نام : مخ القرآن اردو پشتو
مصنف: مولانا عبدالواحد تورڈھیر
موضوع : علوم القرآن
ناشر: مکتبۃ الاشاعت ڈاٹ کام
مولانا عبدالواحد جھانگیرہ کی شہرہ آفاق تصنیف مخ القران میں مولانا موصوف نے نے ہر سورۃکی ماقبل سورت کے ساتھ ربط اور پھر سورۃ کا دعویٰ ،تقسیم سورۃ ،خلاصہ سورۃ ذکر کیا ہے جس سے قرآن پاک سمجھنے میں بڑی آسانی ہو جاتی ہے دراصل مولانا صاحب کی کتاب قرآن پاک کا ایک خلاصہ ہے ہے کہ قرآن پاک میں میں کتنے احکامات نواحی وغیرہ بیان کیے گیے ہیں۔ ربط کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس سورۃ کو ماقبل سورۃ کے بعد کیوں لایا گیا امتیازات سورۃ کا مطلب یہ ہے کہ اس سورۃ میں وہ کون کون سے مسئلے بیان کیے ہیں ہیں جو دوسرے سورتوں میں نہیں ذکر ہوئے تقسیم سورۃ کامطلب یہ ہے کہ اس سورۃ میں کتنے حصے ہیں اور ہر حصے میں کون کون سی بات بیان کی گئی ہے ہے دعویٰ سورۃ کا مطلب یہ ہےکہ اس سورۃ میں بنیادی اور مقصد ی کون سی بات ذکر کی گئی ہے ہے خلاصہ سورۃ کا مطلب یہ ہے کہ سورۃ کے تمام مضامین کو مختصر انداز میں چند لکیروں میں بیان کرنا۔
قرآن پاک کا اجمالی خلاصہ
اس بات کو سمجھ لیں کہ تمام قرآن کریم کے فہم کے اعتبار سے چار حصے ہیں ۔ پہلا حصہ سورۃ فاتحہ سے لیکر سورۃ انعام تک ہے۔اس میں پانچ سورتیں ہیں اور اس میں مقصدی مسلہ کا ذکر کیا جا تا ہے ۔ (خالق لكل شئ هو الله)( ہر چیز کا پیدا کرنے والا اللہ ہے )۔ دوسرا حصہ سورۃ انعام سے سورۃ کہف تک ہے۔اس میں بارہ سورتیں ہیں۔اس میں مقصدی مسلہ ذکر کیا جا تا ہے کہ (مربی لكل شي هو الله ( یعنی ہر چیز کا پالنے والا اللہ ہے )۔ تیسرا حصہ سورۃ کہف سے سورۃ سبا تک ہے ۔اس میں سولہ سورتیں ہیں ۔اس میں مقصدی مسئلہ (مبارک فی کل شئ هو الله ) ( ہر چیز میں برکت ڈالنے والا اللہ ہے ) ۔ پھر چوتھا حصہ سورۃ سبا سے آخر تک ہے ۔ اس میں اکیاسی (۸۱ ) سورتیں ہیں اور اس میں مقصدی دومسئلے ذکر کئے گئے ہیں ۔(۱) ۔ اثبات القیامت ۔ (۲)۔ شفاعت قہری کی نفی ۔ ہر حصے کا شروع الحمد اللہ سے کیا گیا ہے اور آخر میں دوسورتوں کو الحمد اللہ سے شروع کیا ۔ کیونکہ اس میں دو مسئلےذکر کیے جاتے ہیں۔