مولانا قاضی نور محمد کا تعارف
مولانا قاضی نورمحمد قلعہ دیدارسنگھ مولا نا قاضی نور محمد حضرت مولانا حسین علی صاحب کے ارشد تلامذہ اور اجل خلفاء میں سے تھے ۔۱۸۹۶ء ( ۱۳۱۴ھ ) میں موضع پڑی ضلع اٹک کے مولوی شیرمحمد صاحب کے ہاں پیدا ہوئے ۔ اعوان برادری سے تعلق تھا۔ آپ نے درس نظامی کی تمام کتابیں حضرت بابا غلام رسول انہی والے سے پڑھیں ۔ پھر انہی کے قلم کی تعمیل میں حضرت مولانا حسین علی واں بھچراں سے حدیث اور ترجمہ وتفسیر قرآن پاک پڑھی۔ دورہ حدیث جامعہ اسلامیہ ڈابھیل میں حضرت علامہ انور شاہ کشمیری سے پڑھا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد حضرت مولانا حسین علی سے نقشبندی مجددی سلسلہ میں بیعت کی ۔ منازل سلوک کی تکمیل کے بعد حضرت مولانا کی طرف سے خلعت خلافت عطا کی گئی ۔ آپ نے اپنے شیخ و مرشد سے بہت زیادہ استفادہ کیا۔ مولانا قاضی نورمحمد صاحب نے عملی زندگی کا آغاز تدریس سے کیا مگر کچھ عرصہ بعد وعظ و ارشاد اور دعوت وتبلیغ کو اپنا شعار بنالیا۔ آپ کو دلنشین اور پر اثر وعظ کر نے پر قدرت حاصل تھی اور اپنی تقریر سے سامعین پراچھا تاثر چھوڑتے تھے ۔ قلعہ دیدارسنگ ضلع حافظ آباد میں جامعہ محمدیہ کے نام سے ایک درسگاہ قائم کی اور اس کو مرکز بنا کر گوجرانوالہ میں اصلاح عقائد کا بے نظیر و بے مثال کام کیا ۔ ہزاروں مسلمانوں نے شرک و بدعت سے توبہ کرکے اپنے عقائد کی اصلاح کی ۔ آپ پر تو حید وسنت کا غلبہ تھا اور اہل بدعت کی تردید میں خاص انہماک تھا اور اس مقصد کے لئے دعوت وتبلیغ کے علاوہ مناظروں اور تصنیف و تالیف کے ذریعے بھی اہم کردار ادا کیا۔ آپ کی نمایاں تصانیف اور ان کے موضوع حسب ذیل ہیں : (۱)”صاعقة الرحمن (دوجلد ) مسئلہ توحید کی وضاحت ۔ حصہ اول میں قرآن پاک کی روشنی میں مسئلہ علم غیب پر جبکہ حصہ دوم میں مسئلہ حاضر و ناظر پر بحث کی گئی ہے۔(۲) اقامة البرهان على الطغیان مسئلہ توحید کے ضمن میں اہل بدعت کی طرف سے تاویلات کا جواب ۔(۳) ازالة الرين عن مسئله رفع یدین(۴)”صلوة الرسول فقہ حنفی کی رو سے مسائل نماز کا بیان۔(۵) ازالة الاوهام عن عدم الفاتحه خلف الامام۔(۲) ازالة الستر عن عدد ركعات التراويح والوتر۔ مولانا قاضی نور محمد صاحب پرفقہ حنفی کے احقاق کا بھی غلبہ تھا اور غیر مقلدین کےاوہام کی تردیداپنی تقاریر اور دروس میں کرتے تھے ۔اس کا اندازہ ان کی تصانیف سے بھی ہوتا ہے ۔ وہ با قاعدگی سے روزانہ درس قرآن دیتے تھے ۔ درس میں بلا کی روانی ہوتی تھی ، ہر سال دورۂ تفسیر اہتمام سے پڑھاتے تھے ۔ بہت ذاکر و مشاغل اور خوش پوش تھے ۔ علماء دیوبند کی جماعت و بالخصوص حضرت مولانا حسین علی کے حلقہ اثر میں انہیں خصوصی اہمیت حاصل تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ جمعیت اشاعت التوحید والسنت پاکستان کے قیام کے بعد آپ کو اس کا پہلا امیر مقرر کیا گیا ۔ جماعت کے قیام اور اس کی تشکیل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ آپ نے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور کئی ماہ پس دیوار زنداں رہے۔۱۹۶۲ء میں علماء دیوبند حیات النبی ﷺ کے مسئلہ پر دو واضح گروہوں میں بٹ چکے تھے کہ دارالعلوم دیو بند کے مہتم مولانا قاری محمد طیب پاکستان کے دورہ پر تشریف لاۓ اور دونوں مشتر کہ دستاویز پر دستخط کیے گئے ، جس پر مولانا قاری محمد طیب مولانا قاضی نورمحمد ،مولانا غلام اللہ خان ، مولانا مدعلی جالندھری اور مولانا لعل حسین اختر نے دستخط کیے۔ اس محفل میں جبکہ دارالعلوم تعلم القرآن راولپنڈی میں علماء جمع تھے، مولانا قاضی نور محمد صاحب کا وقت موعو آ پہنچا اور باتیں کرتے کرتے قاری محمد طیب صاحب کی گود میں گر گئے ۔ روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھے ۔ حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور قلعہ دیدارسنگھ میں دفن کئے گئے ۔ حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب کو آپ کی وفات کا بے حد صدمہ ہوا۔ چنانچہ مولانا غلام اللہ خان کے نام ایک مکتوب میں لکھتے ہیں : مولانا قاضی نورمحمد کے حادثہ فاجعہ کا اب تک دل پر اثر ہے اور ان کی موت کا یقین ہی نہیں آتا۔ شیخ التفسير والحدیث حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ صاحب مدظلہ آپ کے جاشین مقرر ہوۓ جوممتاز عالم دین ہیں اور ہر سال دور تفسیر پڑھاتے ہیں، جس میں کافی طلباء کے علاوہ کثیر تعداد میں علماء کرام بھی شریک ہوتے ہیں اور حدیث نبوی ﷺ میں اللہ تعالی نے انہیں خاص ذوق عطا فر مایا ہے اور کافی ذہین وفطین ہیں ۔ ہم عصر علماء میں ثانی علامہ انورشاہ کشمیری کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔ باقی علماؑ کی تصانیف کے لیے یہاں کلک کریں/