Lataif Ilmiya-Kitab-ul-Azkia Urdu لطائف علمیہ-کتاب الاذکیاء

Lataif Ilmiya-Kitab-ul-Azkia Urdu لطائف علمیہ-کتاب الاذکیاء

Book: Lataif Ilmiya (Urdu translation of Kitab Al-Azqiya)

Author: Abul Faraj Abd al-Rahman bin Ali Ibn al-Jawzi

Translator: Maulana Ishtiaq Ahmed

Topic: Events of wisdom

Publisher: Islamic Kutub Khana Urdu Bazaar Lahore

کتاب :  لطائف علمیہ ( اردو ترجمہ کتاب الاذکیاء)

مصنف: ابوالفرج عبدالرحمن بن علی ابن الجوزی

مترجم: مولانا اشتیاق احمد

موضوع: عقل مندی کے واقعات

پبلشر: اسلامی کتب خانہ اردو بازار لاہور

لطائف علمیہ ایک مشہور اسلامی عالم ابن جوزی کی تصنیف “کتاب الاذکیاء” کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب ذہانت اور عقل مندی کے بارے میں ہے، جس میں مختلف ادوار کے اسلامی علماء، فقیہوں اور دانشوروں کی دلچسپ اور سبق آموز کہانیاں شامل ہیں۔

:کتاب کی خصوصیات

تاریخی کہانیاں: یہ کتاب تاریخی واقعات سے بھرپور ہے، جو اسلامی تمدن میں ذہانت اور عقل مندی کی عمدہ مثالیں پیش کرتی ہیں۔

اخلاقی سبق: ہر کہانی ایک اہم اخلاقی سبق کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، جو قارئین کو زندگی کے مختلف پہلوؤں میں غور و فکر کرنے کی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

دلچسپ بیان: ابن جوزی کا بیان انتہائی دلچسپ اور روان ہے، جو قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور کتاب کے مطالعے کو مزید پرکشش بناتا ہے۔

“لطائف علمیہ ایک ایسی کتاب ہے جو نہ صرف اسلامی تاریخ اور ثقافت میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے مفید ہے بلکہ یہ ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو اپنی عقل اور ذہانت کو بہتر بنانے کے لیے سبق آموز کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں۔ یہ کتاب ہر عمر کے قارئین کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے، جو انہیں ماضی کے عظیم دماغوں کی حکمت اور بصیرت سے روشناس کراتی ہے۔

ترجمة المؤلف

اس کتاب کے مؤلف امام ابن الجوزی پہ یہ چھٹی صدی کے جلیل القدر علماء اسلام میں سے ہیں۔ بغداد میں رہتے تھے۔ آپ کا نام عبدالرحمن بن علی ہے جمال الدین خطاب اور ابوالفرج کنیت ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت ابو بکر صدیق تک بواسط محمد بن ابی بکر پہنچتا ہے۔ آپ اپنے زمانہ کے بہت بڑے خطیب اور بہت سے علوم حدیث و تفسیر وفقه و ادب و تاریخ وغیرہ میں بے مثال تھے۔ بغداد میں ۵۱۱ھ میں پیدا ہوئے ۔ آپ کی مجالس وعظ اس قدر مؤثر ہوتی تھیں جن کی نظیر دنیا میں نہ تھی جس سے ہزاروں آدمی نصیحت حاصل کر کے گناہوں سے تائب ہوتے تھے اور ہزاروں مشرک اسلام قبول کرتے تھے۔ آپ کی تصنیفات مختلف علوم میں تین سو چالیس سے زیادہ ہیں اور ان میں سے بعض تو اس قدر مبسوط ہیں کہ میں جلدوں تک پہنچ گئیں۔ محل مجلدات کی تعداد دو ہزار ہے۔ آپ نے آخر عمر میں منبر پر اس کا اظہار کیا ہے کہ ”میں نے ان انگلیوں سے دو ہزار جلدیں لکھی ہیں اور میرے ہاتھ پر ایک لاکھ آدمیوں نے تو بہ کی ہے اور ہیں ہزار یہودیوں اور نصرانیوں نے اسلام قبول کیا ہے ۔ منقول ہے کہ جن فلموں سے آپ احادیث رسول صل اللی کم لکھتے تھے ان کے تراشے محفوظ رکھتے تھے تو ان کا ایک انبار لگ گیا۔ آپ نے یہ وصیت کی تھی کہ میرے انتقال کے بعد جب غسل دیا جائے تو اسی سے پانی گرم کیا جائے ۔ چنانچہ ایسا کیا گیا تو پھر بھی اس کا ایک حصہ بچ گیا آپ کی وفات بغداد میں ۵۹۷ھ میں ہوئی۔ (ماخوذ از: ترجمة المؤلف تلقیح)

فهرست

باب-1 : فضیلت عقل کے بیان میں

باب-2 : عقل کی ماہیت اور اُس کے محل کے بیان میں

 باب-3 : ذہن اور فہم اور ذکاء کے معنے

باب-4 : علامات کا بیان جن سے کسی عاقل اور ذکی کی عقل اور ذکاء پہچانی جاسکتی ہے

باب-5 : انبیاء متقدمین کی ذہانت کے واقعات

باب-6 : پچھلی امتوں کی دانشمندی کی باتیں

باب-7 : آنحضرت علی ایم کے وہ ارشادات جن سے آپ میلی لی یکم کی فطری قوت و ذہانت واضح ہوتی ہے

باب-8 : صحابہ یا ان کی عقل و ذہانت کے واقعات

باب-9 : خلفاء کی حکایات اور ذہانت کے واقعات

باب-10 : وزراء کے عقل و ذہانت کے واقعات

باب-11 : بادشاہ اُمراء در باری اور پولیس کے عمال کی حکایات

باب-12 : قاضیوں کے احوال ذکاوت

باب-13 : اُمت کے علماء اور فقہاء کے واقعات ذہانت

باب-14 : عابدوں اور زاہدوں کی حکایات ذکاوت

باب-15 : عرب اور علماء عربیت کے واقعات و حکایات

باب-16 : ایسے حیلوں کا بیان جو اہل ذکاوت نے اپنا کام نکالنے کیلئے استعمال کیے

باب-17 : ایسے حیلوں کا ذکر جن کا انجام مقصود کے خلاف نکلا

 باب-18 : ایسے لوگوں کا حال جو کوئی حیلہ کر کے آفت سے بچ گئے

باب-19 : ایسے نادر ملفوظات جن کا ظاہری مفہوم مرادی مفہوم کے خلاف محسوس ہو

باب-20 : ایسے لوگوں کا ذکر جو مسکت جواب سے دشمن پر غالب آگئے

باب-21 : ایسے عام لوگوں کا ذکر جو اپنی ذکاوت سے بڑے رو سا پر غالب آگئے

باب-22 : متوسط اور عام طبقہ کے اہل ذکاوت کے اقوال وافعال

 باب-23 : از کیاء کے بچتے ہوئے کلمات بولنے کے واقعات

باب-24 : چند شعراء اور قصیدہ لکھنے والوں کی ذہانت کے واقعات

 باب-25 : ایسے حیلوں کا بیان جولڑائیوں میں استعمال کیے گئے

 باب-26 :  طبیبوں کی ذہانت کے واقعات

باب-27  : طفیلیوں (یعنی بن بلائے مہمانوں) کے حالات

باب-28  :  چوروں کی چالاکیوں کے واقعات

باب-29 : ذہین بچوں کی ذہانت کے واقعات

باب-30 : ذی عقل مجنونوں کے واقعات

باب-31 : تیز فہم نیک بیبیوں کے حالات و واقعات

باب-32 : ایسے چوپایہ جانوروں کا ذکر جن کی باتیں انسان کے مشابہ ہیں

باب-33 : ایسی ضرب الامثال جو عرب اور دیگر حکماء کی زبانوں پر بے زبان حیوانات کے کلام کے حوالے سے جاری ہیں اور بڑی دانشمندی کی دلیل ہیں

باب-34 : خاتمة الكتاب

Leave a Reply