Maulana Noor ul Haq Rustami مولانا نورالحق رستمی

مولانا نورالحق رستمی

الوسیلہ از مولانا نورالحق رستمی

وسیلہ کا لفظی معنی قرب ہے، مراد ہر وہ چیز ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔ اس آیت میں اللہ کے تقوے کا اور اس کا قرب حاصل کرنے کا حکم دینے کے بعد جہاد کا حکم دیا، معلوم ہوا کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اور اس کا قرب حاصل کرنے کا حکم دیا ہے، یعنی نیک اعمال کے ذریعے اور ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ نیک اعمال میں سب سے زیادہ اللہ کے قرب اور تقوی کا ذریعہ اس کی راہ میں جہاد و قتال کرنا ہے، یہود کو اپنے نسب پر فخر تھا اور وہ اسی خوش فہمی میں ہر قسم کے جرائم کا ارتکاب کرتے رہتے تھے اور اپنے آپ کو اللہ کا محبوب سمجھتے تھے، جیسا کہ اوپر کی آیات میں گزر چکا ہے۔ اب اس آیت میں مسلمانوں کو تعلیم دی ہے کہ تم اگرچہ بہتر امت ہو اور تمہارا نبی بھی سب سے افضل ہے، مگر تمہیں چاہیے کہ نیک اعمال کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو، تاکہ آخرت میں فلاح حاصل کرسکو، یعنی یہود کی طرح بد عمل نہ بنو۔ توسُّل کا مسئلہ نصِّ قطعی سے ثابت شدہ ہے۔ اس کے شرعی جواز کے بارے میں مطلقاً انکار آیاتِ قرآنی سے انکار کے مترادف ہے جس کا کوئی صحیح العقیدہ مسلمان تصوّر بھی نہیں کرسکتا۔ توسُّل درحقیقت بندے کا اللہ رب العزت کی بارگاہِ بے کس پناہ میں اپنی دعا کی قبولیت اور حاجت برآری کے لئے اپنی عاجزی اور بے کسی کے اعتراف کے ساتھ کسی مقبول عمل یا مقرب بندے کا واسطہ پیش کرنا ہے تاکہ بندۂ گنہگار کی دعا جلد قبول ہو اور اللہ رب العزت اپنے اس مقرب بندے کی خاطر اس کی حاجت پوری فرمائے۔کسی کو بطور وسیلہ پیش کرنے میں ہرگز ہرگز یہ عقیدہ کارفرما نہیں ہوتا کہ وہ مقبول و مقرب بندہ جس کا وسیلہ دیا جا رہا ہے دعا قبول کرے گا، یا وہ اللہ بزرگ و برتر کی ذات کو (معاذ اللہ) اس امر پر مجبور کردے گا کہ فلاں کام ہونا چاہئے یا فلاں بندے کی بخشش و مغفرت لازمًا کردی جائے۔ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے جو بعض لوگوں کے ذہنوں میں پائی جاتی ہے۔ دراصل وسیلہ پیش کرتے وقت سائل کے ذہن میں یہ تصور ہوتا ہے کہ جب وہ اپنی عاجزی‘ بے بسی اور نیاز مندی کا اظہار کر کے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد اس کے کسی مقبول اور مقرب بندے کا نام بطور وسیلہ پیش کروں گا تو اللہ تعالیٰ اپنے اس اطاعت گزار مقبول اور مقرب بندے کا لحاظ فرماتے ہوئے ضرور اس کی حاجت پوری فرمائے گا۔ یہ تصور بھی متوسِّل کے ذہن میں نہیں ہوتا ہے کہ وہ صالح بندہ (معاذ اللہ) خدائی میں شریک ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ توسُّل کی حقیقت کو سمجھا جائے تاکہ جو لوگ توسُّل کے صحیح مفہوم کو سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں اپنی اصلاح کرسکیں۔ زیر تبصرہ کتاب جو مولانا نور الحق رستمی کی تصنیف شدہ ہے اس میں شرعی وسیلے کی مکمل وضاحت کی گئ ہے اس کو ڈاون لوڈ کرکے مطالعہ کیا جائے۔

الوسیلة انوار الحق
الوسیلة از مولانا نورالحق

ھفوات غیر مقلدین
ھفوات غیر مقلدین

Leave a Reply