مقدمہ کتاب از مفتی اکمل سعید ادینوی
دور حاضر میں ہر طرف سے اتفاق واتحاد کی صدائیں سننے میں آتی ہیں ۔ ہر کوئی وقت کے تقاضوں کے مطابق اندرونی اختلافات کوم بالائے طاق رکھ کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی باتیں کرتا ہے لیکن یہ ظاہری باتیں ہیں اندر سے ہر کوئی اپنی جماعت اور پارٹی کی طرف دعوت دے رہا ہے اورا سے اتفاق واتحاد متصور کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان سے اتفاق واتحاد کے اصول کے مطابق پو چھا جا تا ہے تو کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملتا۔سب کے لیے اتفاق واتحاد کا قابل تسلیم فارمولا یہ ہے کہ ہم اپنے متفقہ اصول کے پیچھے ے آپ پر لازمی کر میں ، اللہ تعالی فرماتے ہیں:ياأيها الذين امنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم فإن تنازعتم في شيء فردوه إلى الله والرسول . [ سورة النساء:۵۹] ’مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جوتم میں سے صاحب اختیار ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اس میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو ۔“ ”اصول فقہ چار ہیں ؛ کتاب اللہ، سنت رسول اللہ ﷺ، اجماع امت اور قیاس ۔ حوالہ جات بالا سے واضح ہے کہ اصول شرع صرف اور صرف چار ہیں ۔ان ہی سے ثابت اعتقاد وکمل دین ہے اور ان کے علاوہ امور پر عقیدے یا عمل کی بنیا درکھنا گمراہی کا پیش خیمہ ہے ۔ یہ چار اصول بھی نہ سب یکساں ہیں اور نہ ہی ان سے کسی ترتیب کے بغیر استدلال جائز ہے. مزید تشریح و توضیح قاری محمد طیب صاحب قاسمی کے سیال قلم سے ملاحظہ کیجئے : اس دین کی دو ہی اصلیں ہیں، جو مصدر شریعت اور دین کا سر چشمہ ہے : کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ( ﷺ )۔ یوں اس دین کی دو اصلیں اور بھی ہیں جن کا نام اجماع اور قیاس ہے ، جو بلا شبه واجب الاطاعت ہیں ، چناں چہ قرآن حکیم نے امت پر تین ہی اطاعتیں فرض بھی فرمائی ہیں : اطاعت خدا، اطاعت رسول اور اطاعت اولی الامر یعنی راسخین فی العلم کے اجتہادی نظائر کی اطاعت یا اس قسم کے ہم قرن اہل رسوخ کی اجماع کر دہ شے کی اطاعت جو یقینا حجت شرعی ہے ۔ یہ قیاس اور اجماع کی دو اصلیں باوجود حجت شرعی ہونے کے تشریعی نہیں بلکہ تفریحی ہیں ، جو مستقل بالچھے نہیں ، جب تک ان کا رجوع کتاب وسنت کی طرف نہ ہو، کیوں کہ مايجمع علیہ (جس پر اجماع کی جاۓ وہی معتبر ہوسکتا ہے، جس پرپہلے سے کوئی دلیل کتاب وسنت سے قائم ہو، ورنہ میجر دنیل اور بخش ہوئی سے کسی چیز پر جمع ہو جا تا اجتماع نہیں، در حالیکہ امت میں ایسا اجتماع جو گرا ہی پر ہو ، ہوبھی نہیں سکتا ۔اسی طرح قیاس کی مقیس(یعنی قیاسی جزئیہ ) وہی معتبر ہوسکتا ہے ، جس کا مقیس علیہ ( جس پر قیاس کیا جائے ) کتاب وسنت میں موجود ہو اور اس مقیس اور مقیس علیہ میں کوئی رشتہ جامعیت بھی ہو جو منصوص کے حکم کو غیر منصوص میں منتقل کر دے ۔ پس ان کی تشریعی حیثیت خود اصل نہیں بلکہ کتاب اللہ وسنت کے تابع ہے ۔ اس لیے دین کی مستقل حجت اور تشریعی اصلیں دو ہی رہ جاتی ہیں ایک کتاب اللہ دوسرے سنت رسول اللہ (ﷺ ) ۔ ا مجموعہ رسائل حکیم الاسلام ۱، حدیث رسول کا قرآنی معیار ۲۲ ]
مفتی اکمل سعید ادینوی کے مطلوبہ کتاب کو ڈاون لوڈ کرنے کے لیے اس کتاب کے کور پر کلک کریں۔ باقی علماء کے کتب ڈاون لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

