مولانا محمد امیر بندیالوی دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے عالم دین تھے۔ 1914ء میں ضلع خوشاب کے مشہور گاؤں بندیال میں مولوی فضل کریم کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا۔ آپ کے جد امجد مولوی سلطان محمود نامی وقت کے عظیم عالم دین اور پنجابی،عربی اور فارسی کے باکمال شاعر تھے۔ آپ کے والد محترم بھی مولانا حسین علی الوانی کے خلیفہ مجاز اور علمی وراثت کے امین تھے۔ آپ کے برادران مولوی عبد الکریم اور مولوی سید امیر کی دینی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔[1] تعلیم ترميم آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی اور درسی کتب کے لیے انہی ضلع منڈی بہاو الدین کا رخ کیا اور وقت کی عظیم شخصیات مولوی غلام رسول اور مولانا ولی اللہ گلیانوی سے استفادہ کیا۔ دورہ حدیث کے لیے دہلی میں مفتی کفایت اللہ دہلوی ،خدا بخش بھیروی اور ضیاءالحق دہلوی کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔ پھر دورہ تفسیر کے لیے مولانا حسین علی الوانی کے ہاں تشریف لائے۔[2] عملی زندگی ترميم عملی زندگی کا آغاز اپنے آبائی قصبے بندیال میں تدریس و تقریر سے کیا۔1950ء میں وہاں سے ہجرت کر کے سرگودھا کے نواحی گاؤں ڈیرہ جاڑا میں ڈیرہ ڈالا اور تقریبا سات سال تک دین الہی کی خدمت سے سرفراز ہوئے۔ پھر 1957ء میں سرگودھا کی جامع مسجد حنفیہ میں بحثیت خطیب تشریف لائے اور ایک عظیم الشان مدرسہ عربیہ الموسوم بہ جامعہ عربیہ ضیاء العلوم کی بنیاد رکھی جو تا امروز ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔ مولانا موصوف ذہانت و فطانت اور علم و معرفت میں بڑے فائق تھے۔ توحید و سنت کی اشاعت اور شرک و بدعت کی تردید میں کافی انہماک تھا۔ ہر سال رمضان المبارک کے مہینے میں اپنے شیخ و مرشد کی طرز پر دورہ تفسیر پڑھاتے۔ اس کے علاوہ روزانہ درس قرآن آپ کا معمول تھا جس میں سرگودھا کے لوگ بڑی تعداد میں شرکت کرتے۔ اپنے مدرسہ میں آپ مشکوة،جلالین اور فارسی کی کتب بھی پڑھاتے تھے۔ مولانا اعلی پائے کے مناظر بھی تھے۔ اہل بدعت اور اہل تشیع سے کافی مناظرے کیے جن میں مولوی عمر اچھروی،مولوی کرم شاہ بھیروی اور مولوی اسماعیل شیعی کے نام قابل ذکر ہیں۔[3] تصنیفی مشاغل ترميم آپ کو قلم و قرطاس کے ساتھ بھی علاقہ رہا اگرچہ آپ نے کم لکھا لیکن بہترین لکھا۔ ان کی کتب میں دعوت توحید کا رنگ غالب ہے۔ آپ اردو میں لکھا کرتے تھے۔ التوحید:مختصر سا رسالہ ہے۔ شرک کی حقیقت،شرک کی اقسام،قرآن و حدیث میں شرک کی مذمت وغیرہ موضوعات پر ہے۔ اس کے کئی ایک ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ دعوة الحق:یہ آپ کی دعوت توحید اور رد شرک پر لاجواب تصنیف ہے۔ ڈیرہ جاڑہ میں قیام کے دوران یہ کتاب لکھی گئی تھی۔ کتاب میں مسئلہ توحید کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے خصوصا نذر لغیراللہ پر انوکھے طرز کی تحقیق کی گئی ہے۔ اس کتاب کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ الاقوال المرضیہ فی احوال البرزخیہ:اس لاجواب تصنیف میں مرنے کے بعد عالم برزخ کے احوال قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیے گئے ہیں۔ کتاب حسن استدلال اور حسن ترتیب کا عظیم مرقع ہے۔ آخر میں قائلین سماع الموتی کے اعتراضات کے مسکت جوابات دیے گئے ہیں۔ اس کتاب کے ساتھ مولانا محمد حسین نیلوی کا رسالہ القول المرعی فی القبر الشرعی بھی شامل اشاعت ہے۔ کتاب کئی بار زیور طبع سے آراستہ ہوچکی ہے۔[4] الدرالمنثورة فی ربط الآیات بآیات والسورة بالسورة:نظم قرآن پر فکر الوانی کی ترجمان کتاب ہے۔ کئی بار شائع ہوچکی ہے۔[5] ان کے علاوہ محمد حسین نیلوی کی کتاب شفاءالصدور طبع اول کا اختصار و ترجمہ اور ندائے حق کا مقدمہ بھی ان کے قلمی نقوش میں شامل ہیں۔ وفات حسرت آیات ترميم مولانا محمد امیر یکم ستمبر 1971ء کو حرکت قلب بند ہوجانے پر وفات پاگئے تھے۔مولانا محمد حسین نیلوی نے نماز جنازہ پڑھائی اور بندیال کے قبرستان میں دفن ہوئے۔ اولاد نرینہ ترميم آپ کے صاحبزادگان ضیاءالحق(ناظم المکتبة الحسینیہ)،فضل حق(سابق اسسٹنٹ پروفیسر اسلامیات جامعہ سرگودھا)،شمس الحق،علامہ عطاءاللہ(مذہبی سکالر) اور علامہ عصمت اللہ(مذہبی سکالر) ان کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ ان کے ایک اور بیٹے ولی اللہ صاحب 1998ء میں ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے تھے۔[6] مزید دیکھیے ترميم حسین علی الوانی محمد حسین نیلوی حوالہ جات ترميم حوالہ جات ترميم ↑ مولانا حسین علی؛شخصیت،کردار،تعلیمات ص 325،میاں محمد الیاس،اشاعت اکیڈمی قصہ خوانی بازار پشاور،بدون تاریخ ↑ ایضا ص 325 ↑ ایضا ص 325و326 ↑ الاقوال المرضیہ فی احوال البرزخیہ ص 13،تعارف:عطاء اللہ بندیالوی،مصنف:محمد امیر بندیالوی،المکتبة الحسینیہ 18 بلاک سرگودھا،طبع پنجم مئی 2013ء ↑ مقدمہ بلغة الحیران،تحقیق و تسہیل:سراج الاسلام حنیف،تالیف:حسین علی الوانی،اشاعت اکیڈمی قصہ خوانی بازار پشاور،2008ء ↑ مولانا حسین علی الوانی؛شخصیت،کردار،تعلیمات ص 327
مولانامحمد امیر بندیالوی کی تصانیف/تالیفات اور تراجم مندرجہ ذیل ہیں۔

One thought on “Maulana Muhammd Ameer Bandhyalvi مولانا محمد امیر بندیالوی”
Asslamu alakum