Islam ki Qanoon e Wirasat by Molana Salahuddin Haider Lakhvi
کتاب : اسلام کی قانون وراثت
تالیف: مولانا صلاح الدین حیدر لکھوی
موضوع : علم المیراث
زبان: اردو
ناشر: دار الابلاغ پبلیشر
افتتاحیہ: اسلام کا قانونِ وراثت
اسلام ایک کامل، عالمی اور آفاقی دین ہے جو بنی نوع انسان کے لیے مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہے۔ یہ دین ہر طبقے، ہر قوم، ہر زمانے اور ہر علاقے کے لوگوں کے لیے قابلِ عمل، جامع اور رہنمائی فراہم کرنے والا نظام ہے۔ اسلام رنگ، نسل، زبان یا ذات کا کوئی امتیاز نہیں برتتا بلکہ ہر انسان کو عدل، انصاف اور مساوات کی تعلیم دیتا ہے۔
اسلام نے ہمیں ایسے عظیم قوانین عطا کیے ہیں جو انسانی زندگی کے ہر پہلو کو محیط ہیں۔ وراثت کا قانون ان میں سے ایک ہے، جس میں عدل و انصاف کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا گیا ہے۔ مرد و عورت، چھوٹے و بڑے، طاقتور و کمزور حتیٰ کہ ماں کے پیٹ میں موجود بچے کے لیے بھی حقِ وراثت محفوظ رکھا گیا ہے۔
علمِ فرائض (علمِ میراث) کی اہمیت
رسول اکرم ﷺ نے علمِ فرائض کو دین کا جزوِ لازم قرار دیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اسے سیکھنے اور سکھانے کی تلقین فرمائی۔
فرمانِ نبوی ﷺ:
“تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ فَإِنَّهَا نِصْفُ الْعِلْمِ، وَهُوَ يُنسى وَهُوَ أَوَّلُ شَيْءٍ يُنْزَعُ مِنْ أُمَّتِي”
(ابو ہریرہؓ – رواہ ابن ماجہ)
یعنی: “علمِ فرائض سیکھو اور سکھاؤ، کیونکہ یہ آدھا علم ہے اور سب سے پہلے یہ علم اٹھا لیا جائے گا۔”
اسی طرح حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“اگر کوئی شخص وراثت کا مسئلہ پوچھنا چاہے تو زید بن ثابتؓ کے پاس جائے، وہ اس فن کے سب سے ماہر ہیں۔”
وراثت کا علم کیوں ضروری ہے؟
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
“العلم ثلاثة: آية محكمة، وسنة قائمة، وفريضة عادلة، وما سوى ذلك فهو فضل”
یعنی: “علم تین قسم کا ہے: قرآن کی پکی آیت، نبی کی قائم سنت، اور عدل پر مبنی فریضہ (وراثت)، باقی سب نفل ہے۔”
علمِ فرائض انسان کی موت سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ دیگر علوم کا تعلق زندگی سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسے نصف علم فرمایا، کیونکہ مرنے کے بعد ہر شخص کے ورثاء کو اس علم کی ضرورت پڑتی ہے۔
وراثت میں عدل و انصاف کی تعلیم
ایک موقع پر حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے والد نے انہیں ایک باغ ہبہ کرنا چاہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو یکساں دیا ہے؟”
جب انہوں نے انکار کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
“میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔”
یہ حدیث واضح طور پر بتاتی ہے کہ وراثت میں عدل لازم ہے۔ کسی وارث کو محروم کرنا یا ناحق ترجیح دینا، ظلم ہے۔
مسلمانوں کی موجودہ روش اور تنبیہ
آج افسوس کی بات ہے کہ بہت سے مسلمان وراثت کی تقسیم سے غافل ہیں۔ بعض جگہ اسلامی قانون کو چھوڑ کر غیر شرعی اور مشرکانہ طریقے اپنا لیے گئے ہیں، حتیٰ کہ عورتوں اور بیٹیوں کو وراثت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
قرآن نے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ جیسے اہم عبادات کے احکام کو اجمالی طور پر بیان کیا، مگر وراثت کے احکام کو بڑی تفصیل سے بیان فرمایا۔ یہ اس علم کی اہمیت کی واضح دلیل ہے۔
ایک اہم انتباہ
وراثت کا تعلق حقوق العباد سے ہے، جو محض زبانی توبہ سے معاف نہیں ہوتے۔ اگر کسی وارث کا حق مارا گیا، تو قیامت کے دن اس کا سخت مواخذہ ہوگا۔
اے مسلمانو! اپنے بیٹوں کی ناجائز محبت میں بیٹیوں کا حق نہ مارو۔ نہ بیٹے تمہیں جنت میں لے جا سکتے ہیں، نہ بیٹیاں تمہیں دوزخ میں دھکیل سکتی ہیں۔ سب اولاد تمہاری امانت ہے، ان میں عدل کرو، انصاف کرو، اور اللہ کے قانون کو فوقیت دو۔
کتاب کا تعارف
اسلام کی قانونِ وراثت ایک نہایت مفید اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق تحریر کردہ کتاب ہے جو علم المیراث یعنی اسلامی وراثتی قوانین کو عام فہم انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس کتاب میں اسلامی شریعت کی روشنی میں جائیداد کی تقسیم کے مکمل اصول بیان کیے گئے ہیں، تاکہ مسلمان زندگی میں یا بعد از وفات ورثاء کے درمیان عدل و انصاف کے تقاضے پورے کر سکیں۔
علم المیراث کا تعارف
علم المیراث اسلامی فقہ کی وہ شاخ ہے جو انسان کے انتقال کے بعد اس کے مال و جائیداد کی تقسیم سے متعلق احکام و اصول بیان کرتی ہے۔ یہ علم مکمل طور پر قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس پر مبنی ہے۔
علم المیراث کی اہمیت
قرآن میں واضح تفصیل
علم المیراث ان چند موضوعات میں سے ہے جن کی تفصیل قرآن پاک میں خود بیان کی گئی ہے (سورۃ النساء آیات 11، 12، 176)۔
عدل و انصاف کا پیمانہ
صحیح تقسیم سے خاندان میں اتفاق، محبت، اور عدل قائم ہوتا ہے جبکہ غفلت سے جھگڑے، قتل اور قطع رحمی جنم لیتی ہے۔
دینی و سماجی فریضہ
علم المیراث نہ صرف دینی تعلیم ہے بلکہ ایک اجتماعی فریضہ بھی ہے تاکہ معاشرے میں مال کی غیر منصفانہ تقسیم نہ ہو۔
مصنف کا تعارف
مولانا صلاح الدین حیدر لکھوی ایک ممتاز عالم دین، مؤلف، اور خطیب تھے۔ آپ نے اسلام کے کئی اہم موضوعات پر مدلل اور عام فہم انداز میں کتابیں تحریر کیں۔ علم المیراث پر آپ کی یہ کتاب اسلام کی قانونِ وراثت خاص طور پر جائیداد کی تقسیم سے متعلق عوام الناس میں پائے جانے والے غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔
کتاب کا تعارف
اسلام کی قانونِ وراثت ایک ایسی کتاب ہے جو نہ صرف علم المیراث کی فنی باریکیوں کو بیان کرتی ہے بلکہ جائیداد کی تقسیم کے شرعی طریقہ کار کو عملی زندگی کے تناظر میں واضح کرتی ہے۔ یہ کتاب اسلامی قانونِ وراثت کو ایک مکمل نظام کے طور پر پیش کرتی ہے۔
اسلام کی قانونِ وراثت کی اہمیت
دینی اور سماجی اصلاح کا ذریعہ
یہ کتاب ایسے معاشرتی مسائل کا حل پیش کرتی ہے جو جائیداد کی تقسیم کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔
ہر مسلمان کے لیے رہنما
وراثت کے مسائل سے ہر فرد متاثر ہوتا ہے، اس لیے یہ کتاب مرد و زن، علماء و عوام سب کے لیے مفید ہے۔
اصلاحی دعوت کی شکل
کتاب نہ صرف علمی رہنمائی دیتی ہے بلکہ اصلاحِ معاشرہ کی تحریک بھی ہے۔
اسلام کی قانونِ وراثت کی نمایاں خصوصیات
عام فہم اور سادہ اسلوب
مشکل فقہی اصطلاحات سے بچتے ہوئے سادہ زبان میں سمجھایا گیا ہے۔
عملی رہنمائی
زندگی میں اور مرنے کے بعد جائیداد کی تقسیم میں پیش آنے والے مسائل کا حل پیش کیا گیا ہے۔
معاشرتی مسائل کا علاج
وراثت کے تنازعات، قتل، قطع رحمی جیسے مسائل کی جڑ کو ختم کرنے کا نسخہ اس کتاب میں موجود ہے۔
اصلاحی انداز
مصنف کا انداز علمی ہونے کے ساتھ ساتھ اصلاحی بھی ہے، جس سے دل پر اثر ہوتا ہے۔
طلباء اور علماء کے لیے فوائد
طلباء کے لیے
اسلامی قانون وراثت کا ابتدائی اور متوسط درجے کا بہترین تعارف
سادہ زبان میں پیچیدہ مسائل کی وضاحت
علماء و خطباء کے لیے
خطبات و دروس میں استعمال کے لیے مستند مواد
عوام کو سکھانے کے لیے بہترین ذریعہ