Hafiz Wali Said Sahib حافظ ولی سید کالوخان

شیخ التفسیر حافظ ولی سید صاحب کالوخان1

تعارف شیخ التفسیر حافظ ولی سید صاحب کالوخان
Hafiz Wali Said (Kalu Khan Hafiz Sahib)

حافظ ولی سید کالوخان کے بارے میں ایک بات عرض کرتا ہوں کہ کسی اور حلقے میں یہ احساس
نمایاں ہو یانہ ہو، دینی اور حلقوں میں قہط الرجال کا احساس روز برو بڑھ رہا ہے
اور یہ احساس دل کو اداس اور روح کو پژ مردہ کر دینے والاہے یہی وہ دو حلقے ہیں جن
سے انسانیت کا مقدر وابستہ ہے اور یہی دو حلقے معاشرے کو وقارمتانت ، روشنی ،
بصیرت اور بلند فکری عطا کرتے ہیں ، خدانخواستہ محفل اجڑ گئی توبوری سوسائٹی ویران
ہو جاۓ گی ۔ پہلے اندھیرا کیا کم ہے کہ آئے روز کوئی نہ کوئی چراغ بجھتا جارہا ہے
اور تاریکی بڑھتی اور پھیلتی جارہی ہے ۔ آج ہم ایک بہت بڑے حادثے سے دو چار ہیں ،
دین کے خادموں اور علم کے پیاسوں کو اس خبر وحشت اثر نے مرجھا اور  رلا ڈالا
کہ شیخ التفسیر مولانا حافظ ولی سید صاحب دار فانی سے عالم باقی کو روانہ
ہوگئے۔انا لله و انا اليه راجعون حافظ صاحب پیدائشی نابینا تھے مگر اپنی نا بینائی
کے باوجود اپنے استاد شیخ مولا محمد طاہر پنج پیری کے مشن بیان قرآن کے ذریعے شرک
و بدعت کا جس جرات مندانہ انداز میں انہوں نے رد کیا اور توحید وسنت کے احیاء کے
لئے جو قربانیاں دیں دو ایک نا قابل تردید حقیقت ہے۔ آج ان کے اس گاؤں علاقہ کالو
خان میں قرآنی فضا ان کی محنتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

حافظ صاحب
کو قدرت نے حافظ غضب کا عطاء فرمایا تھا ۔ درس نظامی کی ساری کتا ہیں از بر یا
دتھیں ۔ مطالعہ اس طرح کرتے کہ کسی شاگرد سے عبارت کہلواتے اور خود سنتے ، پھر
عبارت ، کتاب اور صفحہ نمبر تک یادرہتا۔ شامی وغیرہ فقہ حنفی کے متداول کتب بھی از
بر تھے، گویا چلتا پھرتا کتب خانہ تھے ۔ وعظ و بیان میں بھی خدا نے ایک خاص ملکہ
دے رکھا تھا۔ جب بیان کرتے تو لوگوں کے دلوں کی ترجمانی کرتے تھے۔

دیکھئے
تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا

میں نے یہ
سمجھا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

 وعظ ا ورتقریر پر بھی مواخذہ وا جرت نہیں لیتے تھے حتی کہ اپنے کرایہ
پر سواریوں کی گاڑی میں تشریف لے جاتے ۔ تقوی و پرہیز گاری میں بھی اپنے مثال آپ
تھے ۔ آپ نے اپنے ایام زندگی اپنے شیخ واستاد کے تابعداری اور ان کے مشن کو آگے
بڑھانے میں گذاری ۔ حافظ صاحب بہت صلاحیتوں والا تھے ، اللہ مغفرت فرماۓ نہایت
افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ جتنی میری ملاقاتیں ان سے ہوئیں اور میں نے ان سے
جو تاثر قبول کر سکا وہی کچھ زیر قلم لا کر نذر قارئین کر دیا مگر باوجوداس کے کہ
ان کا حلقہ تلامذہ بھی کچھ کم نہیں ،ان کے دو تین شاگردوں اور معتقدین کو خط بھیجے
مگر تا حال کوئی جواب موصول نہیں ہوا مصیبت یہ ہے کہ اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں
دیتا ، اور اسے اپنے تئیں ایک بے کار وفضول کام سمجھتے ہیں ، حالانکہ یہ ایک
تاریخی دستاویز ہے ۔ اکابرین کی تو حید وسنت کے سلسلے میں خدمات، ان کی قربانیوں ،
ان کا علم ، تقوی یہ سب کچھ بعدکی نسلوں کے لئے سبق آموز اور متحرک کرنے کا سبب ہی
بنتی ہے، اگر انہیں بلا غلواور اندھی عقیدت کا ذریعہ بنانے کی بجاۓ قرآن وسنت کی
حدود میں دیتے ہوۓ محفوظ کر لیا جاۓ ۔ یہ ان شاء اللہ ضائع نہیں جاسکتیں ۔ یہ
حالات مشن کے سلسلے میں ساتھیوں اور دوسرے مسلمانوں کا متحرک کرنے ہی کے لئے ہیں ۔
باقی خودان علماء و مشائخ نے جو کچھ کہ دیا کا اس میں انہوں شائبہ تک نہیں۔ خالص اللہ
یہ قربانیاں دیں ان کا اجر تو اللہ ہی کے ہاں ہے۔ ہاں! ہمیں ان کے حالات دیکھ اور
جان کر ان کواچھے الفاظ میں یاد کرنا، ان کے لئے دعا کرنا اور اپنے مقصد پر نظر
رہنی چاہیے ، کوئی اس پر غور کرنے کی تکلیف تو گوار کرے۔ حافظ صاحب نے کچھ کہتا
ہیں میں بھی تصنیف فرمائی ہیں

1.تفسیر
بحرالمرجان
: یہ
ابتدائی چند پاروں کی تفسیر ہے، اگر زندگی آپ کا ساتھ دیتی تو تفسیر مکمل ہو جاتی

2.اظہارالحق

3.عصمت
انبیاء
: انبیاء علیہم السلام کی عصمت کے دفاع میں لکھی گئی ہے

4نعام الرحمن فی مشکلات القرآن : قرآن مجید کی مشکل آیات کا آسان فہم حل(5 )

5.دفاع
صحابہ
: ہر دور میں صحابہ
کرام کے دشمنوں نے ان کے ناموں کو داغدار بنانے کی کوشش کی ، مگر علماء حق ہمیشہ
ان کو دندان شکن جواب دے کر صحابہ کی دفاع کرتے ہیں ۔یہ اسی سلسلۃ الذہب کی ایک
کڑی ہے

 6. بیمہ کی شرعی حیثیت
:
بیمه انشورنس وغیرہ کی
شرعی حیثیت بیان کی گئی ہے کہ جائز ہے یا نا جائز۔کتابوں کی تصنیف و تالیف سے علم
کی بقاء ہے اور یقینا صدقہ جاریہ ہے ۔ اللہ تعالی حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ان
کاوشوں کو شرف قبولیت دے اور انہیں قبول فرماکرارفع و بلند درجات عطا فرماۓ ۔ باقی
علماء کی کتب ڈاون لوڈ کرنے کے لیے
یہاں کلک کریں۔

 

مولانا لیاقت علی صاحب کا استاد محترم 1996 کا یادگار شيخ القران مولانا حافظ ولی سید صاحب رح صوابی میں جلسے سے خطاب کا ایک یادگاری تصویر
مولانا لیاقت علی صاحب کا استاد محترم 1996 کا یادگار شيخ القران مولانا حافظ ولی سید صاحب رح صوابی میں جلسے سے خطاب کا ایک یادگاری تصویر

Leave a Reply