Meezan ul ietedal Urdu fi Naqd e Rijal by Imam Shams ul Deen Zahabi R.A
میزان الاعتدال اردو فی نقد الرجال از امام شمس الدین ذھبیؒ
عرض ناشر
دین اسلام کی اساس کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ملنے کے نام پر ہے۔ سنت نبوی کے بارے میں اور جدید میں فکری احساس کمتری میں مبتلا لوگوں کا ایک مخصوص گروہ جدیدیت کے زعم میں طرح طرح کے شکوک و شبہات کا نہ صرف خود شکار ہے۔ بلکہ لوگوں کو بھی اپنی گمراہیوں میں شریک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حدیث رسول پر یہ اعتراضات چنداں نے نہیں بلکہ چبائے ہوئے نوالے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی کوئی وقعت نہیں۔ علما امت نے حدیث رسول کی حفاظت کے لیے جو اصول اور ضوابط متعین فرمائے ، وہ فی نفسہ ایک عجوبہ لگتے ہیں۔ کہ کس طرح ہزاروں افراد میں سے کھرے اور کھوٹے کی تمیز کر دی گئی ۔ ثقہ اور ضعیف کا پیمانہ مقرر کر دیا گیا۔ حفاظ حدیث کو وضاعین سے جدا کر دیا گیا۔ اس تمام کوشش و کاوش کا مقصد و وحید دین اسلام کی پیاس کے حفاظت تھی ۔ الحمد للہ ہمارے ادارے مکتبہ رحمانیہ نے اس اہم فریضے کی ادائیگی میں اپنا کردار انجام دیا ہے۔ ہم نے علم جرح و تعدیل کے امام اور آٹھویں صدی ہجری کے عظیم محدث اور مورخ امام حافظ ذہبی ہالہ کی مایہ نام کتاب ”میزان الاعتدال کے اولین اردوترجمے کا اہتمام کیا ہے۔ حافظ ذہبی مراللہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کے تعارف کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے لائق فائق تلامذہ میں سے تھے۔ ان کے ہم عصر دیگر کبار ائمہ میں امام ابن کثیر، امام ابن قیم الجوزیہ، حافظ ابن حجر عسقلانی وغیر ہم شامل بنے ۔ اس اعتبار سے یہ عظیم علمی کاوش شیخ الاسلام ابن تیمیہ ترانہ کا صدقہ جاریہ کہی جاسکتی ہے۔ فن اسماء رجال میں حافظ ذہبی ملالہ نے جو کتب تالیف فرمائیں، بلاشبہ وہ دین اسلام کی ایک عظیم خدمت ہے۔ مثلاً تھذیب التهذيب الكاشف، تاريخ الاسلام، سیر اعلام النبلاء، میزان الاعتدال وغيره
کچھ اس کتاب کے بارے میں : یہ بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ امام ذہبی کی تالیفات فن اسماء الرجال علم جرح و تعدیل اور راویان حدیث کے حالات سے آگاہی کے لیے ناگزیر ہیں۔ اس لیے بلاشبہ وہ امت کے محسن علماء میں سے تھے۔ الحمد للہ! ہم نے ان کی مایہ ناز تالیف میزان الاعتدال کو اردو قالب میں ڈھالا ہے اور اب یہ عظیم ذخیرہ علم آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اگر چہ یہ بنیادی طور پر حق علماء کے استفادے کی چیز ہے۔ لیکن اوسط علمی استعدا در کھنے والے علماء اور باذوق قارئین بھی اس کتاب سے بے حد فائدہ اٹھاسکیں گے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر ضعیف راویوں کے بارے میں ہے۔ اسے آپ ضعفاء کا انسائیکلو پیڈیا بھی کہہ سکتے ہیں۔ جس راوی کے بارے میں کنوی معمولی سی جرح بھی امام صاحب کو ملی ، وہ انہوں نے اس کتاب میں شامل کر دی۔ امام ذہبی نے اس کتاب میں ہر قسم کے ضعیف راویوں کے حالات کو جمع کر دیا ہے۔ مثلاً مجہول، متروک ،جھوٹے اور وضاع راوی جنہوں نے مختلف مقاصد کے تحت نبی کریم نے ان کے نام پر جھوٹی احادیث وضع کیں۔ اما ذ ہی بعض ایسے راویوں کا بھی اس کتاب میں ذکر کرتے ہیں جو فی الاصل ضعیف نہیں ، البتہ ان کے بارے میں کسی نے کوئی جرح ذکر کر دی تو اس وجہ سے امام ذہبی نے اس راوی کا ذکر کیا ہے۔ امام ذہبی راوی اور اس کے والد کا ذکر حروف مجسم کے مطابق کرتے ہیں۔ ان رموز کا ذکر کرتے ہیں جوان راویوں کا تذکرہ کرتے ہوئے دیگر مصنفین لائے ہیں۔ بعض راویان حدیث پر ائمہ جرح و تعدیل کے اقوال میں تعارض کی صورت میں امام ذہبی اس تعارض کو دور کرتے ہوئے اپنی رائے بیان کرتے ہیں۔
آپ اس کتاب کی ترتیب ملاحظہ فرمائیں گے تو سب سے اول مردوں اور پھر عورتوں کا تذکرہ ان کے نام کے ساتھ ، پھر مردوں کی کنیات … پھر جو باپ کے نام سے یا پھر جو کنیت کے ساتھ معروف ہے، اس کا تذکرہ ہے۔ الحمد للہ ! اس عظیم علمی ذخیرے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق سے ہم شائع کر رہے ہیں۔ جناب مولانا ابوسعید نے اس کے ترجمے کی سعادت حاصل کی ہے۔ وہ اس سے پہلے ہمارے ادارے حدیث مبارکہ کی ایک انتہائی اہم اور مختصر کتاب مسند حمیدی“ کا ترجمہ کر چکے ہیں ۔ ہمارے ادارے کے لیے جو کہ شائع ہو چکی ہے۔ مکتبہ رحمانیہ سے وابستہ علماء کی جماعت نے میزان الاعتدال کے ترجمے کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور اسے مزید بہتر اور آسان کیا ہے۔ ترجمے کا علمی معیار امید ہے ہمارے خوش ذوق قارئین کو پسند آئے گا۔ شاید کسی نازک طبع پر اس تکنیکی کلاسیکل اسلامک کتاب کا اردو ترجمے گراں گزرے کہ اس علمی کتاب کے ترجمے کی بھلا کیا ضرورت تھی۔ مختصراً ان کی خدمت میں عرض ہے کہ وہی تو میں علمی استحکام اور فکری عروج حاصل کرتی ہیں جو زیادہ سے زیادہ ذخیرہ علم اپنی مادری زبان میں منتقل کرتی ہیں اور یہاں تو محض ذخیر ہ علم کی بات نہیں بلکہ یہ تو خدمت سنت نبویہ علی ہو یا نام کی سعادت کے حصول کی بات ہے۔ آخر میں بارگاہ رب العالمین میں بے حد عاجزی اور انکساری سے یہ دعا ہے کہ ہماری یہ نا تمام سی کاوش قبول فرمائیں۔ بلاشبہ اس میں کمی کوتا ہی رہ گئی ہوگی۔ اس لیے کہ یہ انسانوں کا کام ہے، خالق کا کام نہیں۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کیا، پھر بھی جو کمی رہ گئی ، اس پر ہم اپنے غفور و رحیم مہربان پروردگار سے معافی کے خواستگار ہیں۔ وہ تمام افراد جنہوں نے کسی بھی طرح اس کام میں ہماری معاونت کی، ہم ان کے شکر گزار ہیں اور ان کے لیے دعا گو ہیں۔
پبلشر : مکتبۃ رحمانیہ اقراء سنٹر غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور
مترجم : مولانا ابو سعید