Maulana Habib Ullah Mukhtar مولانا حبیب اللہ مختار

مولانا حبیب اللہ مختار کی طرف سے کتاب( چمنستان اشاعت التوحید والسنۃ) کی سبب تصنیف

نحمده و نصلی علی رسوله الكريم اما بعد

فقال النبی العلماء ورثة الانبياء (الحديث) یقینا اگر علماء نہ ہوتے تو کرہ ارض پرظلم وستم کا اندھیر ہوتا۔ احادیث میں علماء کو انبیاء کا وارث بتایا گیا، کسی ایک نبی کا نہیں بلکہ انبیاء کا وارث ۔ انبیاء علیہم السلام دین کے حوالے سے جن حالات سے دو چار ہوئے ، علماء کو اس سے حصہ ملا اور ضرور ملا۔ انبیاء علیہم السلام کو علوم سے نوازا گیا تو علماء بھی فیض یاب ہوۓ ۔ایسے ہی امت کی فکر تعلیم دین و تزکیہ کی تڑپ ، جہاد وقتال فی سبیل اللہ کی آرزو اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے مصائب وحوادث کا برداشت کرنا اور استقامت اختیار کرنا، غرض صفات انبیاء سے خداوند قدوس نے علماء کو بھی متصف فرمایا۔جب سے یہ دنیا معرض وجود میں آئی ہے تب سے لے کر آج تک ہمیشہ حق و باطل ستیزہ کار رہا ہے، مگر داعیان حق نہ اپنے مشن سے ہٹیں گے ۔ ۔حق اور اہل حق دنیا میں تعلیم و ہدایت کا چراغ روشن کرتے ہیں اور ان شاء اللہ یہی قرآن وسنت کا چراغ پوری دنیا کو روشن کرے گا اور دشمنان حق ایک دن حرف غلط کی طرح مٹ جائیں گے اور اپنے آنے والوں کے لئے نشان عبرت بن کر تاریخ کے اوراق میں گم ہو جائیں گے لیکن داعیان حق کے کارنامے تاریخ کے روشن باب ہوں گے اور ان کے پیچھے آنے والے ان کے نقش قدم پر اپنے لئے نشان راہ ڈھونڈیں گے اور ان کی تاریخ یکساں ذوق وشوق کے ساتھ دہرائی جائے گی اور عقیدت مند لوگ گر باشعور انہیں آنکھوں سے لگا ئیں گے۔ انہی داعیان حق اور علماء حق کے قافلہ میں جماعت اشاعت التوحید والسنہ کے عظیم علماء بھی شامل ہیں جو حنفی مذہب اور مسلک علماء دیوبند کے صحیح ترجمان ہیں ۔ ویسے تو فرد فردا اکثر علماء کی سوانح لکھی گئی ہیں ، راقم الحروف نے اس کمی کو شدت سے محسوس کیا۔ سوا کا بر علماء اشاعت التوحید والسنہ کے نام خطوط لکھ کر ان کے مختصر حالات زندگی اور خدمات جلیلہ کو طلب کیا۔ انہوں نے بڑی فیاضی اور فراخدلی سے جواب دیا۔ اللہ سب کو جزاۓ خیر سے نوازے۔ پھر ان خطوط کو اپنے الفاظ تعبیر سے مضامین کی شکل میں پرو دیا۔ اکثر علماء کے حالات دستیاب نہ ہوۓ ۔ آئندہ ایڈیشن میں ان شاء اللہ جو بھی مواد ہاتھ آئیں گے شامل اشاعت کیئے جائیں گے۔ بندہ کواپنی علمی کم مائیگی کا احساس ہے لیکن اللہ کے بے پایاں کرم درحمت کے بعد اپنے اکابر ،مشائخ واساتذہ کی شفقت و محبت پر بھروسہ کرتے ہوۓ اس موضوع پر تم اٹھانے کا ارادہ کیا ہے ۔ اردو ادب کی کمزوریاں ضرور ہوں گی ۔ اہل ذوق حضرات تصحیح فرماکر مطلع فرمادیں تو ممنون احسان ہوں گا ۔ محدود وسائل میں جو ہوسکا پیش خدمت ہے ،ان شاء اللہ نفع سے خالی نہ ہوگا خود پڑھیں اور اس تاریخی تحفہ کے ساتھ ساتھ جماعت کی ہر تحریر اور پیغام حق کو ملک کے کونے کونے میں پہنچا ئیں ۔خلوص نیت کے ساتھ ہرممکن محنت و سعی جاری رکھیں ۔ نتائج اللہ کے اختیار میں ہیں ۔ان شاءاللہ ذرہ برابر مل بھی ضائع نہ ہوگا ۔ دنیا دار لعمل ہے اور اجر کی جگہ عالم آخرۃ ہے۔اللہ کریم سے دعا ہے کہ راقم کی اس حقیری کاوش کو قبول فرمائے اور اپنی رضا کاسبب بناۓ اور اسے قبولیت عام و خاص بخشے اور دارین میں راقم الحروف اور والدین کےلئے ذریعہ نجات ۔وصلى الله على خير خلقه محمد و آله واصحابه وازواجه والاوده و اتباعه اجمعین۔(آمین) باقی علماء کی تصانیف ڈاون لوڈ کرنے کے یہاں کلک کریں۔

حبیب اللہ مختار کوٹ دولت زئی بلگرام گڑھی کپور ضلع مردان

چمنستان اشاعت التوحید والسنت از مولانا حبیب اللہ مختار
چمنستان اشاعت التوحید والسنت از مولانا حبیب اللہ مختار

Leave a Reply