اختلاف حقه بين الاشاعرة والماتريدية

اختلاف حقه بين الاشاعرة والماتريدية

Ikhtilaf Haqqah Bain al-Ashairah wal-Maturidiyah by Mufti Abdul Raziq Kandnavi

PDF Viewer

کتاب: اختلاف حقه بين الاشاعرة والماتريدية

مصںف: مفتی عبدالرازق كدنوی صاحب

موضوع: اختلاف حقه بين الاشاعرة والماتريدية

فن: علم الکلام

ناشر: مدرسہ محمدیہ دارالافتاء والحدیث بلوچستان

صفحات:52

علم الکلام اور عقائدِ اہل سنت کا تعارف

علم الکلام وہ عظیم فن ہے جو اسلامی عقائد کو عقلی اور نقلی دلائل کے ذریعے ثابت کرنے اور باطل نظریات کا رد کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ اہل سنت و الجماعت کے عقائد کی ترجمانی اور تدوین میں دو بڑے مکاتب فکر “اشاعرہ” (امام ابو الحسن اشعری کے پیروکار) اور “ماتریدیہ” (امام ابو منصور ماتریدی کے پیروکار) نمایاں رہے ہیں۔ ان دونوں گروہوں کے درمیان بنیادی عقائد میں مکمل اتفاق ہے، تاہم بعض فروعی اور کلامی مسائل میں علمی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ کتاب اختلاف حقہ بین الاشاعرة والماتریدیة انہی باریک علمی نکات کی وضاحت کرتی ہے جو ان دو جلیل القدر ائمہ کے درمیان بحث کا موضوع رہے ہیں۔

کتاب کا مرکزی موضوع اور فن

یہ کتاب “علم الکلام” کے فن پر لکھی گئی ہے اور اس کا بنیادی مقصد اشاعرہ اور ماتریدیہ کے درمیان پائے جانے والے “اختلافِ حقہ” (ایسا اختلاف جو حق و صداقت کے دائرے میں ہو) کو بیان کرنا ہے۔ مفتی عبد الرازق کدنوی صاحب نے اس مختصر مگر جامع رسالے میں ان تمام مسائل کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے جن میں ان دو مکاتب فکر کے نقطہ ہائے نظر الگ ہیں۔ یہ اختلافات عام طور پر صفاتِ باری تعالیٰ، تقدیر، ایمان و عمل کے تعلق اور دیگر دقیق کلامی مباحث سے متعلق ہیں۔

مصنف کا تعارف: مفتی عبد الرازق کدنوی صاحب

اس کتاب کے مصنف مفتی عبد الرازق کدنوی صاحب ہیں، جن کا علمی مرکز مدرسہ محمدیہ دارالافتاء والحدیث بلوچستان ہے۔ آپ کی تحاریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو عقائد و کلام کے موضوعات پر گہری دسترس حاصل ہے۔ آپ کا اسلوبِ نگارش تحقیقی ہے اور آپ نے اس نزاعی موضوع کو نہایت اعتدال اور علمی دیانت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ مفتی صاحب نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ ان اختلافات کو “نزاعی” بنانے کے بجائے ان کی “علمی حیثیت” واضح کی جائے تاکہ اہل سنت کے ان دو بڑے ستونوں کے درمیان ہم آہنگی اور علمی وسعت کا پہلو نمایاں رہے۔

کتاب اختلاف حقہ بین الاشاعرة والماتریدیة کا جائزہ

یہ کتاب ایک جلد اور 52 صفحات پر مشتمل ہے، جسے مدرسہ محمدیہ بلوچستان نے شائع کیا ہے۔ محض 52 صفحات میں علم الکلام کے اتنے بڑے موضوع کو سمیٹنا مصنف کی مہارت کا ثبوت ہے۔

نمایاں خصوصیات

  • مدلل گفتگو: مصنف نے ہر اختلاف کو فریقین کے اصل مآخذ کی روشنی میں بیان کیا ہے۔
  • اختصار و جامعیت: طویل ابحاث کے بجائے بنیادی نکات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
  • متوازن رویہ: اشاعرہ اور ماتریدیہ دونوں کے موقف کا احترام ملحوظ رکھا گیا ہے۔
  • اصطلاحات کی وضاحت: علم الکلام کی مشکل اصطلاحات کو سہل انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

علماء اور طلباء کے لیے اہمیت

یہ کتاب خاص طور پر مدارس کے ان طلباء کے لیے ایک قیمتی علمی ذخیرہ ہے جو عقائد کی بڑی کتابیں (جیسے شرح عقائد نسفی وغیرہ) پڑھ رہے ہیں۔ اکثر طلباء اشاعرہ اور ماتریدیہ کے اختلافات میں الجھ کر رہ جاتے ہیں، یہ کتاب انہیں ان اختلافات کی حقیقت اور نوعیت سمجھنے میں کلیدی مدد فراہم کرتی ہے۔ علماء کرام کے لیے یہ رسالہ اپنے علم کی تجدید اور تقابلی مطالعہ کے لیے ایک بہترین علمی دستاویزی ثبوت ہے۔

خلاصہ کلام

مجموعی طور پر اختلاف حقہ بین الاشاعرة والماتریدیة علم الکلام کے موضوع پر ایک بہترین تحقیقی رسالہ ہے۔ 52 صفحات کا یہ مختصر مطالعہ قاری کو اہل سنت کے دو بڑے علمی دبستانوں کے فکری ارتقاء سے روشناس کرواتا ہے۔ بلوچستان کے علمی مرکز کی یہ پیشکش ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو عقائدِ اسلامیہ کی گہرائیوں اور کلامی باریکیوں کو سمجھنے کا ذوق رکھتا ہے۔

Leave a Reply