Masajid ky Fazail aor Masail pdf by Mufti Abdul Latif
ائمہ اور ذمہ داران مسجد کے لیے ایک قیمتی سوغات
کتاب کا تعارف
کتاب کا نام: مساجد کے فضائل اور مسائل اور متعلقہ امور
مصنف: مفتی عبداللطیف قاسمیؒ
مساجد مسلمانوں کے اہم مراکز
مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر اور اس کا سب سے محبوب ترین مقام ہے۔ یہ مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور خالق و مخلوق کے درمیان رشتے کی مضبوطی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ مسجد میں رحمتِ خداوندی کا نزول ہوتا ہے، اور مومن کے دل کو یہاں سکون و اطمینان نصیب ہوتا ہے۔
مساجد کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
احادیث میں مساجد کی بے شمار فضیلتیں بیان کی گئی ہیں
- ایک حدیث میں مساجد کو اللہ کی سب سے پسندیدہ جگہ قرار دیا گیا ہے۔ (مسلم، حدیث نمبر: 288)
- مساجد تعمیر کرنے والوں کو جنت کے محلات کی بشارت دی گئی ہے۔ (بخاری، حدیث نمبر: 450)
- مسجد سے تعلق رکھنے والے افراد کو قیامت کے دن ٹھنڈے اور اطمینان بخش سایہ کا پروانہ دیا جائے گا۔ (بخاری، حدیث نمبر: 660)
آغازِ اسلام میں مساجد کی اہمیت
اسلام کے ابتدائی دور سے ہی مساجد کو نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ مکہ مکرمہ میں مشکلات کے باوجود، جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو سب سے پہلا کام مسجد قباء کی تعمیر تھی۔ بعد ازاں، مدینہ میں جہاں آپ ﷺ کی اونٹنی بیٹھی، وہ جگہ خرید کر مسجد نبوی کی بنیاد رکھی گئی۔
دورِ نبوی میں مساجد کا کردار
دورِ نبوی میں مساجد محض عبادت کی جگہ نہ تھیں بلکہ مسلمانوں کے اہم مراکز کے طور پر کام کرتی تھیں، جہاں:
- تعلیم و تربیت دی جاتی تھی۔
- سیاسی و انتظامی امور طے کیے جاتے تھے۔
- لشکروں کی تیاری اور حکومتی فیصلے کیے جاتے تھے۔
- امراء اور حکام کا تقرر ہوتا تھا۔
موجودہ دور میں مساجد کا زوال
آج امتِ مسلمہ کی مساجد سے وابستگی کمزور ہو چکی ہے۔ پنج وقتہ نماز کے لیے مساجد میں حاضری کم ہو گئی ہے۔ مزید برآں، امام، مؤذن، اور متولی جیسے اہم عہدوں پر نا اہل افراد براجمان ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے مساجد کی روحانی عظمت متاثر ہو رہی ہے۔
مساجد کی ظاہری تزئین و آرائش پر غیر ضروری توجہ
مساجد کو روحانی طور پر آباد رکھنے کے بجائے، ان کی ظاہری خوبصورتی پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ لاکھوں اور کروڑوں روپے صرف عمارتوں کی تزئین پر خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ مساجد کے بنیادی مقصد کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔
مساجد سے متعلق اہم مسائل
مساجد میں بعض مسائل میں افراط و تفریط عام ہو چکی ہے، جیسے
- فرض نماز کے بعد دعا کا مسئلہ
- جماعتِ ثانیہ کا مسئلہ
ان امور میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
کتاب “مساجد کے فضائل اور احکام” کی خصوصیات
یہ کتاب مساجد کے فضائل، مسائل اور متعلقہ امور کو جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس میں درج ذیل اہم موضوعات شامل ہیں:
- مساجد کی اہمیت و فضیلت
- مقدس مقامات جیسے مسجد حرام، حجر اسود، مقامِ ابراہیم، مسجد نبوی اور بیت المقدس کی تفصیلات
- ائمہ و مؤذنین کی ذمہ داریاں
- مساجد کی تزئین کے اسلامی حدود
- جماعت، صف بندی اور باجماعت نماز کے احکام
- وہ مسائل جو ناجائز ہیں مگر عام ہیں، اور وہ مسائل جو جائز ہیں مگر ان میں افراط و تفریط پائی جاتی ہے
مصنف کی تحقیق و اندازِ تحریر
مفتی عبداللطیف قاسمی صاحب نے اس کتاب میں ہر بات کو مدلل اور مستند حوالوں کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اختلافی موضوعات کو متوازن انداز میں پیش کیا گیا ہے تاکہ امت کو صحیح سمت دی جا سکے۔
قارئین کے لیے پیغام
تمام مسلمانوں کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ مساجد کی اہمیت کو سمجھا جا سکے۔ ہمیں اپنی مساجد کو اس کتاب میں درج ہدایات کے مطابق سنوارنے اور آباد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ کتاب امت کے لیے مفید ثابت ہو اور مؤلف کے لیے آخرت کا ذخیرہ بنے۔ آمین۔
مسجد کا مرکزی مقام اور اس کی اہمیت
اسلام میں مسجد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کو مسلمانوں کے تمام امور کا مرکز بنایا۔ یہاں سے مسلمانوں کو مہمات پر روانہ کیا جاتا، نومسلم آبادیوں میں معلمین و دعاۃ بھیجے جاتے، مہاجرین و انصار کو تعلیم دی جاتی، وفود کی ملاقاتیں ہوتی تھیں اور فقراء کے لیے قیام گاہ کا انتظام بھی مسجد میں ہوتا تھا۔
مسجد میں علمی و روحانی سرگرمیاں
عہدِ نبوی میں مسجد صرف عبادات کے لیے مخصوص نہ تھی بلکہ یہ ایک علمی و روحانی مرکز بھی تھی۔ ذکر و اذکار کی محافل کے ذریعے خانقاہی ماحول اور درس و تدریس کی صورت میں تعلیمی ماحول قائم کیا جاتا تھا۔ اسلام کی تبلیغ کے لیے جماعتیں تشکیل دی جاتی تھیں۔
مسجد کا نظام خلفائے راشدین کے دور میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین نے بھی مسجد کی مرکزی حیثیت کو برقرار رکھا۔ حرم مدنی میں حضرت ابو ہریرہ، ابن سیرین، ربیعہ بن عبدالرحمن اور امام مالک جیسے جلیل القدر علماء نے علمی حلقے قائم کیے۔ حرم مکی میں حضرت عبداللہ بن عباس، سفیان بن عیینہ اور عطا بن رباح جیسے محدثین و فقہاء نے درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔
مساجد کو حرمین شریفین کے نمونے پر لانے کی ضرورت
یہ صرف حرمین شریفین کی خصوصیت نہیں بلکہ ہر مسجد کو حرمین کے نمونے پر لانا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ تمام مساجد میں دینی و علمی ماحول پیدا کرنا، عبادات اور دینی تعلیم کو فروغ دینا، اسلامی احکام کی ترویج کرنا اور معاشرتی فلاح و بہبود کے کام انجام دینا ضروری ہے۔
مسجد کی آبادکاری اور اس کی اہمیت
اگر مسجد کا نظام درست ہو جائے اور مسلمانوں کا اس سے تعلق مضبوط ہو تو اسلامی معاشرے میں دینی تعلیم، حمیت، غیرت، انسانی ہمدردی، رواداری اور اسلامی احکام کی ترویج آسان ہو جائے گی۔ مسجد کو ایمان و اعمال کے ذریعے آباد کرنا اور اس کی تعمیر و توسیع میں حصہ لینا ایمان کی علامت ہے۔
مسجد کے انتظامیہ، امام، مؤذن اور خادمین کی ذمہ داریاں
مسجد کی انتظامیہ، امام، مؤذن اور خادمین کا کردار مسجد کو آباد کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہونا چاہیے، حسن و خوبی کے ساتھ ان ذمہ داریوں کو انجام دینا چاہیے، نمازیوں کو سہولت فراہم کرنی چاہیے اور اللہ کی رضا حاصل کرنی چاہیے۔
زیر نظر کتاب اور اس کی تقسیم
اسی ضرورت کے پیش نظر ایک جامع کتاب ترتیب دی گئی ہے جو مسجد کی تاریخ، اہمیت اور اس کے مختلف امور پر روشنی ڈالتی ہے۔ اس کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے:
- پہلا باب: مسجد کی تاریخ، فضیلت، اہمیت، تولیت، خدمت اور حفاظت۔
- دوسرا باب: مسجد کے مختلف متعلقات جیسے کہ منبر، محراب، مینار، صفوں کی درستگی، عورتوں کا مسجد میں آنا، غیر مسلموں کا داخلہ اور تعاون۔
- تیسرا باب: آداب المساجد، مسجد کی صفائی، نمازیوں کی ضروریات، اور اعلانات۔
- چوتھا باب: جماعت ثانیہ، نماز جنازہ، فرض نمازوں کے بعد دعا، بیمار کی نماز اور کرسی پر نماز کے احکام۔
کتاب کے علمی فوائد اور علما کرام کی توثیق
یہ کتاب خاص طور پر مسجد کی انتظامیہ، ائمہ، مؤذنین اور خادمین کے لیے مرتب کی گئی ہے تاکہ وہ شرعی احکام کو سمجھ سکیں اور ان پر عمل کر سکیں۔ کتاب پر حضرت مفتی محمد جمال الدین صاحب قاسمی اور حضرت مولانا مفتی شفیق احمد قاسمی مدظلہ جیسے اکابر علماء نے اپنی تقریظات اور اصلاحات فراہم کی ہیں۔
اللہ سے دعا
اللہ تعالیٰ اس کتاب کو امت کے لیے نافع بنائے، مسجد کے نظام کو درست کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام مساجد کو حرمین شریفین کے نمونے پر چلنے کی سعادت نصیب کرے۔ آمین!