Jamal ul Quran Pashto by Maulana Ashraf Ali Thanvi
جمال القرآن پشتومولانا اشرف علی تھانوی
نام کتاب: جمال القرآن پشتو
مصنف: حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ
مترجم: قاری محمد شبیر
موضوع: علم التجوید (پشتو زبان میں)
کتاب کا تعارف
جمال القرآن پشتو اصل میں مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی معروف تصنیف “جمال القرآن“ کا پشتو ترجمہ ہے، جسے قاری محمد شبیر صاحب نے بڑی محنت اور علمی دیانتداری سے پشتو زبان میں منتقل کیا ہے۔ یہ کتاب قرآن مجید کو صحیح تلفظ، تجویدی قواعد اور عربی لغت کے مطابق پڑھنے کے فن یعنی علم التجوید پر ایک جامع اور آسان فہم کتاب ہے۔
مصنف اور مترجم کا تعارف
مولانا اشرف علی تھانویؒ
مولانا اشرف علی تھانویؒ برصغیر کے جید علماء میں سے ایک تھے، جنہوں نے دین کے ہر شعبے میں علمی خدمات سرانجام دیں۔ جمال القرآن ان کی تجوید پر لکھی گئی مایہ ناز کتاب ہے، جسے ہر مکتبہ فکر میں مقبولیت حاصل ہوئی۔
قاری محمد شبیر
قاری محمد شبیر صاحب نے نہایت مہارت کے ساتھ جمال القرآن پشتو ترجمہ کیا۔ انہوں نے صرف لغوی ترجمہ نہیں کیا بلکہ اسلوب، عبارت اور علم تجوید کے مزاج کو بھی برقرار رکھا ہے، جو کہ ترجمہ نگاری کا اعلیٰ معیار ہے۔
کتاب کی خصوصیات اور فوائد
آسان اور عام فہم پشتو زبان
جمال القرآن پشتو کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ کتاب پشتو زبان میں لکھی گئی ہے، جو کہ پشتون عوام کے لیے علم تجوید کو سمجھنے اور سیکھنے میں بے حد مفید ہے۔
علمی ترتیب و جامعیت
کتاب میں تمام اہم قواعد جیسے مخارج الحروف، صفات، ادغام، اخفاء، غنہ، تفخیم، ترقیق، مد و قصر، وقف و ابتدا کو علمی ترتیب سے بیان کیا گیا ہے تاکہ قاری کو مکمل فہم حاصل ہو۔
ہر عمر کے لیے مفید
چاہے طالب علم ہو، استاد، یا عام قرآن پڑھنے والا، جمال القرآن پشتو ہر طبقے کے لیے یکساں مفید ہے۔ مدرسین کے لیے تدریس میں اور طلبہ کے لیے سیکھنے میں بہترین ذریعہ ہے۔
مدارس اور ذاتی مطالعے کے لیے موزوں
یہ کتاب نہ صرف دینی مدارس کے نصاب کے طور پر قابلِ شمولیت ہے بلکہ گھریلو سطح پر بھی خود مطالعہ کے لیے بہترین انتخاب ہے۔
علم التجوید کی اہمیت
قرآن پاک ایک عظیم الہامی کتاب ہے، جسے صحیح تجوید کے ساتھ پڑھنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔ غلط تجوید کے باعث قرآن کے مفہوم میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اسی لیے جمال القرآن پشتو جیسی کتابیں سیکھنے کے لیے رہنمائی کا مینارہ ثابت ہوتی ہیں۔ یہ کتاب قاری کو تجوید کی باریکیوں سے آگاہ کرتی ہے تاکہ وہ قرآن کو اس کے اصل لہجے میں پڑھ سکے۔