Madni Miras Urdu by Molana Abdul Qadir Muhammad Muttaqi
کتاب: مدنی میراث
تالیف: مولانا عبدالقادر محمد متقی
موضوع: علم المیراث (اسلامی قانونِ وراثت)
زبان: اردو
ناشر: ادارہ تالیفات اشرفیہ، لاہور
نوعیت: علمی میراث کی اہم مباحث پر مشتمل مختصر مگر جامع رسالہ
تعارف
مدنی میراث ایک نہایت جامع اور بامقصد فقہی رسالہ ہے جو علم المیراث کی اہم اور پیچیدہ مباحث کو نہایت ترتیب و تہذیب کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ مولانا عبدالقادر محمد متقی نے اسلامی قانونِ وراثت کے ان پہلوؤں کو موضوع بنایا ہے جو عام طور پر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں یا عوام کے لیے مشکل سمجھے جاتے ہیں۔
علم المیراث: شریعت کا اہم ترین شعبہ
علم المیراث کو “علم الفرائض“ بھی کہا جاتا ہے، اور یہ اسلامی فقہ کا نہایت اہم شعبہ ہے۔ قرآن مجید نے وراثت کے احکام کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور ان پر عمل کو “فریضۃ من اللہ“ قرار دیا ہے۔
“مدنی میراث“ اسی اہم ترین شعبے میں ایک مفید اضافہ ہے، جو طلبہ، علماء، مفتیان کرام اور عام اہلِ علم کے لیے یکساں مفید ہے۔
کتاب “مدنی میراث” کی اہم خصوصیات
علمی ترتیب: کتاب میں علم المیراث کے اہم ابواب جیسے حصص، عصبات، ذوی الفروض، اور حجب وغیرہ پر علمی ترتیب سے بحث کی گئی ہے۔
خلاصہ و نچوڑ: فقہی متون اور تفصیلی مباحث کا خلاصہ پیش کر کے عام فہم انداز میں سمجھایا گیا ہے۔
سوال و جواب کی شکل: کئی اہم مباحث کو سوال و جواب کی شکل میں واضح کیا گیا ہے، جو قاری کو مفہوم سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
عصرِ حاضر کی ضرورت: اس رسالے میں جدید دور کے وراثتی مسائل جیسے بیوہ کے حقوق، والدین کا حصہ، سوتیلے رشتے اور جائیداد کے جھگڑوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
کتاب کن کے لیے مفید ہے؟
مدارس کے طلبہ
مفتیان و فقہاء
وکلاء و قانون دان
عام مسلمان مرد و خواتین
اسلامی معاشرت سے دلچسپی رکھنے والے افراد
یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ایک قیمتی رہنما ہے جو اسلامی وراثت کے احکام کو صحیح طور پر سمجھنا چاہتا ہے۔
مؤلف کا تعارف
مولانا عبدالقادر محمد متقی ایک کہنہ مشق عالمِ دین اور فاضل مدرس ہیں، جنہوں نے علمِ فقہ و میراث میں کئی علمی خدمات انجام دی ہیں۔ ان کا اندازِ تحریر سادہ، علمی، اور دلنشین ہے، جو قاری کو پیچیدہ موضوعات سے گھبرانے نہیں دیتا۔
ادارہ تالیفات اشرفیہ لاہور کی اشاعت
یہ رسالہ ادارہ تالیفات اشرفیہ، لاہور سے شائع ہوا ہے، جو برصغیر کے معروف اشاعتی اداروں میں سے ایک ہے۔ ان کا مقصد اسلامی علوم و فنون کی خدمت ہے، اور “مدنی میراث“ اسی خدمت کا روشن نمونہ ہے۔