست اور خدمتِ خلق کا ایک ایسا سنگم تھی جس کی مثال عصرِ حاضر میں ملنا مشکل ہے۔ آپ نے ایک صدی سے زائد عرصہ دینِ اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کی اخلاقی و علمی آبیاری میں گزارا۔

    ذیل میں ان کے حالاتِ زندگی کا مفصل اور نئے اسلوب میں تذکرہ پیش ہے:

    خاندانی پس منظر اور ولادت

    مولانا حمد اللہ جان کی پیدائش 1909ء یا 1914ء کے قریب ضلع صوابی کے مشہور گاؤں “ڈاگئ” میں ہوئی۔ آپ کا گھرانہ علم و تقویٰ کا گہوارہ تھا۔ آپ کے والد علامہ عبدالحکیمؒ اور چچا مولانا محمد صدیقؒ دونوں ہی اکابرینِ دیوبند (شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ اور علامہ انور شاہ کشمیریؒ) کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ زندگی کے ابتدائی ایام ہی آزمائش سے شروع ہوئے؛ والد کا سایہ پیدائش سے قبل ہی اٹھ گیا اور 6 سال کی عمر میں والدہ بھی داغِ مفارقت دے گئیں، جس کے بعد آپ کی پرورش کی ذمہ داری آپ کی پانچ ہمشیرہ گان نے سنبھالی۔

    تعلیمی مرحلہ: پیاس اور سیرابی

    آپ کا تعلیمی سفر مقامی اسکول سے شروع ہوا، جبکہ قرآنِ کریم اور ابتدائی دینی کتب آپ نے اپنی بہنوں اور قریبی رشتہ داروں سے پڑھیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے آپ نے سرحد اور پنجاب کے مختلف مراکز کا رخ کیا:

    • ہندوستان کا سفر: آپ نے اپنی طالب علمی کے آخری سال مظاہر العلوم سہارنپور میں گزارے اور 1947ء میں وہاں سے فارغ التحصیل ہوئے۔
    • مشہور اساتذہ: آپ نے مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ، مولانا حسین احمد مدنیؒ اور مولانا عبدالرحمن کامل پوریؒ جیسے بحرِ علوم سے فیض حاصل کیا۔

    تدریس: پون صدی کی علمی خدمت

    قیامِ پاکستان کے فوراً بعد 1948ء میں آپ نے اپنے آبائی گاؤں میں دارالعلوم عربیہ مظہر العلوم کی بنیاد رکھی۔

    • انتھک محنت: آغاز میں آپ تنِ تنہا 22 طلباء کو پڑھاتے تھے اور آپ کا جذبہ یہ تھا کہ روزانہ 48 اسباق تک پڑھا دیتے تھے۔
    • بین الاقوامی فیض: آپ کی شہرت سرحد پار افغانستان تک پہنچی۔ امارتِ اسلامیہ کے دور میں آپ کابل کے دارالعلوم فاروقیہ میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے اور ریڈیو شریعت سے آپ کے تفسیر و بخاری کے دروس ایک طویل عرصے تک نشر ہوتے رہے۔

    روحانیت اور تصوف

    ڈاگئ باباجی صرف ایک مدرس نہیں بلکہ ایک صاحبِ حال صوفی بھی تھے۔ آپ کو چاروں بڑے روحانی سلاسل (نقشبندیہ، قادریہ، چشتیہ اور سہروردیہ) میں اجازت و خلافت حاصل تھی۔ آپ کی بیعت افغانستان کے شہر قندوز میں پیر سیف الرحمنؒ سے تھی، اور آپ کی شخصیت میں ولایت اور کرامات کے آثار نمایاں تھے، جن کا مشاہدہ آپ کے ہزاروں شاگردوں نے کیا۔

    سیاسی و جہادی بصیرت

    آپ نے عملی سیاست کو خدمتِ دین کا ذریعہ سمجھا اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے روحانی سرپرست رہے۔

    • انتخابی مہمات: آپ نے 1970ء اور 1988ء کے انتخابات میں حصہ لیا۔ شکست پر آپ کا ردعمل نہایت درویشانہ تھا، آپ نے اسے اللہ کی طرف سے آزمائش سے آزادی قرار دیا۔
    • جہادی سرگرمیاں: سوویت یونین اور امریکہ کے خلاف افغان جہاد کی بھرپور حمایت کی اور خود بھی میدانِ عمل میں جا کر مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کی۔ آپ کشمیر جہاد کے بھی حامی رہے۔

    علمی کمالات اور یادداشت

    آپ کو “شیخ القرآن والحدیث” کے لقب سے پہچانا جاتا تھا۔ فقہ، منطق، فلسفہ اور نحو و صرف جیسے مشکل علوم آپ کی نوکِ زبان تھے۔ آپ کی “فوٹوگرافک میموری” (غیر معمولی یادداشت) ایک معجزہ تھی، جس کی بدولت آپ بغیر کتاب دیکھے پیچیدہ ترین عبارتیں اور حوالے سنا دیا کرتے تھے۔

    آخری سفر اور جانشین

    12 جنوری 2019ء کو تقریباً 105 سے 110 سال کی عمر میں علم و حکمت کا یہ سورج غروب ہو گیا۔ آپ کی نمازِ جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، جو آپ کی عوامی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

    • وراثت: آپ نے اپنے پیچھے ایک مضبوط تعلیمی ادارہ اور لائق جانشین چھوڑے۔ آپ کے صاحبزادے اشفاق اللہ خان، ڈاکٹر انعام اللہ اور مولانا لطف اللہ جان آپ کے مشن کو سنبھالے ہوئے ہیں، جبکہ علمی جانشینی آپ کے پوتے مولانا اسد اللہ کلیم کے حصے میں آئی۔

    حاصلِ کلام

    مولانا حمد اللہ جان ڈاگئؒ کی زندگی اس بات کی دلیل ہے کہ اگر انسان محنت اور اخلاص کو شعار بنا لے تو وہ ایک گاؤں میں بیٹھ کر پوری دنیا کو علم کی روشنی سے منور کر سکتا ہے۔ آپ کی وفات سے پاکستان ایک عظیم درویش اور روشن خیال علمی رہنما سے محروم ہو گیا۔

    خلاصہ کلام

    مختصر یہ کہ “دورہ تفسیر القرآن پشتو” از مولانا حمد اللہ جان ڈاگئؒ علمِ تفسیر کے فن میں ایک سنگِ میل ہے۔ یہ تفسیر جہاں طالبِ علم کے لیے علمی پیاس بجھانے کا سامان ہے، وہیں ایک عام مسلمان کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ اگر آپ قرآنِ کریم کو اپنی مادری زبان (پشتو) میں ایک ایسی شخصیت سے سمجھنا چاہتے ہیں جس نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ قرآن کی خدمت میں گزارا، تو یہ دروس آپ کے لیے بہترین انتخاب ہیں۔

    Leave a Reply