ہمارا آج کا مختصر موضوع سلیم خان گاؤں کی ایسی معزز شخصیت کے بارے میں ہے جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہے اور سب لوگ انہیں شجاعت ،بہادری ،سادگی اور عاجزی کے بناء پر جانتے ہے۔مولانا مفتی مجتبیٰ عامر صاحب گاؤں سلیم خان (شرقی) کے محلہ میراحمد (گاڑ ایجنسی) کے اپنی زمانۂ مشہور پشتو شاعر مرحوم عبدالمتین منڈن (منڈن جو کہ شاعری تخلص تھا) کے باعزت گھرانے میں پیدا ہوئے۔ جس کا تعلق یوسفزئی کے خیل آکا خیل (قمرال) سے تھا۔ اور انکے بھائیوں میں خالد شہاب،ہارون الرشید اور فاروق احمد ہیں۔ مفتی مجتبیٰ عامر صاحب ایک نہایت ہی شریف ،بہادر ،نڈر معزز،سادہ مزاج،زہین اور ہنس مکھ آدمی ہے،جس کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ ہوتی ہے ،مفتی مجتبیٰ صاحب سلیم خان (صوابی) میں واقع ایک بڑی درسگاہ جواہرالقرن کے بانی ہے۔ مفتی مجتبیٰ صاحب اشاعت توحید وسنت کا بیان بغیر کسی خوف و ڈر کے بیان کرتا ہے اور جو بھی اللّٰہ کے کلام (قرآن مجید) میں موجود ہے وہ مخلوق خدا تک دلیل کے ساتھ پہنچاتا ہے۔ مفتی مجتبیٰ صاحب ایک غیر سیاسی آدمی ہے اور سیاست کے بدلے میں اللّٰہ اور رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے قائم کردہ قوانین ( خلافت) کے نظام پر یقین رکھتا ہے اور انکا حامی ہے۔ مفتی مجتبیٰ صاحب کو اللّٰہ تعالٰی نے ایک خوبصورت اور صاف گو آواز کا مالک بنایا ہے کہ انکا بیان سن کر مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی دلوں پر بے انتہا اثر کردیتا ہیں۔ مفتی مجتبیٰ صاحب کے قابلیت ، ذہانت اور شجاعت کے انکے اپنے استاتذہ کرام بھی تعریف کرتے ہیں ۔مفتی مجتبیٰ عامر صاحب نے انتہائی کم عمری میں قرآن مجید کا حفظ مکمل کر لیا تقریباً دو ،تین مہینے میں اپنی ذہانت اور اللّٰہ تعالٰی کی فضل و کرم سے حافظ بن گئے۔اور اپنی دینی علوم حاصل کرنے کا آغاز ضلع صوابی کے گاؤں پنج پیر کے اشاعت توحید وسنت کے مولانا طیب کے مدرسے سے کیا اور اپنی بے انتہا محنت اور ذہانت کی بدولت اللّٰہ تعالٰی کی مدد سے مفتی کے درجے تک چلے گئے اور مفتی بن گئے۔ آج سے تقریباً اٹھارہ یا بیس سال پہلے مفتی مجتبیٰ عامر صاحب نے اشاعت توحید وسنت کے سلسلے میں جواہرالقرآن کے نام سے اپنے گاؤں سلیم خان میں ایک درسگاہ بنایا،جس میں آج بھی لگ بھگ دو ہزار تک طلباء اپنی دینی علوم حاصل کررہے ہیں۔ جن میں زیادہ تر کا تعداد سوات،باجوڑ،دیر،بٹ خیلہ،نوشہرہ،تیراہ،وزیرستان،پشاور،مردان،چارسدہ ،اور صوابی سے ہیں۔مفتی مجتبیٰ عامر صاحب کے علمی قابلیت کے بدولت اس بیس سال کے دوران میں بہت سے حفظاء ، علماء اور مفتی فارغ ہوئے۔مفتی مجتبیٰ صاحب نے اشاعت توحید وسنت کی تدریس کے سلسلے میں تقریباً دس سال تک قید و بند کی سختیاں بھی برداشت کیں اور دو دفعہ جیل بھی گئے، مگر پھر بھی ہمت نہ ہارے اور اللّٰہ پہ پختہ کاملِ ایمان کی وجہ سے مجتبیٰ عامر صاحب نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا اور اللّٰہ اور رسول کے بیان دینے سے نہ ہٹے اور اللّٰہ تعالٰی کی مدد سے سرخرو ہوگئے۔ مفتی مجتبیٰ عامر صاحب نے اپنی شجاعت دلیری ،بہادری،ذہانت اور قابلیت ،خوبصورت آواز اور صاف گو بیان دینے کی وجہ سے پاکستان بھر میں مشہور ہے اور ہر جگہ دینی علوم سے وابستہ لوگ انہیں جانتے اور انکی قابلیت کے پل باندھتے ہیں ۔اللّٰہ تعالیٰ مفتی مجتبیٰ صاحب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور اللّٰہ انہیں لمبی صحت مند زندگی عطا کرے، ہر جگہ کامیابی نصیب ہو

